کرونا وائرس سےمتاثرہ چین سے حیران کن خبر : بڑی تعداد میں چارٹرڈ طیارے تیار، آخر کیا ہونے والا ہے؟ تازہ ترین خبر

ووہان (ویب ڈیسک) چین کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق منگل کو کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 1868 جبکہ متاثرہ افراد کی کل تعداد 72436 ہو گئی ہے۔کورونا وائرس کے بارے میں سب سے بڑی ریسرچ سامنے آگئی۔ چین میں صحت کے حکام نے کورونا وائرس کا شکار

ہونے والے 44000 افراد کی ابتدائی تفصیلات شائع کی ہیں۔ چائنیز سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے ڈیٹا کے مطابق 80 فیصد کیسز خطرناک نوعیت کے نہیں ہیں اور بیمار اور بزرگ افراد کو کورونا وائرس سے زیادہ خطرہ ہے۔ ریسرچ میں طبی عملے کے لیے بڑے خطرے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ ریسرچ منگل کو ووہان میں ایک ہسپتال کے ڈائریکٹر کے ہلاک ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔ 51 سالہ لیو زیمنگ، کورونا وائرس کے مرکز ووہان کے ووچینگ ہسپتال کے ڈائریکٹر تھے۔ وہ اب تک ہلاک ہونے والے طبی عملے کے سینیئر ترین افراد میں سے ایک ہیں۔ رپورٹس میں سامنے آیا ہے کہ صوبہ ہوبائی میں اموات کی شرح 2.9 فیصد ہے جبکہ باقی ملک میں یہ شرح 0.4 فیصد ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے مجموعی طور پر اموات کی شرح 2.3 فیصد ہے۔ 80.9 فیصد کیسز ہلکی نوعیت کے ہیں، 13.8 فیصد کیسز شدید نوعیت کے ہیں جبکہ صرف 4.7 فیصد تشویش ناک ہیں 80 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد میں جنھیں کورونا وائرس لاحق ہے، اموات کی شرح سب سے زیادہ 14.8 ہے نو سال کی عمر تک کے بچوں میں کوئی موت واقع نہیں ہوئی اور 39 سال کی عمر تک کے افراد میں اموات کی شرح 0.2 فیصد ہے چالیس کے پیٹے میں شرح اموات 0.4 فیصد اور 50 کے پیٹے میں یہ شرح 1.3 فیصد ہے۔ جبکہ 60 کے پیٹے میں شرح اموات 3.6 فیصد اور 70 کے پیٹے میں یہ شرح بڑھ کر 8 فیصد ہو جاتی ہے۔

جنسی تناسب کے اعتبار سے خواتین (1.7 فیصد) کے برعکس مردوں (2.8 فیصد) کے ہلاک ہونے کے امکانات زیادہ ہیں تحقیق سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ دل کی بیماریوں کے شکار افراد کو کورونا وائرس سے سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ اس کے بعد ذیابیطیس، دائمی سانس کی بیماریوں اور ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد کو زیادہ خطرہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق طبی عملے کے 3019 افراد کو کورونا وائرس انفیکشن ہوا جن میں سے 1716 میں مرض کی تصدیق ہوئی اور اب تک طبی عملے کے پانچ اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ نجی جیٹ آپریٹرز کے مطابق کورونا وائرس پھیلنے کے دوران چارٹر طیاروں کی درخواستوں میں بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث مختلف ایئر لائنز نے چین آنے اور جانے والی پروازیں کم یا روک دی ہیں۔ جس کے بعد مسافر ملک کے اندر یا باہر پھنس کر رہ گئے ہیں۔ بھاری اخراجات کے باوجود دولت مند افراد نجی جیٹ آپریٹرز سے پروازوں کا بندوبست کرنے کو کہہ رہے ہیں۔ لیکن سفری پابندیوں، دستیاب طیاروں اور عملے کے فقدان کے باعث کمپنیاں انھیں انکار کرنے پر مجبور ہیں۔ پیراماؤنٹ بزنس جیٹس سے تعلق رکھنے والے آسٹریلیا میں مقیم ڈارین واؤولس کہتے ہیں کہ کمپنیوں نے درخواستوں میں ’کافی اضافہ‘ دیکھا ہے، لیکن ان میں سے اکثریت کو انکار کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ان کے پاس طیاروں اور عملے کا فقدان ہے۔ ان کے مطابق ’بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنے طیاروں اور عملے کو چین نہیں بھیجنا چاہتے۔ عملے کو لاحق خطرے کے علاوہ، آپریشنل اور کاروباری نوعیت کی تشویش یہ ہے کہ جب وہ چین سے لوٹیں گے تو انھیں فوری طور پر قرنطینہ میں جانا پڑے گا اور وہ دو ہفتوں تک کام کرنے سے قاصر ہوں گے۔‘

سنگاپور کی کمپنی مائی جیٹ ایشیا کے چیف ایگزیکٹو لوگن روشکنسار کا کہنا ہے ’بہت سے لوگ چینی نئے سال کے لیے چلے گئے تھے اور اب وہ چین سے واپس آنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اور بہت سے لوگ بیجنگ، شنگھائی اور ہانگ کانگ واپس جانا چاہتے ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا ’لیکن ہم پر بڑے پیمانے پر پابندی ہے کہ ہم کہاں پرواز کر سکتے ہیں جبکہ ایئر لائنز رقم کے باوجود ہمیں اپنے طیارے چارٹر نہیں کرنے دے رہی ہیں۔‘ دوسرے مسافر چین سے نکلنے کے لیے بے چین ہیں۔ چارٹر پروازوں کی عالمی بکنگ سروس، پرائیوٹ فلائی کے چیف ایگزیکٹو ایڈم ٹویوڈیل کے مطابق، جنوبی امریکہ کے ایک سرکاری اہلکار نے ان سے سینکڑوں مسافروں کے لیے ووہان سے چار پروازوں کا انتظام کرنے کو کہا۔ برطانیہ میں قائم فرم کا کہنا ہے کہ کئی نجی افراد اور گروپوں نے ان سے چارٹر طیاروں کے بارے میں دریافت کیا ہے۔ پیراماؤنٹ بزنس جیٹس کے مطابق ’انتہائی ہلکا جیٹ‘ دو سے چار مسافروں کو لے جا سکتا ہے اور اس کی قیمت 2400 ڈالر یا (1850 پاؤنڈز) فی گھنٹہ ہے۔ ایک ’سپر مِڈ سائز‘ جیٹ میں آٹھ سے 10 افراد بیٹھ سکتے ہیں اور اس کی قیمت 6000 ڈالر فی گھنٹہ ہے۔ عالمی نجی جیٹ فرم وِسٹا جیٹ کا کہنا ہے کہ اس نے گذشتہ ماہ کے دوران انکوائریوں میں دوگنا اضافہ دیکھا ہے حالانکہ اس نے چین آنے اور جانے والی پروازیں بند کر رکھی ہیں۔

وِسٹا جیٹ کے افسر آئن مورے کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ چینی نیا سال ہوسکتا ہے، لیکن ہم اس اضافے کی وجہ ایسے صارفین کو قرار دیتے ہیں جو کورونا وائرس کے دوران کمرشل کے بجائے نجی پروازوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔‘ روشکنسار کا کہنا ہے کہ ’2003 میں سارس وائرس کے دوران بھی چارٹر طیاروں کی مانگ میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ لیکن اس وقت ملکوں میں آنا اور باہر جانا بہت آسان تھا۔ اس مرتبہ حکومتوں نے سخت پابندیاں عائد کر دیں ہیں۔‘ سمارٹ فونز کی کمپنی ایپل نے متنبہ کیا ہے کہ چین میں کورونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے اہداف کی پیش گوئی کے برعکس اس کی آمدنی میں کمی آئے گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پیداوار اور فروخت متاثر ہوئی ہے جبکہ ’دنیا بھر میں آئی فون کی فراہمی کو عارضی رکاوٹ کا سامنا ہے۔‘ ایپل وہ پہلی بڑی امریکی کمپنی ہے جس نے تسلیم کیا ہے کہ چین میں کورونا وائرس کی وجہ سے اسے مالی نقصان ہوگا۔ کمپنی نے موجودہ تین ماہ کے کوارٹر میں 67 ارب ڈالر کمانے کی پیش گوئی کی تھی۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے کتنا نقصان ہوگا۔ ایپل نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم مارچ کے کوارٹر میں اتنی آمدنی حاصل نہیں کر پائیں گے جس کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ ’امید کے برعکس حالات آہستہ آہستہ معمول پر آرہے ہیں۔‘ چین میں ایپل کے زیادہ تر سٹورز بند ہیں یا کم گھنٹوں کے لیے کھولے جاتے ہیں۔

کمپنی نے کہا ہے کہ ’آئی فون بنانے والے ہمارے پارٹنرز کے سٹورز ہوبائی صوبے کے باہر موجود ہیں اور انھیں اب دوبارہ کھول دیا گیا ہے لیکن ان کی بحالی اس رفتار سے نہیں ہوئی جس کی ہم نے امید کی تھی۔‘ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’چین میں ہمارے تمام سٹورز اور پارٹنر سٹورز بند رکھے گئے ہیں۔ ’اس کے ساتھ جن سٹورز کو کھولا گیا ہے ان کے گھنٹوں کو کم کیا گیا ہے اور یہاں صارفین کی آمد بھی کم ہے۔ ہم آہستہ آہستہ اپنے ریٹیل سٹور کھول رہے ہیں اور ہم ایسا محفوظ رہتے ہوئے اور تسلی کے ساتھ کریں گے۔‘ ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ چین میں پہلے کوارٹر کے دوران سمارٹ فونز کی طلب میں کمی آئے گی۔ یاد رہے کہ چین ان مصنوعات کے لیے دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ لیکن اس امید کے باوجود کہ کارخانے اور دکانیں آہستہ آہستہ کھل رہی ہیں، ایپل کی تنبیہ نے یہ واضح کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے چین کی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔ عالمی مالی فنڈ کی سربراہ کرسٹلینا گور گیوا نے کہا ہے کہ اس سے دنیا بھر کی شرح نمو میں 0.1 سے 0.2 فیصد کمی آئے گی۔ لیکن انھوں نے زور دیا ہے کہ وائرس کے معاشی اثرات کے حوالے سے فی الحال غیر یقینی ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں کار کی صنعت بھی متاثر ہوئی ہے کیونکہ اس کی سپلائی میں رکاوٹ آئی ہے۔ گذشتہ ہفتے کے دوران بڑے آلات بنانے والی کمپنی جے سی بی نے کہا تھا کہ وہ برطانیہ میں اپنی پیداوار کو روک رہے ہیں کیونکہ چین سے آنے والے پرزے کم پڑ رہے ہیں۔