کھانا کھانے کی شوقین مگر پیٹ سے محروم لڑکی ، مگر یہ لڑکی کون ہے ، کہاں رہتی ہے اور اسکے ساتھ کیا حادثہ پیش آیا تھا ؟ جانیے

لاہور(ویب ڈیسک)کیا آپ ایسے کسی شخص کو جانتے ہیں جس کا اپنا معدہ یا پیٹ نہ ہو اور وہ دل لگا کر طرح طرح کا کھانا پکائے اور وہ بھی صرف دوسروں کو کھلانے کے لیے؟یہ پونہ کی رہنے والی ایک لڑکی نتاشا دِدی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کی پوسٹ میں کھانے کے علاوہ کچھ اور نظر نہیں آتا۔
وہ کھانے کی انتہائی شوقین ہین لیکن وہ خود کھا نہیں سکتیں۔ ان کے ایک ایک نوالے پر ڈاکٹروں کی نظر رہتی ہے۔تاہم ان سب کے باوجو وہ دن رات کھانا بنانے میں منہمک رہتی ہیں اور لوگوں کو بہت پیار سے کھلاتی ہیں۔وہ بہت سے معروف ریستورانوں میں مشیر کے طور پر کام کرتی ہیں اور کھانے کی خوشبوؤں کے درمیان اپنی زندگی گزارتی ہیں۔وہ اپنے آپ کو ‘گٹلیس فوڈی’ کہتی ہیں یعنی ایسی کھانے پینے کی شوقین جس کا پیٹ ہی نہیں۔پیٹ نکالے جانے کی کہانی سنہ 2010 میں نتاشا نے اپنے بائیں کندھے میں شدید درد محسوس کیا۔ جیسے ہی وہ کچھ کھاتیں درد میں اضافہ ہو جاتا۔ بہت علاج کرائے ایکسرے کرائے یہاں تک کہ دو بار کندھے کی سرجری بھی کرائي لیکن ان کا درد کم نہیں ہوا۔درد کو دبانے کے لیے وہ درد کش دوا کھاتیں اور ان کا وزن 88 کلو سے کم ہو کر38 کلو رہ گیا تھا۔یعنی درد بڑھتا گيا جوں جوں دوا کی۔ کوئی دوا، فیزیوتھیرپی، الٹراساؤنڈ اور سوناگرافی کوئی جانچ کام نہیں آئی۔بالآخر پونہ کے ای ایم ہسپتال میں انھیں ایس ایس بھالے راؤ ملے اور انھوں نے نتاشا کو دیکھتے ہی بتا دیا کہ ان کے پیٹ میں رسولی ہے جس سے خون رس رہا ہے
اور وہی درد کی وجہ ہے۔اس کے بعد لیپروسکوپی کی گئی اور رسولی والی تشخیص درست ثابت ہوئی۔ڈاکٹر بھالےراو نے بی بی سی کو بتایا: ‘نتاشا کے پیٹ میں دو السر تھے اور ان سے خون بہنا شروع ہو چکا تھا۔ وہ اتنی درد کش ادویات لے چکی تھی کہ اس کے معدے نے کام کرنا بند کر دیا تھا۔ یہ ادویات ہمارے جسم کو بہت نقصان پہنچاتی ہے، خاص طور سے آنتوں کو۔’لیکن اگر السر پیٹ میں تھے تو کندھوں میں درد کیوں تھا؟ڈاکٹر بھالےراو نے جواب دیا: ‘السر نتاشا کے پیٹ کے اس حصے میں تھا جو ڈايافرام کے ساتھ تھا۔ ڈايافرام اور کندھے کی ایک نس وہاں جڑی ہوتی ہے لہٰذا پیٹ کا یہ درد کندھے تک پہنچتا تھا۔ طب کی زبان میں اسے ‘ریفرڈ پین’ کہا جاتا ہے۔پین کلرز اور السر نے مل کر نتاشا کے پیٹ کو تباہ کر دیا تھا اس لیے سرجری کرکے اسے نکال دینا ہی واحد راستہ بچا تھا۔ اس آپریشن کو ‘ٹوٹل گیسٹریکٹومی’ کہتے ہیں۔نتاشا نے بتایا: ‘یہ فیصلہ فوری طور پر لیا گیا۔ میں آپریشن تھیئٹر میں بیہوشی کی حالت میں تھی جب ڈاکٹر بھالےراو نے لیپروسکوپی کے ذریعے میرے پیٹ کی حالت دیکھی اور انھوں نے میرے ماں باپ اور شوہر کو بتایا کہ یہ بڑا آپریشن ہے جس
میں جان جانے کا بھی خطرہ ہے۔’آخر کار نو گھنٹے کے آپریشن کے بعد، نتاشا کا پیٹ نکال دیا گیا تھا۔پیٹ نکالے جانے پر ان کا ردعمل کیا تھا؟اس کے جواب میں نتاشا نے بتایا: ‘مجھے آپریشن کے تقریباً ایک ہفتے بعد اس کے بارے میں بتایا گیا۔ میرے گھر والوں کو سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ جس زندگی کھانے کے اردگرد ہی گھومتی ہو، اسے یہ کیسے بتایا جائے کہ اب اس کا پیٹ نہیں ہے؟’لیکن ایک نہ ایک دن پتہ چلنا تھا اور پتہ چل گيا۔ نتاشا ہسپتال میں کچھ کھانے ہی والی تھی کہ ماں نے سختی سے منع کر دیا۔انھوں نے کہا: ’ٹھہرو، تم یوں ہی کچھ بھی نہیں کھا سکتیں۔ ڈاکٹر کو دِکھانا ہو گا۔ اب تمہارا پیٹ نہیں ہے۔’نتاشا نے فوری طور پر اپنے پیٹ کو دیکھا اور اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کی ماں کیا کہہ رہی تھی۔در اصل ہمیں چھونے سے پیٹ کا صرف بیرونی حصہ محسوس ہوتا ہے۔ نتاشا کے جسم کا وہ حصہ نکالا گیا تھا جہاں کھانا ہضم ہوتا ہے۔پیٹ نکالے جانے کے بعد نتاشا کی زندگی یکسر بدل گئی۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ کھانا نہیں کھا سکتی لیکن عام لوگوں کی طرح نہیں۔اب وہ ایک دن میں سات سے آٹھ مرتبہ کھاتی ہیں۔
ان کے لیے مکمل ناشتہ، دوپہر کا کھانا یا رات کا کھانا جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اب ان کے کھانے میں زیادہ تر مشروبات ہوتی ہیں۔ان کا نظام ہاضمہ کیسے کام کرتا ہے؟چونکہ ان کا پیٹ نہیں اس لیے ان کا جسم کھانا سٹور نہیں کر سکتا۔ ان کا کھانا براہِ راست چھوٹی آنت میں جاتا ہےاس کی وجہ سے وہ ایک ساتھ بہت زیادہ نہیں کھا سکتیں چونکہ وٹامن بی انسان کے پیٹ میں بنتا ہے اور نتاشا کا پیٹ نہیں ہے اس لیے انھیں باقاعدہ طور پر اس کا انجکشن لینا ہوتا ہےوہ زیادہ میٹھی چیز نہیں کھا سکتیں کیونکہ اس سے ان کے بیہوش ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے جسے ‘ڈمپنگ سنڈروم’ کہتے ہیںنتاشا کہتی ہیں کہ پہلے میں اس حقیقت کو قبول نہیں کر سکی لیکن حقیقت سے کب تک دور بھاگتی۔ سچ کا سامنا ہوا تو میرے پاس دو ہی راستے تھے یا تو میں ناامیدی کے اندھیرے میں چلی جاؤں یا پھر نئے سرے سے جینا شروع کروں۔ میں نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔اب وہ اپنے کھانے کی ویب سائٹ اور انسٹا گرام پر سرگرم ہیں۔ کچھ ہوٹلوں کے مشیر کے طور پر کام کررہی ہیں۔ حال ہی میں انھوں نے ‘فور سم’ نامی ایک کتاب لکھی ہے اور بھرپور زندگی گزار رہی ہیں۔نتاشا کا خیال ہے کہ ہندوستانی کھانے اپنے تنوع کے سبب دنیا کے دوسرے حصے کے کھانوں سے بہتر ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ ‘صحت مند کھانے’ سے منسلک تمام غلط روایتوں کو توڑنے کی کوشش میں ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ ‘صحت مند کھانے کا مطلب ہمارے نزدیک تیل اور چکنائی کے بغیر ابلا ہوا کھانا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ تیل اور گھی سے زیادہ نقصان شکر اور نشاستہ دار غذاؤں سے ہوتا ہے۔’نتاشا کہتی ہیں کہ مرد ہو یا عورت، کھانا پکانا سبھی کو سیکھنا چاہیے اور اب پیزا، برگر چھوڑ کر ہمیں روٹی اور سبزیوں کی طرف واپس آنا چاہیے۔(ن)