بیٹی کے پیداہونے پر111 پودے لگانا ایک روایت،بڑی پابندی عائد کر دی گئی ،جانئیے

بھارت میں اس کے باشندوں کی اکثریت بیٹیوں پربیٹوں کوترجیح دیتی ہے ۔وہاں سالانہ لاکھوں لڑکیاں رحم مادرمیں زندگی سے محروم کردی جاتی ہیں اسی لئے حکومت نے بچے کی جنس کاپیشکی تعین کرنے کے عمل کوغیرقانونی قراردے کراس پرپابندی لگارکھی ہے تاہم ےہ پابندی موثرثابت نہ ہوسکی اورلڑکیوں کاقتل عام اسی طرح جاری ہے ۔یہی وجہ

ہے کہ بھارت میں لڑکوں کی تعدادلڑکیوں کی تعدادسے بڑھ گئی ہے ۔بھارتی باشندوں کی بڑی تعدادایسی ہے جوبیٹیوں کوقتل نہیں کرتے مگران کی پیدائش کوناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔لڑکیوں کی قبل ازپیدائش ےابعد ازپیدائش ہلاکتوں کی وجہ سے اقوام متحدہ نے بھارت کوبچیوں کے لئے خطرناک ملک قراردے رکھاہے ۔بیٹیوں کوزندہ درگورکردینے والے بھارت میں ایک گاﺅں ایسابھی ہے جہاں ان کی پیدائش پرخوشیاں منائی جاتی ہیں۔پپلانتری نامی ےہ گاﺅں ریاست راجھستان کے ضلع سمند میں واقع ہے جب کسی گھرمیں بیٹی پیداہوتی ہے تواس کے والدین اوراہل خانہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے ۔بیٹی کی پیدائش پروہ مٹھائی تقسیم کرتے ہیں اورپھرسب کے سب ہاتھوں میں چھوٹے چھوٹے پودے اٹھائے جنگل کی طرف چل دیتے ہیں کیوں کہ وہاں بیٹی پیداہونے پر111درخت لگانے کی روایت بھی پائی جاتی ہے ۔8000نفوس پرمشتمل گاﺅں میں سال میں اوسطا 60لڑکیاں پیداہوتی ہیں ۔ےوں گاﺅں کے باسی سالانہ ساڑھے چھ ہزارسے زیادہ پودے لگاتے ہیں ایک اندازے کے مطابق اس روایت کی ابتداءکے بعد سے اب تک ےہاں ڈھائی لاکھ سے زیادہ درخت لگائے جاچکے ہیں ان میں نیم ،آم اورپیپل کے درخت شامل ہیں پودے لگا نے کی روایت گاﺅن کے سابق سرپنچ شیام سندرنے گئی برس پہلے اپنی بیٹی کی موت کے بعد شروع کی تھی ۔گاﺅں میں چند ایک ایسے گھرانے بھی ہیں جوبیٹی کی پیدائش پرفکرمندہوجاتے ہیں ان گھرانوں کی نشاندہی اورمالی امدادکے لئے گاﺅں کے سرکردہ افرادپرایک کمیٹی موجودہے ۔کمیٹی گاﺅں کے باسیوں سے اکیس ہزارروپے اوربچی کے باپ سے دس ہزارروپے لے کراس رقم کوسرکاری سکیم میں لگادیتی ہے بیس سال کے بعد ےہ رقم کئی گناہوکرلڑکی کے باپ کوملتی ہے اوروہ اپنی بیٹی کے جہیزاوردیگراخراجات سے بے فکرہوجاتاہے اس کے علاوہ بچی کے والدین سے ایک حلف نامے پربھی دستخط کروائے جاتے ہیں جس کے تحت وہ اس بات کے پابندہوتے ہیں کہ قانونی عمرتک پہنچنے سے بچی کی شادی نہیں کریں گے ،اسے باقاعدگی سے سکول بھیجیں گے اوراس کے نام پرلگائے گئے درختوں کی دیکھ بھال کریں گے ۔لڑکیوں کی پیدائش پرلگائے گئے درختوں کے لئے گاﺅں کے باسیوں نے وسیع قطعہ اراضی مختص کررکھاہے جوجنگل کی شکل اختیارکرگیاہے ۔ےادگاری درختوں کوکیڑے مکوڑوں اوردیمک سے بچانے کے لئے ان کے اطرف ڈھائی لاکھ سے زائد گوارپاٹھا(ایلوویرا)کے پودے لگائے گئے ہیں ۔یہ درخت اورگوارپاٹھا کے پودے گاﺅں کی باشندوں کی آمدنی کااہم ذریعہ بھی بن گئے ہیں ۔خواتین گھروں پرہی ایلوویراکے پودوں سے مختلف مثلا جل ،اچاروغیرہ تیارکرتی ہیں جنہیں مردفروخت کرنے کےلئے شہرلے جاتے ہیں ۔پپلانتری اس لحاظ سے بھی منفردگاﺅں ہے کہ اس کی ویب سائٹ اورترانہ موجود ہے ۔اس گاﺅں میں جانوروں کے جنگل میں چرنے اوردرخت کاٹنے پرپابندی عائد ہے ۔