دنیا کا وہ منفرد زمین کا ٹکڑا جس کے مالک ہر 6 ماہ تبدیل ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔ ایک دلچسپ اور معلوماتی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان سمیت دنیا بھر میں عام طور پر زمین کے مالکانہ حقوق 90 سے 100 سال تک دیے جاتے ہیں۔لیکن دنیا میں ایک ایسا زمین کا ٹکڑا بھی ہے۔ جس کے مالک ہر 6 ماہ بعد تبدیل ہوتے ہیں اور سب سےدلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے مالک عام افراد نہیں بلکہ 2

ریاستیں ہیں۔آپ کے لئے ناقابل یقین بات یہ ہے کہ یورپ میں واقع ’فزنٹ آئی لینڈ‘ نامی 7 ہزار اسکوائر میٹر سے بھی کم رقبے پر پھیلا ہوا آئی لینڈ وہ واحد زمین کا ٹکڑا ہے، جس کا مالک ہر 6 ماہ بعد تبدیل ہوتا رہتا ہے۔’ اس چھوٹے مگر انتہائی اہم اور تاریخی آئی لینڈ کے مالک تبدیل ہونے کا یہ سلسلہ 350 سال سے جاری ہے۔اس آئی لینڈ کی مالکی ہر 6 ماہ فرانس اور اسپین میں تبدیل ہونے کا سلسلہ 1669 میں اس وقت شروع ہوا جب دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے ہونے والی جنگ کو ختم کرنے کا معاہدہ کیا گیا۔جنگ کو ختم کرنے کے معاہدے میں یہ بات شامل کی گئی تھی کہ اسپین اور فرانس کی سرحد کو ملانے والی جگہ پر واقع ’فزنٹ آئی لینڈ‘ کے انتطامات اور مالکانہ حقوق دونوں ممالک کے پاس ہوں گے۔معاہدے کے مطابق دونوں ممالک ہر 6 ماہ بعد ’فزنٹ آئی لینڈ‘ کے مالکانہ حقوق ایک دوسرے کو فراہم کریں گے اور تب سے آج تک اس زمین کے ٹکڑے کے مالکانہ حقوق دونوں ممالک میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق ’فزنٹ آئی لینڈ‘ دراصل اسپین اور فرانس کی زمینی سرحد کو ملانے والی جگہ پر موجود ایک زمین کا ٹکڑا ہے جو دونوں ممالک کی سرحد پر واقع دریا کے کنارے موجود ہے۔اس آئی لینڈ کے ابتدائی 6 ماہ کے مالکانہ حقوق اسپین جب کہ سال کے آخری 6 ماہ کے مالکانہ حقوق فرانس کے پاس رہتے ہیں۔اگرچہ اس آئی لینڈ کی مقامی آبادی کوئی نہیں ہے ۔لیکن آئی لینڈ کے آس پاس اسپین اور فرانس کی شہریت والے افراد بستے ہیں اور مقامی افراد میں اس آئی لینڈ کو انتہائی خاص اہمیت حاصل ہے۔آئی لینڈ کے ہر 6 ماہ بعد تبدیل ہونے والے مالکانہ حقوق کے بعد دونوں ممالک اپنی اپنی مدت کے دوران آئی لینڈ کی دیکھ بھال صفائی اور اسے سیاحوں کے لیے مزید بہتر بنانے کے انتطامات کرتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی آئی لینڈ پر موجود برجز بھی دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر بنائے اور ان برجز کے ذریعے ہی لوگ آسانی سے دونوں ممالک کی طرف سفر کرتے ہیں۔