You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > دلچسپ و عجیب وا قعات > دنیا کی سب سے پرانی ٹیکنالوجی جو آج تک کارآمد ہے ،پڑھیے حیران کن معلوماتی رپورٹ

دنیا کی سب سے پرانی ٹیکنالوجی جو آج تک کارآمد ہے ،پڑھیے حیران کن معلوماتی رپورٹ

ریل صدیوں پرانا نظام ہے اور اس میں موجود ٹیکنالوجی یا اس کی تیاری کے تمام مراحل آج بھی اسی دور جیسے ہیں جب اسے شروع میں تیار کیا گیا تھا ۔آج سے تقریبا 200 سال پہلے 1804ء میں ریل گاڑی کو ایجاد کیا گیا اور اسکو چلانے کے لئے اس کا الگ ٹریک بھی بنایا گیا۔ اور ریل گاڑی کو گرنے سے بچانے کے لئے اس ٹریک

کو لچک دار اور مضبوط بھی بنانا تھا۔ تاکہ گاڑی کے بھاری جھٹکوں کو وہ باآسانی برداشت بھی کرسکے اور ٹوٹے بھی نہ۔ اس کے لئے 200 سال پہلے کافی تجربات کے بعد بجری یا پتھر کے ٹکڑوں سے مدد لی گئی جو آج تک لی جاتی ہے۔ اور اس ٹیکنالوجی کو بغیر کسی تبدیلی کے آج بھی استعمال کیا جاتا ہے۔درحقیقت یہ بجری ایسے وزن کا کام کرتی ہے جو ٹریک پر لگے لکڑے کے تختوں کو اپنی جگہ سے ہلنے نہیں دیتا اور ٹرین پٹری سے نیچے نہیں اترتی۔یہ درحقیقت انجنیئرز کے لیے چیلنج تھا کہ میلوں تک پھیلے اسٹیل ٹریک، جسے ٹرین کے وزن، رفتار اور اس سے پیدا ہونے والے ارتعاش اور حرارت کو برداشت کرنا ہوتا ہے، اپنی جگہ سے ہلنے نہ دیں، جبکہ سخت ترین موسم کے ساتھ ساتھ وہاں جھاڑیاں یا پودے بھی اُگ نہ سکیں۔تو اس دلچسپ مسئلے کا حل لگ بھگ 200 سال پہلے اس بجری کی شکل میں سامنے آیا اور جب سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔اس زمانے میں انجنیئرز نے خالی میدان میں ٹریک بچھانے کے بعد اس کی بنیاد کو اتنا بلند کیا کہ پانی میں ڈوب نہ سکے، جبکہ بنیاد کے اوپر بڑی مقدار میں بجری کو بھر دیا جس کے بعد لکڑی کے تختوں کو لگایا گیا جو کہ نو انچ چوڑے اور 7 انچ موٹے تھے، ہر ایک میل کے اندر 3249 تختے لگائے گئے۔ ان لکڑی کے تختوں کے درمیان بجری کو بھر دیا گیا ، پتھروں کے تیز کونے تختوں کو پھسلنے سے روکتے ہیں اور وہ اپنی جگہ مضبوطی سے لگے رہتے ہیں۔تو یہ صدیوں پرانا عمل اب بھی انتہائی موثر ثابت ہورہا ہے اور لوگوں کو ہزاروں میل کا سفر کرنے میں مدد دیتا ہے اور کوئی بھی موسم ٹرین کو چلنے سے روکنے میں ناکام رہتا ہے۔


Top