You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > دلچسپ و عجیب وا قعات > مجرم کی موت صرف 3منٹ میں ہو جاتی ہے مگر پھر بھی اسے پھانسی کے پھندے پر لٹکائے کیوں رکھا جاتا ہے؟ وہ معلومات جو ہم میں سے بہت کم لوگ جانتے ہیں

مجرم کی موت صرف 3منٹ میں ہو جاتی ہے مگر پھر بھی اسے پھانسی کے پھندے پر لٹکائے کیوں رکھا جاتا ہے؟ وہ معلومات جو ہم میں سے بہت کم لوگ جانتے ہیں

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں قانون کے مطابق جرم کی نوعیت کے حساب سے مختلف سزائیں اور سب سے بڑ ی سزا سزائے موت ہے جبکہ اس پر بین الاقوامی دباؤ کے باعث پابندی لگا دی گئی تھی لیکن سانحہ پشاور کے بعد سابق وزیراعظم نوازشریف نے اس پر سے پابندی ہٹانے کا

اعلان کیا تھا جس کے بعد کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں کو تختہ دار پر لٹکایا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ پشاور میں دہشتگردوں نے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا جس میں ٹیچرز سمیت 141معصوم بچے شہید ہوئے جس کے بعد ملک میں بڑے پیمانے پر دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے کیلئے پلان بھی مرتب کیا گیا اور پاک فوج دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لے آئی ،پاک فوج کی قربانیوں کے باعث پاکستان سے دہشتگردوں کا مکمل طور پر خاتمہ ہو چکاہے ۔پاکستان کے قانون کے مطابق سزائے موت پانے والوں کو 30منٹ تک تختہ دار پر لٹکایا جاتاہے جبکہ مجرم کی موت صرف تین منٹ میں ہی واقع ہو جاتی ہے لیکن قانون کے مطابق اسے تیس منٹ تک لٹکا کر رکھا جاتاہے ۔) مصر کے مفتی اعظم شوقی ابراہیم عبدالکریم نے ڈیجیٹل کرنسی ”بٹ کوائن“ (BitCoin) کے استعمال کو حرام قرار دے دیا ہے۔مصر کے مفتی اعظم شوقی ابراہیم عبدالکریم نے فتویٰ دیا ہے جس کے مطابق انٹرنیٹ کے ذریعے (آن لائن) لین دین اور سرمایہ کاری میں استعمال ہونے والی کرنسی ”بٹ کوائن“ حرام ہے۔ فتوے میں کہا گیا ہےکہ بٹ کوائن کے ذریعے خریداری اور لین دین میں نقصان سمیت کئی حوالوں سے اس کا استعمال شریعت میں جائز نہیں۔مفتی اعظم شوقی ابراہیم عبدالکریم نے کہا ہے کہ سائبر کرنسی ہونے کی وجہ سے کوئی بھی بہ آسانی دھوکے کا شکار ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ قیمتوں میں تیزی سے اتار چڑھائوکے باعث کسی بھی شخص اور قوم کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ بٹ کوائن ایک ایسی کرنسی ہے جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں بلکہ یہ صرف انٹرنیٹ کے ذریعے (آن لائن) لین دین اور سرمایہ کاری ہی میں استعمال ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ کسی ملک کی سرکاری کرنسی بھی نہیں جبکہ دنیا کے بیشتر بینک بٹ کوائن کو بطور کرنسی قبول ہی نہیں کرتے۔ اس کے باوجود آج دنیا بھر میں کرپٹو کرنسیز کا مجموعی حجم 600 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ ہوچکا ہے جبکہ دنیا بھر میں اس وقت 1000 سے زیادہ مختلف کرپٹو کرنسیز موجود ہیں


Top