ڈر اور خوف کے بغیر علاج : میڈیکل کے شعبہ میں انقلابی فارمولا دریافت ۔۔۔ آپریشن سے ڈرنے والے مریضوں کے کام کی خبر

پنسلوانیا (ویب ڈیسک) طبّی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ اگر سرجری کےلیے لے جانے سے پہلے مریض کو مدھر اور کانوں میں رس گھولنے والی موسیقی سنا دی جائے تو وہ کسی سکون آور دوا کی طرح کام کرتے ہوئے اس کا اعصابی تناؤ ختم کردیتی ہے۔ یعنی موسیقی صرف روح کی غذا نہیں بلکہ اعصاب کی دوا بھی ہے۔

واضح رہے کہ آپریشن سے پہلے اکثر مریضوں کو اختلاج ہونے لگتا ہے اور ان میں اعصابی تناؤ بڑھانے والے ہارمونز کی مقدار بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایسے میں اعصاب کو سکون پہنچانے کےلیے عموماً جو دوائیں دی جاتی ہیں ان کے سائیڈ ایفیکٹس بھی ہوتے ہیں جو سانس لینے میں دشواری اور دورانِ خون میں عدم توازن سے لے کر غصہ اور جھلاہٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔یہ مسئلہ حل کرنے کےلیے یونیورسٹی آف پینسلوینیا کی ڈاکٹر وینا گراف اور ان کے ساتھی گزشتہ چند سال سے موسیقی کو بطور متبادل سکون آور آزمانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے اپنی حالیہ تحقیق کے نتائج ’’ریجنل اینستھیسیا اینڈ پین میڈیسن‘‘ نامی ریسرچ جرنل میں شائع کروائے ہیں۔157 بالغ افراد پر کی گئی اس تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ اگر آپریشن سے پہلے مریض کو اچھی اور کانوں میں رس گھولنے والی موسیقی سنائی جائے تو اس سے بھی مریض کے اعصابی تناؤ میں ٹھیک اسی طرح کمی واقع ہوتی ہے جیسی سکون آور دوائیں دینے پر۔ البتہ اس تحقیق کے دوران کچھ دوسرے مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔ مثلاً یہ کہ جو مریض پہلے سے یہ طے کیے ہوئے تھے کہ سکون آور دوا ہی ان پر اثر کرے گی، ان کے اعصاب پر موسیقی کا اثر خاصا کم ہوا۔ اسی طرح کچھ مریضوں نے شکایت کی کہ اسپتال کا عملہ انہیں اپنی من پسند موسیقی سنوا رہا ہے جبکہ وہ کسی اور قسم کی موسیقی کو سکون کا باعث سمجھتے ہیں۔ڈاکٹر وینا گراف کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ مطالعے میں موسیقی اور اعصاب کو سکون پہنچنے کے درمیان تعلق واضح ہوگیا ہے لیکن موسیقی کو متبادل کے طور پر متعارف کروانے سے پہلے ایک اور طویل مطالعہ کرنا ہوگا جس میں موجودہ مطالعے کی خامیاں دور کرتے ہوئے مریضوں کا جائزہ لیا جائے گا۔