امیر افراد کے پسند سب سے زیادہ تیز رفتار کنکارڈ طیاروں کو کس خرابی کی وجہ سے ختم کر دیا گیا ؟ ایک معلوماتی خبر

لندن (ویب ڈیسک) کنکارڈ طیارے نے اپنے ڈیزائن، منفرد انداز کے پروں اور آگے کی جانب جھکتی ہوئی’ناک‘کی وجہ سے مستقبل کے ایک تصوراتی جہاز کو حقیقت کا روپ دیا تھا۔ یہ جہاز اپنی نمایاں رفتار کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہوا۔ یہ دو ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

کنکارڈ طیارے کے بارے میں بظاہر سب کچھ اچھا دکھائی دیتاتھا۔ لیکن حیقیت میں اس جہاز میں سفر کرنا نا صرف بہت ہی مہنگا تھا بلکہ دوران پرواز اس جہاز میں شور بھی بہت ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ کنکارڈ ایندھن بھی بہت زیادہ استعمال کرتا تھا۔ یہ جہاز پچیس ہزار چھ سو لیٹر کیروسین فی گھنٹہ خرچ کرتا تھا اور اس میں صرف 128 مسافر بیٹھ سکتے تھے۔ معاشی طور پر یہ قابل عمل نہیں دکھائی نہیں دیتا تھا۔ کنکارڈ کو امیروں اور مشہور افراد کی وجہ سے جانا جانے لگا تھا۔ معروف ماڈل سنڈی کرافورڈ، کلاؤڈیا شیفر اور ٹینس کھلاڑی آندرے اگاسی تواتر کے ساتھ کنکارڈ کی مہنگی ترین خدمات سے فائدہ اٹھانے والوں میں سے تھے۔ عام طور پر لندن یا پیرس سے نیو یارک کا ٹکٹ کئی ہزار ڈالرز کا ہوتا تھا۔ جولائی پچیس 2000ء کو کنکارڈ کے حوالے سے سب کچھ یکسر تبدیل ہو گیا۔ اس روز ایئر فرانس کی فلائٹ 4590 پرواز کے منٹ بعد ہی گر کر تباہ ہو گئی۔ رن وے پر پڑے ایک ٹکڑے نے پہلے پہیے کو پنکچر کیا اور پھر ایندھن کے ٹینک کو نقصان پہنحایا۔ اس کی وجہ کنکارڈ کا انجن فیل ہو گیا اور وہ ہوائی اڈے کے قریب ایک ہوٹل پر گر گیا۔ کنکارڈ کے اس حادثے میں جہاز پر سوار ایک سو نو مسافر اور ہوٹل میں موجود چار افراد ہلاک ہوئے۔ اس حادثے کے بعد اس جہاز کے طویل المدتی استعمال کے حوالے سے شکوک و شبہات بھی بڑھ گئے اور اس صورتحال میں اس سپر سونک کو

گراؤنڈ کرنےکا عمل تیز ہو گیا۔ کنکارڈ 2003ء میں آخری مرتبہ اڑا تھا۔ 2018ء میں امریکی خلائی مرکز ’ناسا‘ نے امریکی ادارے لاک ہیڈ مارٹن کوکنکارڈ طیارے کا نیا اور جدید ترین ماڈل تیار کرنے کا کہا۔ ایکس پلین نامی یہ طیارہ آواز سے بھی تیز رفتار سفر کرے گا اور وہ بھی سُپر سونک شور کے بغیر۔ توقع ہے کہ ’ایکس پلین‘ کو سن2021 تک تیار کر لیا جائے گا۔ اس منصوبے کے حوالے سے بہت کم ہی معلومات سامنے آئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس طیارے کے ذریعے پیرس سے نیویارک کا سفر صرف تین گھنٹے میں طے کر لیا جائے گا۔