You are here

بزرگوں کی برکت

بزرگ اگر گھر میں ہوں تو ان کی وجہ سے جو رونق لگی رہتی ہے، جو مصروفیت کا عالم ہوتا ہے، جس قدر بتانا ،بولنا پڑتاہے،اُس کا ذکرکرتے ہیں اور اس حالات کامزہ لیتے ہیں جو ہمارے بیشتر گھروں میں پیش آتی ہے لیکن کم لوگ ہی اس کو انجوائے کرتے ہیں زیادہ تر تو اس سے دور بھاگتے ہیں کہ کون اس وادی پرخار میں قدم رکھےحالانکہ بشرطِ زندگی ایک نہ ایک دن توسب نے ہی اس حالت کو پہنچنا ہے۔

اب کسی گھرکاجائزہ لیتے ہیں جہاں دادا،دادی کی صورت میں بچوں کو تازہ کمک کی فراہمی فوری طور پر اس وقت ہوجاتی ہے جب اماں،اباکی طرف سےکسی حرکت پرانکی گرفت کرنےکی کوشش کی جاتی ہے۔۔والدین کی طرف سے ایسی کسی جرات کی فوری بیخ کنی کی جاتی ہے، انکا یہ ارمان دل ہی میں رہ جاتا ہے کہ بچوں کو قرار واقعی سزا دی جاسکے، ہمارے اماں، ابا جو ماشا اللہ بقید حیات ہیں ، بچوں کوڈانٹنےپرہماری وہ کلاس لیتے ہیں کہ ہم جان چھڑا کربلکہ دم دبا کر بھاگ پڑتےہیں، مرے پر سو درے والی صورتحال اس وقت ہوجاتی ہے جب وہ ہمارے بچپن کے کارنامے ہمارے بچوں کو سنانا شروع کردیتے ہیں ، بتاتے ہیں کہ یہ کسی کی کم ہی سنتا تھا ، اب بڑا طرم خان بنا گھومتا ہے ، خوب شرارتیں بھی کرتا تھا ، پڑھائی نہ کرنےپرپٹائی بھی ہوتی تھی اسکی ، کھانے پینےمیں بھی نخرے دکھاتا تھا ، کسی پل اسکو چین نہ ہوتا تھا ، گرمیوں کی دوپہر میں بھی کرکٹ کھیلتا تھا ، دونوں ہمارا پورا اعمال نامہ انکو سناکر وہ سارا مواد فراہم کردیتے ہیں کہ کسی طوربچت کا امکان ہی نہیں رہتا ، اب آپ لاکھ سمجھائیں کہ یار بچوں کے سامنے اس طرح کی بات نہ کریں ۔

انہوں نےسمجھ کرنہیں دینا ،بچےپوری توجہ اوردلجمعی سےہمارا حال برا ہوتے دیکھتےہیں ، پھرکسی مناسب وقت پر ہم سے سوال بھی کردیا جاتا ہےکہ ابو واقعی آپ اتنے شرارتی تھے،اب انکو گھورکردیکھو تودادا، دادی کی طرف سےہمارے ریڈ وارنٹ جاری کئےجانےکےامکانات روشن ورخشاں ہوجاتےہیں، ایک بارپھر وہ بگڑ جاتے ہیں کہ تم کو تو بچوں سے بات کرنا ہی نہیں آتی ، ڈانٹ ڈپٹ سےبچے غلط راہ پر نکل پڑتے ہیں، کس طرح بچے پالے جاتے ہیں نہ تم کوکچھ پتہ نہ تمہاری بیگم کو، پھر کچن سےہماری نصف بہتر کے برتن پٹخنے سے ہمیں پتہ چل جاتا ہے کہ انکو بھی خبر ہوگئی ہے ۔۔۔ پھر کہانی میں ایک ٹوئسٹ آتا ہے، فطری اتحادیوں میں اس وقت پھوٹ پڑجاتی ہےجب بچےدادا، دادی کا کوئی کام نہ کریں ، پھر ہم سےمدد لی جاتی ہے، شکایت بھی لگائی جاتی ہےلیکن ساتھ ہی انکےبگڑنےکاساراالزام ہماری بیگم صاحبہ کے اکاؤنٹ میں کریڈٹ کردیا جاتا ہے۔ ابا جان کواخبار بینی کا بے حد شوق ہے ، ساتھ میں مطالعے کے بے پناہ رسیا ، پوری الماری انکی کتابوں سے بھری ہے ہم سے نئی مطبوعات کے لئے ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی تقاضہ ہورہا ہوتا ہے اب انکو کون سمجھائےکہ قوم لبرل ہوچکی ہےاور ترقی یافتہ بھی اسلئےکتابوں اور خاص طورپرسنجیدہ موضوعات کی کتابوں کوپوچھنے والے اب بہت کم رہ گئے ہیں، تب بھی کہیں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر کوئی کتاب لادی جائے تو دو تین دن میں نمٹادیتے ہیں اورپھرکسی نئی کتاب کامطالبہ، ساتھ میں ہمیں بھی وہ کتاب پڑھنے کا حکم جاری کرتے ہیں تاکہ وقت ملنے پر اس کتاب پرسیر یاکلوحاصل پرمغز گفتگو/بحث ہوسکے۔

ابا جان کو بھولنے کا مرض ہے ، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم کوئی گرما گرم ، پھڑکتی ہوئی سیاسی خبرانکوسنادیتےہیں ، اسکے بعد آدھا ایک گھنٹہ ان سے اس موضوع پر خوب گپ شپ ہوتی ہے ، جب ہم ذاتی خیال میں انکی مکمل سمع خراشی کرچکے ہوتے ہیں تووہ ایک ایسا سوال داغ دیتےہیں جس سےہم ڈائریکٹ وہاں پہنچ جاتے ہیں جہاں سےبات چیت شروع ہوئی تھی،اب یہاں یہ نہیں کہہ سکتے کہ پھر پوچھتے ہیں کہ زلیخا مرد تھی یا عورت ، امی کو شک ہوجائے گا ، ابا کو بات سنبھالنا مشکل ہوجائے گی،مثال کے طور پر پانامالیکس پر بات ہوئی،ہم نے پوری تفصیل کے ساتھ سارا معاملہ انکے سامنے رکھ دیا، جب ہم پرجوش خطاب کرچکے تو انکا معصومانہ سوال تھا ملک کا وزیراعظم کون ہے،پانامہ کیس میں کس کےخلاف کارروائی کاامکان ہے،یہ سب کچھ سُن کر ہمارا حال ویسا ہی ہوجاتا ہے جیسے کسی شاعر کو پورا مشاعرہ سننا پڑا ہو اور اسکی باری آنے سے پہلے محفل کا اختتام ہوجائے۔ کوئی رشتےدارملنے کوآجائے تواس سے خیرخیریت معلوم کرنے کے بعد اپنی داستان حیات سنانامحبوب ترین مشغلہ ہے ۔۔اب وہ غریب لاکھ جان بچانا چاہے، لیکن اسکی گلو خلاصی نہیں ہوسکتی ، الٹا ناراضگی ظاہر کردی جاتی ہے ۔۔کسی کے ہاں جانے سے پہلےاولین شرط یہ ہوتی ہے کہ انکے ہاں اگر کوئی بزرگ موجود ہے تو ٹھیک ورنہ انکو تکلیف نہ دی جائے۔

کھانے پینے کے معاملے میں بھی سچویشن کچھ زیادہ مختلف نہیں،اگرانہوں نے کسی شے کو کھانے سے انکار کردیا تو پھر وزارتِ صحت بھی انکی نا کو ہاں میں تبدیل نہیں کرسکتی، لائٹ چلی جائے، یو پی ایس کا متبادل انتظام ہو تو ٹی وی دیکھنے اور خاص طور پر رات نو بجے کا نیوزبلیٹن انکےاولین ٹارگٹس میں شامل ہوتا ہے۔۔دوسری صورت میں بجلی جانے یا نہ جانے کے حوالے سے وہ تحفظات اورخدشات کااظہارکرنے میں ذرا بھی نہیں چوکتے ۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ،ان کوہینڈل کرنابھی دشوار،لیکن ان بزرگوں کےدم قدم سے جورونق ہے،جوانکے وجود کی برکات ہیں، ان کی دعاؤں کی بدولت جوآسانیاں مجھ کواورمیری فیملی کو حاصل ہیں ، جو رب تعالٰی کی جانب سے انعام و اکرام کی بارش ہے وہ اربوں گنا زائد ہے، ہمارے چہرے پر تھوڑی سی ٹینشن دیکھ لیں تو پیچھے پڑجاتےہیں بتاؤکیامسئلہ ہے،کیوں اس طرح پریشان ہو،ہمیں تھوڑابہت تو انفارم کروایک منٹ میں سب کچھ ٹھیک کئےدیتےہیں، پھر ہمیں نماز کی تلقین، اللہ پرتوکل کی ہدایت ، راضی برضا رہنے کی تاکید، جو مل جائے اس پر قناعت کرنے کی نصیحت،غرض یہ کہ دینی ہودنیاوی، دونوں اعتبارسےزندگی کے فلسفے کو جس طرح انہوں نے سمجھا ہے، جس طرح مشکلات کا مردانہ وارمقابلہ کیا ہے وہ کوئی آسان بات نہیں ، اسلئے ہم تو اللہ تعالی سے یہی دعا کرتےہیں کہ ہمارے گھر میں بزرگوں کےدم سےجونعمتوں کی بارش ہے اس میں وقت گذرنےکےساتھ مزیدتیزی آئےآمین ثم آمین ،اپنےبزرگوں کےلئےہم اورہماری فیملی دیدہ ودل فرش راہ کئے ہوئےہیں۔۔ دوسرے افراد سے ایک درخواست اپنے بزرگوں کے ساتھ ان لمحات کو انجوائےکریں ،یقین کریں ،بہت مزہ آئے گا۔

Top