مائی لارڈ ۔۔۔رومی پراسیکیوٹر کے حضرت عیٰسی ؑ کے خلاف عدالت میں دلائل ۔۔۔399 قبل مسیح سقراط کی مقدمہ جیوری میں پیشی،پڑھیے نامور کالم نگار سہیل وڑائچ کی عدالتی نظام پر قابل رشک تحریر

لاہور (انتخاب /چوہدری ذیشان عمر )سر جھکا کر اور انصاف کے لیے ملتجی ہوکر خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ کر عرض ہے، می لارڈ کہنا، فاضل جج کو اپنا مالک و مختار سمجھنا، دراصل جج کو خدائی انصاف کے اوصاف کا پرتو سمجھنا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا عادل و منصف خود خدا تعالیٰ ہے، اس لیے دنیا بھر کی عدالتوں
سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بغض و عناد، غصے یا خوشی سے بالاتر ہو کر خدائی اوصاف کے عکس پر عدل و انصاف سے فیصلے کریں۔می لارڈ! آج سے 2416 سال پہلے جب ابھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اس دنیا میں نہیں آئے تھے۔ یونان کے شہر ایتھنز کی ریاست میں 399 قبل مسیح یا پچانوے اولمپیا کا پہلا سال تھا، جب 70سالہ سقراط کا مقدمہ جیوری میں پیش ہوا۔ سقراط پر الزام تھا کہ یہ دیوتاؤں کو نہیں مانتا، یہ توہین کرتا ہے، نوجوان نسل کو گمراہ کرتا ہے۔ 501 افراد پر مشتمل جیوری نے سقراط کے خلاف مائیلی توس، لائی کون اور انیطوس کے دلائل سنے اور اسے موت کی سزا سنا دی۔ سقراط کے خلاف یہ مقدمہ اور زہر کا پیالہ پینے کی سزا نظام عدل و انصاف کے خلاف ایک موثر دلیل کے طور پر پیش کی جاتی رہی ہے اور آج بھی پیش کی جاتی ہے۔ تاریخ میں سقراط کا نام تو سنہری حروف میں درج ہے مگر اس کو سزا دینے اور دلوانے والے حرف غلط کی طرح تاریخ کے اوراق میں کہیں جگہ نہیں پا سکے۔می لارڈ! تاریخ کی یہ سزا کیا کم ہے کہ گناہ گار اور سزا یافتہ، توہین کرنے والے سقراط کو تو لوگوں نے یاد رکھا
اور اسے ہیرو بنا ڈالا مگر اس کو سزا دینے اور دلانے والے ولن بن گئے۔ ہسٹری آف سویلائزیشن کے مصنف وِل ڈیورانٹ (Will Durrant) لکھتے ہیں کہ 28ء میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جب رومی پراسیکیوٹر پونٹیس پائلیٹ نے سزا سنائی تو ان کے خلاف باقاعدہ گواہیاں دی گئیں، اس وقت ایک گروہ حضرت عیسیٰ کو سزا دلوانا چاہتا تھا مگر عام لوگ ان کے ساتھ تھے اور ان کے لیے رو رہے تھے اور ماتم کر رہے تھے۔ پھر تاریخ نے دیکھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو امر ہوگئے اور اُس ظالم رومی پراسیکیوٹر کو روم بلا کر خود رومیوں نے سزا دی۔می لارڈ! اکثریت سے اختلاف کرنے والے اکثر مجرم قرار پاتے ہیں مگر تاریخ میں فیصلہ یہ آتا ہے کہ وہ مجرم سچے تھے اور اس وقت کی اکثریت کی رائے غلط تھی۔ابن رشد کو مسلم فیلسوف میں اعلیٰ مقام حاصل ہے، آج سے 823 سال پہلے کے ہسپانیہ میں حاکم وقت منصور بن یعقوب نے ان کو اس لیے جلاوطن کردیا کہ اس نے حاکم کو بربروں کا بادشاہ لکھا تھا۔ مولانا محمد یونس انصاری فرنگی محلی لکھتے ہیں کہ منصور بن یعقوب کو کہا گیا کہ ابن رشد ملحد اور بے دین ہوگیا۔ یہ توہین کرتا ہے۔
تب تاریخی مسجد قرطبہ میں ایک عدالت یا دربار منعقد کیا گیا۔ ابن رشد مع شاگردوں کے عدالت میں حاضر ہوا، جس میں تمام فقہا اور علماء شریک تھے، ابو علی حجاج نے بادشاہ کی اجازت سے یہ اعلان کیا کہ ابن رشد ملحد اور بے دین ہوگیا ہے چنانچہ اسے سزا سنا کر یہودیوں کی بستی بوسنیا میں جلاوطن کردیا گیا۔ آج توہین کرنے والے ابن رشد کا نام زندہ ہے اور محمد علی حجاج اور منصور بن یعقوب جو ابن رشد کے خلاف فیصلے کرتے رہے وہ تاریخ میں معتوب ٹھہرے۔می لارڈ! ابن رشد کو سزا دینے سے فلسفہ ختم نہیں ہوا، حالانکہ حاکم وقت یہی چاہتا تھا، لیکن سزا کے باوجود سوچ کے در بند نہیں ہوئے۔ گو فلسفہ اور سائنس کی کتابیں جلا دی گئیں مگر فلسفہ اور سائنس کو مزید ترقی ملی۔ آزاد فکری اور آزادی رائے پر پابندی سے تو آزادیاں مزید فروغ پاتی ہیں۔پاکستانی عدلیہ پر مولوی تمیز الدین کیس سے لے کر اسمبلیوں کی تحلیل کے مقدمات تک اعتراضات کا پورا دفتر موجود ہے، بھٹو کیس ہو یا نواز شریف کا پاناما کیس، دونوں مقدمات عوامی عدالت میں آج بھی زیر بحث رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ عوامی عدالتوں کے فیصلے تاریخ میں نمایاں جگہ پاتے ہیں
اور پھر ان فیصلوں پر اعتراضات آہستہ آہستہ فیصلوں کی جگہ لے لیتے ہیں، لوگوں کو ان فیصلوں کے پس پردہ حقائق یا الزامات یاد نہیں رہتے بلکہ ان فیصلوں کی کمزوریاں اور غلطیاں ازبر ہو جاتی ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ بھٹو کیس کی نظیر عدالتوں میں پیش نہیں ہوتی، سنا گیا ہے کہ نہ بھٹو سے پہلے کسی کو مشورے میں پھانسی کی سزا ملی اور نہ اب ملتی ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو عدالتیں اس مقدمے کی ازسرنو سماعت کرکے خود کو اس تاریخی بوجھ سے آزاد کیوں نہیں کرتیں؟ایک بار پھر سے پاکستانی سیاست، انصاف کے ایوانوں میں حاضر ہے، ماضی میں انصاف کے ایوانوں سے سیاست کو کم ہی انصاف ملا ہے۔ تاریخ کا پہیہ پھر سے گردش میں ہے، عدلیہ میں بہت تبدیلیاں آچکیں، آج کے فاضل جج صاحبان دنیا کے بہترین ججوں میں شمار ہوتے ہیں، تاریخ کا گہرا شعور رکھتے ہیں، جمہوریت پر مکمل ایمان رکھتے ہیں، آئین کی حفاظت کا پورا خیال رکھتے ہیں، ان سے معمولی اختلاف، آئین کی اس تشریح پر ہے جہاں وزیراعظم کو پارلیمان کی بجائے آئین کی پیچیدہ تشریحات سے نکال باہر کیا گیا۔می لارڈ! کون ہے جو عدالت کے سامنے جھک کر اپنے آپ کو فاضل جج کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑتا؟
کون ہے جو عدالت کے فیصلوں پر عمل نہیں کرتا ؟کیا بھٹو می لارڈ، می لارڈ کہتے پھانسی کے پھندے پر نہیں جھولا؟ کیا بے نظیر بھٹو عدالتوں کی راہدایوں میں انصاف کے لیے ماری ماری نہیں پھرتی رہی؟ کیا نوازشریف کو طیارہ اغوا کیس میں سزا نہیں دی گئی تھی؟ کیا یوسف رضا گیلانی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے تھے؟ کیا انہوں نے سزا سنائے جانے پر فوراً استعفیٰ نہیں دے دیا تھا؟ کیا راجہ پرویز اشرف عدالتوں کے سامنے سر جھکاتے نہیں رہے؟ کیا آصف علی زرداری نے کبھی توہین عدالت کی؟ زرداری نے بطور صدر عدالت کے کہنے پر پارٹی عہدہ چھوڑ دیا تھا کہ نہیں؟ نوازشریف ہر روز سر جھکائے عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں یا نہیں؟ کیا عدالت کے فیصلے پر وزارت عظمیٰ چھوڑنے میں انہوں نے کسی تامل سے کام لیا؟ اگر ہر کوئی سر جھکا کر عدلیہ کے فیصلوں کی تعمیل کرتا ہے تو پھر غصہ کیوں؟نہال ہاشمی یا طلال چودھری جیسوں کی جذباتی تقریروں پر توہین کی سزائیں کیوں؟کیا نہال ہاشمی نے سزا قبول کی یا نہیں؟کیا پرندے پھڑپھڑائے بھی نہ، کیا قیدی صیاد سے شکایت بھی نہ کرے۔می لارڈ! آپ سے بہتر کون جانتا ہے کہ جرم سزاؤں سے کم نہیں ہوتے، معاشرے میں عدل سے ختم ہوتے ہیں۔ عدالتوں کا احترام خوف سے قائم نہیں ہوتا، توہین عدالت کی سزا سے عدلیہ کے احترام میں اضافہ نہیں ہوگا۔اقتباس ۔۔:کالم ۔۔!!سہیل ورائچ