بنگالیوں کے بال نارنجی کیوں ہوتے ہیں؟ایک دلچسپ اور معلوماتی رپورٹ

ڈھاکہ(ویب ڈیسک) بنگلادیش میں گزشتہ دہائیوں سے مہندی کا استعمال وسیع پیمانے پر کیا جارہا ہے لیکن اب مہندی کا استعمال بُلندی کی جانب جا رہا ہے جبکہ حالیہ برسوں میں بنگلا دیش کے عمر رسیدہ افراد کے لیے مہندی لگانا ایک فیشن بن گیا ہے۔ ڈھاکہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مہندی کا پاؤڈر با

آٓسانی بازاروں میں مل جاتا ہے اور اِس کو بالوں پر لگانا بھی آسان ہے، اُن کا کہنا ہے کہ اُن کے مسجد کے امام بھی اپنے بالوں، داڑھی اور مونچھوں پر مہندی لگاتے ہیں۔طاہر نے بتایا کہ مہندی لگانے سے اُن کے سُرمئی بال نارنجی رنگ کے ہوگئے جبکہ سیاہ بالوں پر اِس کا کوئی اثر نہیں ہوا ہے۔ڈھاکہ کے ہیئر ڈریسرز کا کہنا ہے کہ پہلے ہمارے پاس مشکل سے کوئی ایک دو گاہک آتے تھے جو اپنے بالوں پر مہندی لگواتے تھے لیکن اب لوگوں کی تعداد میں کافی حد تک اضافہ ہوگیا اور دِن بہ دِن یہ تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ہئیر ڈریسرز نے بتایا کہ صرف 40 منٹ تک مہندی کا پیسٹ بالوں یا داڑھی پر لگانے سے اُس کا رنگ نارنجی ہوجاتا ہے اور مہندی کے پاؤڈر کی قیمت صرف 15 ٹکہ ہے۔بنگلادیش میں لوگوں کے بال نارنجی رنگ کے کیوں ہوتے ہیں؟ پھر چاہے سر کے بال ہوں، داڑھی ہو یا مونچھیں سب کا رنگ نارنجی ہی ہوتا ہے۔بنگلادیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کی سڑکوں پر ہر مرد کے سر کے بال، داڑھی اور مونچھوں کا رنگ نارنجی ہوتا ہے ایسا لگتا ہے ڈھاکہ کی سڑکیں نہیں بلکہ کوئی فیشن اسٹیشن ہے جہاں سب کے بالوں کا رنگ ایک جیسا ہوتا ہے۔ڈھاکہ کی مقامی سبزی منڈی کے 60 سالہ پورٹر ابول میا کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے دو ماہ سے اپنی داڑھی پر مہندی لگارہے ہیں جس سے اُن کی داڑھی کا رنگ نارنجی ہوگیا ہے اور اُن کے گھر والے کہتے ہیں کہ وہ اب جوان اور خوبصورت لگتے ہیں۔ڈھاکہ یونیورسٹی کے ماہر معاشیات کے پروفیسر منیر الاسلام خان کا کہنا ہے کہ ’بنگلادیش کے لوگوں میں نارنجی داڑھی کی بڑھتی ہوئی تعداد اِس بات کی علامت ہے کہ یہاں کے لوگوں میں اسلام کی پیروکاری کا جذبہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔‘واضح رہے کہ بنگلادیش میں مسلم آبادی کی تعداد 168 ملین ہے۔