اچھا تو اس لیے ہر وقت خیالی پلاؤ پکاتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔دنیا کے مشہور ترین کردار شیخ چلی کی انوکھی پریم کہانی آپ کو حیران کر ڈالے گی

لاہور (ویب ڈیسک) شیخ چلی بچوں کے ادب میں ایک لافانی کردار ہے اور عرف عام میں ایسے شخص کو کہا جاتا جو خیالی پلائو پکانے کا شوقین ہوتا ہے ٗ بڑی بڑی ہانکتا ہے اور عملاًکچھ نہیں کرتا۔ مگر یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ شیخ چلی جس کے مزیدار قصے

نامور کالم نگار محمد اویس غوری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ کہانیاں ہم سب نے پڑھ اور سن رکھے ہیں وہ کوئی خیالی یا تصوراتی کردار نہیں بلکہ ایک جیتا جاگتا انسان تھا۔ شیخ چلی کے آبائو اجداد کا تعلق امیر تیمور کے شہر ماور النہر سے تھا۔ شیخ ابوالغنم قراقری نے محبت کی شادی کی اور انہیں شہر سے اس لئے کوچ کرنا پڑا کیونکہ قحط سے ان کے جانور مرنا شروع ہوگئے تھے۔ انہوں نے اپنی عزیز از جان بیگم کو ساتھ لیا۔ شہر در شہر گھومنے کے بعد شیخ کو پناہ غزنی میں ملی جہاں پر وہ سلطان محمود غزنی کے دربار میںاہم مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ سلطان ہندوستان پر حملہ کرنے کا پروگرام بنا رہا تھا سو شیخ بھی اس کے ساتھ ہولئے اور فتح کے بعد ہندوستان ان کو اتنا بھایا کہ وہ یہیں رہنے لگے۔انہوں نے بدایوں کے ایک قصبے ’’چلہ‘‘ میں رہائش اختیار کی۔ شیخ ابو الغنم کی ساتویں پشت میں ’’ شیخ چلی ‘‘ پیدا ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ جب شیخ چلی پیدا ہوا تو اس کی ٹانگیں آسمان کی طرف اٹھی ہوئی تھیں ٗ دائی پریشان ہو گئی اور اعلان فرما دیا کہ شیخ چلی کے گھٹنے ہی نہیں ہیں۔ خیر ان کے والد نے جب جانچ پڑتال کی تو انہیں معلوم پڑا شیخ چلی کے گھٹنے بالکل موجود ہیں لیکن وہ اک عجب طبیعت کا مالک ہے ٗ اس نے جب ٹانگیں نیچے کیں تو کمرے میں قہقہے گونج اٹھے۔ یعنی شیخ چلی دنیا میں تشریف ہی اس لئے لائے تھے کہ

لایعنی باتیں کر سکیں ٗ بڑے بڑے بیانات دے سکیں ٗ بڑ ی بڑی ہانک سکیں ٗ نت نئے تجربات کر سکیں جن کا کوئی سر پیر نہ ہو ٗ لوگوں کو محظوظ کر سکیں ۔اس کو آج تک ان کے لایعنی اور مزیدار قصوں کی وجہ سے ہی یاد کیا جاتا ہے۔ شیخ چلی بچپن سے بہت ضدی تھا ٗ جس بات کی ٹھان لیتا پھر اس کے پیچھے پڑ جاتا اور آخر کار وہ چیز حاصل کر ہی لیتا۔ چاہے قیمت میں نیک نامی اور عزت قربان کرنی پڑتی۔وہ اکثر نجی محفلوں میں فخریہ کہا کرتا تھا کہ ’’ کوئی بھی اس وقت تک بڑا نہیں بن سکتا جب تک وہ اپنی باتوں سے مکرنا نہ سیکھے‘‘۔ایک بار اس کے والد نے شیخ چلی کو کہا کہ وہ ہر وقت فارغ بیٹھا منصوبے بناتا رہتا ہے کوئی کام نہیں کرتا اس لئے وہ جائے اور گائے کا دودھ نکالے۔ شیخ چلی کا موڈ ’’آن‘‘ تھا۔ وہ گیا ٗ برتن تھنوں کے نیچے رکھا اور لگا دودھ نکالنے کی کوشش کرنے۔ کئی گھنٹے کی کوشش کے باوجود لگتا تھا کہ آج گائے نے ایک قطرہ بھی دینے سے انکار کر دیا تھا۔ تنگ آکر شیخ چلی نے نعرہ لگایا کہ ’’میں کل ہی اس گائے کو قصائی کے ہاتھ بیچ دوں گا‘‘ جس پر اس کے والد نے آکر اس کی تصحیح کی کہ جہاں سے وہ دودھ نکالنے کی کوشش کر رہا تھا وہ گائے نہیں بلکہ بیل تھی۔ شیخ چلی اس ناکامی سے پریشان نہ ہوا۔ بلکہ اس کے اندرکا ضدی انسان جاگ گیا ٗ شیخ چلی نے سوچا

کہ کیوں گائے دودھ دیتی ہے اور بیل نہیں۔ آخر وہ کیا طریقہ ہے کہ بیل بھی دودھ دینا شروع کر دے۔ اس بات کیلئے غور و فکر کرنے کیلئے شیخ چلی کو کسی پرسکون جگہ پر جانے کی ضرورت تھی جہاں بیٹھ کر وہ اس اہم مسلے پر غور کر سکے۔ سو اس نے درختوں میں گھری قریبی پہاڑی کو اپنا مسکن بنا لیا ۔ وہاں غور و فکر پر اسے دیگر اہم عوامی مسائل بھی نظر آنا شروع ہوگئے۔ اس نے دیکھا کہ شہر کے لوگ بہت پریشان ہیں ٗ امیر لوگ ان کا استحصال کرتے ہیں اور آخر وہ کیا طریقہ ہو سکتا ہے کہ اس کے شہر کے غریب لوگ امیر بن جائیں ٗ سب چور جو اس شہر کی دولت کھا رہے ہیں ان کے بیٹوں سے غریبوں کا مال واپس نکلوایا جائے؟ شیخ چلی نے باقی سب منصوبے ملتوی کئے اور سوچنا شروع کر دیا کہ آخر وہ کیسے اس شہرکے لوگوں کی تقدیر بدل سکتا ہے ۔ جواب اسے ایک خواب کی صورت میں مل گیا ۔ شیخ چلی کو خواب میں ایک ایسا طریقہ آیا کہ وہ اپنے شہر والوں کی حالت بدل سکتا تھا ۔لوگ اس کی باتوں کو قطعاً سنجیدہ نہیں لیتے تھے کیونکہ شیخ چلی نے ساری زندگی خود توکوئی کاروبار کیا نہیں تھا ٗ بس اپنی حرکتوں سے لوگوں کا دل لگا کہ رکھتا اور اس کا گزارا چلتا رہتا ۔ شیخ چلی نے گھر آکر اپنی ماں کو کہا کہ وہ فوری طور پر اسے 100انڈوں کے پیسے دے کیونکہ اس نے اپنے گائوں کے لوگوں کی تقدیر بدلنی ہے۔

اس کی ماں یہ بات سن کر پریشان ہو گئی کہ اس کے نکھٹو پنے کی وجہ سے گھر میں فاقے رہتے ہیں تو کیسے اسے 100انڈوں کے پیسے دئیے جائیں۔ شیخ چلی نے اس کا یہ حل نکالا کہ گھر کا سارا سامان بیچا اور پھر انڈے خریدے جائیں کیونکہ یہی ایک طریقہ تھاجس کے ذریعے اس کے گھر اور شہرکے حالات بدل سکتے تھے۔ خیر اس منصوبے پر عمل کیا گیا اور شیخ چلی سیدھا دکان پر پہنچا اور دکاندارکو انڈوں کا آرڈر دیا۔ دکاندار حیرانی سے: شیخ چلی ! آخر تم نے اتنے انڈوں کا کیا کرنا ہے؟ تم نے تو میری دکان ہی خالی کر دی ہے۔ شیخ چلی :بے وقوف انسان ٗ تمہارے باپ کے انڈے ہیں ؟ تمہیں کیا پتہ مہذب ملکوں میں کیسے غریبوں کی مدد کی جاتی ہے؟۔ مجھے خواب میں بشارت ہو گئی ہے ‘‘۔دکاندار: اچھا !یہ لو انڈوں کی ٹوکری ٗ میری دکان تو ویسے بھی خالی ہو گئی ہے ٗ میں تمہارے ساتھ ہی چلتا ہوں تم راستے میں مجھے اپنا خواب بھی بتا دینا ‘‘۔ شیخ چلی اور دکاندار ایک گدھے پر بیٹھ گئے اور چلے گھر کی طرف ۔ دکاندار : شیخ چلی !اب بتائو آخرکیا طریقہ خواب میں آیا ہے تمہیں ؟ شیخ چلی (پرسوچ انداز میں):میں ان انڈوں پر مرغیاں بٹھائوں گا ٗ چوزے نکلیں گے ٗ جو بڑے ہو کرمرغیاں بن جائیں گی ٗ وہ انڈے دیں گی اور مرغیاں ہوں گی۔ جنہیں بیچ کر میں بکریاں خریدوں گا ٗ ان بکریوں سے بچے ہوں ٗ انہیں بیچ کر بھینسیں خریدوں گا ٗ ان کے بچے ہوں ٗ بہت سارے بچے ہوں ٗ پھر ان سے بہت ساری بھینسیں ہو جائیں گے ٗ پھر ان سب کو بیچ کر میں گھوڑوں کا سوداگر بن جائوں گا۔ پھر میں شہر کی سب سے خوبصورت جگہ پر محل بنائوں گا اور ملک کے تمام غریبوں کو بلا کر ان کے مسائل حل کروں گا ٗ کبھی گھوڑوں کے پروٹوکول میں محل سے نہیںنکلا کروں گا ٗ تمام غریبوں کو رہنے کیلئے گھر ٗ کھانے کیلئے روٹی اور روزگار فراہم کروں گا ٗ مہنگائی کم کروں گا اور دوسرے ملکوں کا قرضہ واپس کروں گا ٗ مر جائوں گا لیکن دوسرے ملکوں سے قرضہ نہیں مانگوں گا۔پھر میں شادی کیلئے بادشاہ سے شہزادی کا ہاتھ مانگنے جائوں گا۔ دکاندار نے ٹوکا: مگر تمہیں تو شاہی خاندان سے بات کرنے کے آداب بھی نہیں آتے تو کیسے رشتہ مانگو گے ۔ شیخ چلی : ایسے ہی نہیں آتے ٗ میں بادشاہ کے سامنے دوزانو بیٹھوں گا اور سر جھکا کر کہوں گا شیخ چلی کے سر جھکانے کی دیر تھی کہ ٹوکرا ٗ 100انڈے اور غریبوں کا مستقبل سب کچھ زمین بوس ہو چکا تھا ۔ پس تحریر: تمام واقعات فرضی اور تصوراتی ہے ۔ کسی بھی شخص سے مماثلت محض اتفاقی بھی ہو سکتی ہے۔(ش س م)