پاکستانی شوبز میں نووارد لڑکیاں نئی گاڑی کس چکر میں خریدتی ہیں ۔۔۔۔ ؟ مشہور پاکستانی اداکارہ نے پول کھول دیا

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستانی اسٹیج کی نامور اداکارہ اور پرفارمرسیمی خان نے کہا ہے کہ نئی گاڑی کا مطلب اچھی اداکارہ نہیں ہوتا اور نہ ہی نئی گاڑی خرید لینے سے کوئی لڑکی بڑی اداکارہ بن سکتی ہے ۔ اگر پیسوں سے اداکاری آتی تو آج لاکھوں لڑ کیاں ادکارہ ہوتیں ۔

سیمی خان نے بد قسمتی سے پیسے کے زور پر شوبز اور سٹیج پر آنے والی ادکارؤں نے ماحول کو تباہ کر دیا ہے اور اگر کوئی سمجھتی ہے کہ وہ نئی گاڑی لینے سے نامور ادکارہ بن جاتی ہے تویہ اس کی بھول ہے کیونکہ جس شعبے میں تر بیت کی بجائے پیسے کو استعمال کر کے آگے بڑ ھنے کی کوشش کی جائے وہاں ناکامی کے سواکچھ نہیں ملتا اس لئے تر بیت اور معیار ضروری ہے ۔ جبکہ ایک اور خبر کے مطابق سٹیج ڈراموں میں بڑھتی ہوئی فحاشی کے خاتمے کے لئے کبھی عملی اقدامات نہیں کئے گئے ہر دفعہ باتوں کی حد تک ہی کام ہوا اور بعد میں کچھ نہ ہوسکا۔ تھیٹر کے سنجیدہ حلقوں نے کہاہے کہ سٹیج ڈرامے میں فحاشی اور بیہودہ جملے بازی ختم کرنے کیلئے مانیٹرنگ کا نیا سسٹم لانا چاہیے اور جن لوگوں نے سٹیج ڈرامے جیسے فن کو بے توقیر کیا ہے ان کے خلاف سخت کارروئی ہونی چاہیے ۔ سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ تھیٹر پر فحاشی کا آغازکا الزام بہت ساری اداکاراؤں پر لگایا جاتا ہے یہ کہنا کہ کس نے اس کی ابتدا کی بہت مشکل ہے ۔ متعدد اداکاراؤں پر فحاشی پھیلانے ، فحش جملے ادا کرنے

اور ڈانس کے دوران غیر اخلاقی اور جذبات ابھارنے والی حرکات کا الزام ہے ، اس حوالے سے مشہور اداکاراؤں میں پائل چوہدری، آفرین خان ، شیزہ بٹ ،آشاچوہدری ، پریا خان ، آفرین پری ،سنہری خان ، دیا علی ،سدر ہ نور سمیت دیگر اداکارائیں شامل ہیں جبکہ نرگس ، ند ا چوہدری اورخوشبوپر بھی متعدد بار ایسے الزامات لگائے جا چکے ہیں۔ بیہودہ جملے بازی کرنے میں مرد فنکاروں میں طارق ٹیڈی ، ساجن عباس ، عابد چارلی ، آصف اقبال ، گلفام ، صابر گاگا ، فیرو زخان ، عامر عطا ، قیصر پیا ، لکی ڈیئر ، سردارکمال ، طاہر انجم ، سرفراز وکی، شاہد خان ، گڈو کمال سمیت دیگر اداکار شامل ہیں ۔تھیٹر سے وابستہ سنجیدہ اور پڑھے لکھے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر اسٹیج سے ان عناصر اور برائیوں کو پاک کر دیا جائے تو فیملیز اور پڑھے لکھے لوگ تفریح کے لیے دوبارہ اسٹیج کا رخ کریں گے ، فی الحال تو سڑک چھاپ اور اوباش طبیعت کے لوگ ہی مخصوص تفریح کے لیے اسٹیج کا رخ کرتے ہیں ۔ نئی حکومت کے قیام کے بعد متعلقہ اداروں سے اپیل کی جاتی ہے کہ تھیٹر کو فحاشی اور عریانی سے پاک کرنے کے لیے اقدامات کریں تاکہ تھیٹر اور اسٹیج کے اچھے دن دوبارہ واپس آئیں۔