لاکھوں میں ایک واقعہ : 2 سال سے سمندروں میں آوارہ پھرتا مسافروں اور عملے کے بغیر بحری جہاز بالآخر کنارے پر آ گیا ، اس جہاز کے ساتھ کب کیا حالات پیش آئے ؟ عالمی میڈیا کی دلچسپ سٹوری

لندن (ویب ڈیسک) یورپ میں آنے والے سمندری طوفان ڈینس کے دوران خراب موسم ایک ’لاوارث‘ کارگو جہاز کو آئرلینڈ کی کاؤنٹی کارک کے ساحل پر لے آیا ہے۔اس لاوارث جہاز کو سب سے پہلے ایک راہگیر نے ماہی گیروں کے گاؤں بلیکٹن کے پتھروں پر دیکھا۔ایسا لگتا ہے کہ یہ بحری جہاز بحرِ اوقیانوس کے پار،

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔برمودا کے جنوب مشرق سے 2018 (ایک سال سے بھی زیادہ عرصے) سے بھٹک رہا تھا اور اپنے مقررہ راستے سے ہزاروں میل دور آ نکلا ہے۔نیشنل لائف بوٹ کے سربراہ جان تاتن کا کہنا ہے کہ ’یہ واقعہ لاکھوں میں ایک ہے۔‘بالیکٹن کے رائل نیشنل لائف بوٹ انسٹی ٹیوشن (آر این ایل آئی) کے سربراہ نے آئرش ایگزامینر اخبار کو بتایا کہ انھوں نے ’اس سے پہلے کبھی ایسا لاواث جہاز نہیں دیکھا۔‘جہاز کی شناخت ’آلٹا‘ کے نام سے ہوئی ہے، جس کے متعدد مالکان اور نام ہیں۔ اسے سنہ 1976 میں بنایا گیا تھا اور حال ہی میں اس پر تنزانیہ کا جھنڈا تھا۔دنیا بھر کے حکام کو اس جہاز کے آئرلینڈ کے ساحل پر بے مقصد لنگر انداز ہونے کے بارے میں آگاہ کیا جا چکا ہے۔ آخری بار اس جہاز کو ستمبر 2019 میں برطانوی رائل نیوی کے ایک جہاز نے دیکھا تھا۔اس جہاز کو آئرلینڈ لانے والی کہانی کا آغاز ستمبر 2018 میں ہوا جب اس پر عملہ سوار تھا اور یہ یونان سے ہیٹی کی جانب رواں دواں تھا۔امریکی کوسٹ گارڈ کے مطابق نامعلوم وجوہات جہاز پر بجلی کی بندش کا سبب بنیں اور ’آلٹا‘ 20 دن تک برمودا کے جنوب مشرق میں 1300 میل (2100 کلومیٹر) تیرتا رہا۔جہاز پر ’آلٹا‘ کے عملے کے لیے صرف دو دن کا کھانا باقی رہ گیا تھا۔ کوسٹ گارڈ نے ہوائی جہاز کے ذریعے انھیں خوراک اور دیگر سامان پہنچایا۔سمندری طوفان کے خطرے کے پیشِ نظر کوسٹ گارڈ نے تباہ شدہ جہاز پر سوار عملے کے 10 ارکان کو

بچا کر پورٹو ریکو لے جانے کا فیصلہ کیا۔اس وقت برمودا میری ٹائم آپریشن سنٹر کے ترجمان نے کہا تھا کہ ’ایم / وی (موٹر ویسل) آلٹا برمودا کے جنوب مشرق میں اپنے راستے سے ہٹ کر تیر رہا ہے اور مالکان کی جانب سے جان بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔‘جہاز کو جزوی طور پر نقصان پہنچا اور عملے کے بغیر لاوارث آلٹا سمندر میں تیرتا رہا۔پھر ایک سال بعد ستمبر 2019 میں رائل نیوی آئس پٹرول شپ ’ایچ ایم ایس پروٹیکٹر‘ نے اسے اٹلانٹک کے وسط میں دیکھا۔اس بات کا پتہ لگانے کے بعد کہ جہاز میں عملہ موجود نہیں تھا، ایچ ایم ایس پروٹیکٹر نے اس وقت اپنی ٹویٹ میں کہا تھا ’اس کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری رکھی جا سکتی ہیں لیکن اس کا مستقبل دوسروں کے ہاتھ میں ہے۔‘بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے آئرش لائٹس کے کمشنروں کے کوسٹل آپریشنز کے ڈائریکٹر، رابرٹ میک کیب کا کہنا تھا ’عام طور پر تباہ شدہ یا ڈوبے ہوئے جہاز مالکان کی ملکیت رہتے ہیں اور کوئی حل نکالنے کی ذمہ داری انھی پر عائد ہوتی ہے۔‘تاہم اگر اس طرح کے جہاز کو جہاز رانی کے صنعت کے لیے خطرہ سمجھا جائے تو اس صورت میں مقامی حکام اسے دور ہپھینکنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔میک کیب کہتے ہیں ’آئرلینڈ کے سمندر میں ایسے متعدد واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ اگر کوئی مالک نہ ملے تو آئرش لائٹس کے کمشنر اس کام کا بیڑا اٹھا سکتے ہیں۔‘ان کا مزید کہنا تھا ’18 ماہ تک اس طرح سے جہاز کا بہتے جانا معمولی بات نہیں ہے۔ اکتوبر 2018 کے بعد سے اس کو صرف ایک بار دیکھا گیا تھا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سمندر کتنا وسیع ہے۔‘میک کیب کے مطابق چونکہ حالیہ عرصے میں موسم خراب رہا ہے جس کی وجہ سے سمندر میں جہاز بہت کم تھے اس لیے شاید کسی نے اسے نہ دیکھا ہو۔کارک کاؤنٹی کونسل کا کہنا تھا کہ پیر کو بالیکٹن جانے والے ماحولیاتی سائنسدانوں کے مطابق جہاز سے کسی قسم کی آلودگی کے اخراج کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا۔کارک کاؤنٹی کونسل، آئرش کوسٹ گارڈ اور رسیور آف ریکس اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ جہاز کا کیا بنے گا لیکن مک کیب کہتے ہیں کہ اس جہاز کو بچانا بہت مہنگا ہو سکتا ہے۔آلٹا کی کہانی میں ابھی بھی کئی پہیلیاں ایسی ہی جنھں حل کرنا باقی ہے: اس کا مالک کون ہے؟ اور جس وقت اسے لاوارث چھوڑا گیا تب اس پر کیا سامان موجود تھا؟ الٹا کے ساتھ آگے کیا ہونے والا ہے اس بارے میں فیصلہ آنے کے بعد ہی ان سوالات کے جوابات مل سکتے ہیں۔(بشکریہ : بی بی سی )