ماونٹ ایورسٹ کو دوبارہ سر کرنے کی سر توڑ کوشش ، عمریں جان کر آپ داد دئیے بغیر نہ رہ سکیں گے

نیپال کے ایک تراسی سالہ سابق گورکھا فوجی نے آج جمعہ چوبیس اپریل کو اپنی اس مہم کا آغاز کر دیا، جس کے تحت وہ ایک بار پھر دنیا کے بلند ترین پہاڑ ماو¿نٹ ایورسٹ کو سر کرنے والے سب سے عمر رسیدہ کوہ پیما بننا چاہتے ہیں۔کھٹمنڈو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اس بہت تجربہ کار لیکن بزرگ کوہ پیما کی نام مِن بہادر شَیرچن ہے اور انہوں نے اپنی مہم کا آغاز آج ملکی دارالحکومت کھٹمنڈو سے نیپال کے قومی دن کے موقع پر کیا۔مِن بہادر شَیرچن ماضی میں بھی

ماو¿نٹ ایورسٹ کو سر کر چکے ہیں اورتب بھی وہ یہ کامیابی حاصل کرنے والے دنیا کے عمر رسیدہ ترین کوہ پیما تھے۔ لیکن 2013ئ میں ان کا یہ عالمی ریکارڈ ایک جاپانی کوہ پیما ی±وئی چیرو می ی±ورا نے توڑ دیا تھا، جنہوں نے 80 برس کی عمر میں یہ چوٹی سر کی تھی۔نیپالی محکمہ سیاحت کے مطابق شَیرچن نے گزشتہ برس بھی ایک بار پھر ماو¿نٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی کوشش کی تھی، جب ان کی عمر 82 برس تھی۔ تب لیکن انہیں اپنی یہ مہم اس لیے نامکمل ہی ختم کرنا پڑ گئی تھی کہ شَیرچن کوبہت خراب موسم کے ساتھ ساتھ سانس لینے میں مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔آج جمعے کے روز اپنی اس نئی مہم کے آغاز سے قبل مِن بہادر شَیرچن نے، جو سالہا سال تک برطانوی گورکھا فوج میں پیشہ ورانہ فرائض انجام دے چکے ہیں، بدھ کے روز کھٹمنڈو ہی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا، ”میں ایک بار36پھر ماو¿نٹ ایورسٹ کو سر کرنے کی کوشش کرنا چاہتا ہوں تاکہ دنیا پر ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا جائے کہ نیپالی گورکھا فوجی کتنے بہادر ہوتے ہیں۔“ڈی پی اے کے مطابق اس بزرگ نیپالی کوہ پیما کی ماو¿نٹ ایورسٹ کو زیر کرنے کی تازہ ترین کوشش میں برطانیہ میں نیپال سے باہر رہنے والے نیپالی باشندوں کی تنظیم کی طرف سے خاص طور پر تائید و حمایت کی جا رہی ہے۔اسی سیزن میں کئی دوسرے کوہ پیما بھی ماو¿نٹ ایورسٹ کو سر کرنے کے ساتھ کئی طرح کے دیگر ریکارڈ قائم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ایچ آئی وی وائرس سے متاثرہ نیپالی شہری گوپال شریستھا بھی دنیا کی اس بلند ترین چوٹی کے اوپر تک پہنچنے کی کوشش میں ہیں۔ اگر وہ اپنے ارادوں میں کامیاب ہو گئے تو وہ ماو¿نٹ ایورسٹ سر کرنے والے دنیا کے پہلے ایچ آئی آئی مریض ہوں گے۔اس کے علاوہ ایک اور نیپالی شہری لیلا بہادر باسنَیت اس کاوش میں ہیں کہ وہ کھٹمنڈو سے ایورسٹ کی چوٹی تک کا سفر اور پھر اسی شہر میں واپسی صرف 10 روز میں مکمل کر لیں۔ یہ بھی اس لیے ایک نیا عالمی ریکارڈ ہو گا کہ آج تک کوئی بھی کوہ پیما اتنے کم دنوں میں ایسا نہیں کر سکا ہے۔عام کوہ پیما ایورسٹ کو سر کرنے سے پہلے کئی ہفتے خود کو اس علاقے اور انتہائی بلندی پر سخت موسم کا عادی بنانے کے لیے صرف کرتے ہیں۔ ایورسٹ کی بلندی 8840 میٹر ہے جبکہ کھٹمنڈو سطح سمندر سے قریب 1400 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ دنیا کے اس بلند ترین پہاڑ کو سر کرنے کی کوشش میں موجودہ سیزن کے دوران اب تک قریب 400 کوہ پیما ایورسٹ کے بیس کیمپ تک پہنچ چکے ہیں