You are here
Home > اسپشیل اسٹوریز > دلچسپ و عجیب وا قعات > میں اپنا لہو کس کے ہاتھ پہ تلاش کروں۔۔۔ سارا سال دوبئی میں محنت مزدوری کر نے والا اسلامی جمہوریہ پاکستان پہنچتے ہی قتل ہوگیا

میں اپنا لہو کس کے ہاتھ پہ تلاش کروں۔۔۔ سارا سال دوبئی میں محنت مزدوری کر نے والا اسلامی جمہوریہ پاکستان پہنچتے ہی قتل ہوگیا

‬سارا سال دبئی کی گرمی میں دن رات کام کرنے کے بعد وہ جب ائیر پورٹ پہ ہاتھ میں پاسپورٹ اور بورڈنگ پاس لیکر انتظار گاہ میں بیٹھا ہوگا تو پاکستان جاکر اپنی ماں اور بہنوں کے گلے لگ کر ملنے والی خوشی کا سوچ کر دل ہی دل میں کتنا مسکرایا ہوگا۔

گھر والوں کے لیے اس نے کتنے ارمانوں سے گفٹ لیئے ہوں گے۔کتنا خوش ہوا ہوگا کہ وہ جا کر دلہا بنے گا ماں باپ اور بہنوں کے میں گھل مل کر ایک نئی زنندگی کی شروعات کرے گا۔ اپنے دوستوں میں بیٹھ کر پرانی یادیں تازہ کرے گا۔لیکن اسے معلوم نہ تھا کہ وہ نو لاکھ مردہ انسانوں کی بستی میں جارہا ہے جہاں بے رحمی سے اس کے سینے اور سر میں گولیاں داغ دی جائیں گی، کیا معلوم تھا اُسے کہ وہ اس دشمنی کی بھینٹ چرھنے جارہا ہے جو کبھی اس کی تھی ہی نہیں۔دن دیہاڑے بیچ بازار اسے گولیوں سے بھون دیا گیا مگر کوئی قیامت برپا نہ ہوئی نہ زمین پھٹی نہ آسمان گرا وہ تڑپتا رہا اور تڑپ تڑپ کر پکارتا رہا کہ مجھے ہسپتال لے جاؤ مگر یہ بے ضمیر کوہاٹی ہاتھوں میں موبائل لیے اس کی ویڈیو اور تصاویر بنا بنا کر اسے موت کے منہ میں دکھیلتے رہے۔ایک تماشہ تھا، آس پاس کھڑے زندہ لعشوں کے بیچ وہ دم گھٹ گھٹ کر مدد مانگ رہا تھا مگر کسی کو توفیق نہیں تھی کوئی گاڑی روک کر اس ہسپتال تو پہنچا تو دیتا،حتٰی کہ پولیس تک وہاں بے حس و حرکت کھڑی رہی اور جب وہ اس کی روح نے اس کے جسم سے ناطہ توڑا تو پھر اس کے ٹھنڈے جسم کو گاڑی میں ڈال کر اس کی ماں اور بہنوں کے سامنے رکھ دیا گیا جب وہ اس کی شادی کا ارمان لیئے اس کے گھر آنے کا انتظار کر رہی تھیں۔اس کی تو زندگی تھی ہی اتنی مگر جاتے جاتے وہ بتا گیا کہ کوہاٹ میں انسانیت کب کی دم توڑ چکی ہے۔اللہ تمہاری قبر کو نور سے منور کرے بھائی مجھے تو تمہارا نام بھی نہین پتہ بس سوشل میڈیا پہ تمہیں کل دیکھا 🙁 اللہ تمہارے گھر والوں کو بھی صبر دے اور کوہاٹ والوں کو ڈوب مرنے کے لیے چلو بھر پانی بھی۔

Top