You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > دلچسپ و عجیب وا قعات > میرے پاس ایک ایسا زمینی جہاز ہے جو تمھاری فوج کے چیتھڑے اڑا دے گا ۔۔۔۔۔ کیا آپ جاننا چاہیں گے کہ پہلی بار ٹینک کب اور کس نے استعمال کیا؟ پہلی جنگ عظیم کے حوالے سے شاندار معلومات

میرے پاس ایک ایسا زمینی جہاز ہے جو تمھاری فوج کے چیتھڑے اڑا دے گا ۔۔۔۔۔ کیا آپ جاننا چاہیں گے کہ پہلی بار ٹینک کب اور کس نے استعمال کیا؟ پہلی جنگ عظیم کے حوالے سے شاندار معلومات

پہلی جنگ عظیم کے پہلے پانچ ماہ میں اتحادیوں (برطانیہ، فرانس، اٹلی، روس)پانچ لاکھ فوجی ہلاک ہو چکے تھے۔ اتحادی اس صورتحال سے بہت پریشان تھے۔ ایسے میں ایک سر پھرے کو لوہے کا جن بنانے کا خیال آیا۔ برطانوی ایڈمرل آف وار چرچل نے اس کی بہت پذیرائی کی اور اس کے لیے

بڑی رقم فراہم کی۔1- ٹینک کو ٹینک کیوں کہتے ہیں ؟ برطانیہ نے چونکہ اسے جرمنوں سے خفیہ طور پر تیار کیا تھا اس لیے دوران تیاری راز داری میں رکھی گئی۔ وہ کوئی ایسا نام نہیں رکھنا چاہتے تھے جس سے جاسوسوں کو پتا چلے کہ نیا ہتھیار کس قسم کا ہے۔ چرچل نے اسے زمینی جہاز کا نام دیا تھا لیکن آپسی گفتگو کے لیے عارضی طور پر اسے ایک بڑے لوہے کے پانی والے ٹینک جیسا دکھائی دینے کی وجہ سے ٹینک کا نام دے دیا گیا۔2- ٹینکوں نے پہلی لڑائی میں شرمندہ کر دیا؟ پہلے ٹینک کا نام مارک ون تھا۔ جولائی 1916ئ میں پہلی بار ’’سم‘‘ کے معرکے میں ٹینکوں کو استعمال کیا گیا۔ معرکے میں جرمنوں سے اتحادیوں نے فرانس کا ایک چھینا ہوا علاقہ واپس لینا تھا۔ یہ لڑائی بہت اہم تھی۔جنگ عظیم اول میں اب تک اتحادیوں کے لاکھوں فوجی مارے جا چکے تھے اور جرمنوں سے ایک انچ زمین بھی واپس نہیں لی جا سکی تھی۔ اس لیے اس جنگ میں ٹینکوں کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انچاس ٹینک رات کو چپکے سے میدان جنگ میں پہنچائے گئے۔ صبح جو اٹیک کیا گیا تو سات ٹینکوں نے اسٹارٹ ہونے سے ہی انکار کر دیا۔ جو اسٹارٹ ہوئے ان میں سے سترہ کے میدان میں چند سو میٹر چلنے کے بعد انجن فیل ہو گئے۔ اب صرف پچیس ٹینکوں نے معرکے میں حصہ لیا۔ جن میں سے سترہ جرمنوں نے تباہ کر دیئے۔ اس لڑائی میں اتحادیوں کو عارضی فتح ملی۔ لیکن جو علاقہ انھوں نے جرمنوں سے واپس لیا اسے لینے کے لیے ہر ایک گز پر پچاس اتحادی فوجیوں کی قربانی دینا پڑی۔ پانچ ماہ بعد جب یہ معرکہ ختم ہوا تو دونوں طرف سے پندرہ لاکھ افراد ہلاک ہو چکے تھے۔ یعنی ٹینکوں نے انسانی جان کو بچانے کا وہ فائدہ نہیں دیا جس کی ضرورت تھے۔ لیکن یہ ابھی آغاز تھا۔3- برطانوی سرکار نے اپنی عوام سے جھوٹ بولا ؟ سم کی لڑائی میں اتنے بڑے جانی نقصان اور ٹینکوں کی ناکامی کو چھپایا۔ بلکہ اسے کے برخلاف سینما گھروں میں ایسی فلمیں دکھائی گئیں جن میں ٹینکوں کو نئے جنگی ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو سم کی جنگ میں تاریخ کے سب سے بڑے جانی نقصان کا پتا چل گیا۔ جس سے لوگوں کی رائے جنگ کے بارے میں بدلنا شروع ہو گئی۔ جو پہلے جنگ شروع ہونے پر خوش ہوئے تھے وہ اب جنگ جلد از جلد ختم کرنا چاہتے تھے۔ 4- ٹینک دیکھتے ہیں جرمنوں نے ہاتھ کھڑے کر دئیے؟ سم کی لڑائی سے سیکھتے ہوئے برطانیہ نے ٹینک بہتر بنائے۔ اور 1917 میں کیمرے کی جنگ میں اپ گریڈڈ ٹینک استعمال کیے گئے۔ جنھوں نے جرمنوں کو میلوں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ یہ وہ پہلا موقع تھا جب جنگ کا توازن اتحادیوں کی طرف جھکنا شروع ہو گیا۔ جس کے صرف ایک سال بعد جرمنی ہتھیار پھینکنے تک آ گیا۔


Top