’’سشانت صبح اُٹھے، جوس بنایا اور اپنے کمرے میں جا کر دروازہ بند کر لیا اسکے بعد۔۔ ‘‘ سشانت سنگھ نے اپنی زندگی کے آخری اڑھائی گھنٹے کس طرح گزارے؟ ایک نیا انکشاف

نئی دہلی (نیوز ڈیسک ) بالی وڈ اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی جانب سے 14 جون کی دوپہر کو اپنی زندگی کے خاتمے کی خبر نے بھارت سمیت دنیا بھر میں ان کے مداحوں کو شدید غم زدہ کر دیا۔پولیس کو تاحال سشانت سنگھ کی رہائش گاہ سے کوئی آخری خط نہیں ملا۔تاہم پولیس کو ان کی رہائش

گاہ سے ان کے علاج معالجے کے دستاویزات ملی ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ وہ ڈپریشن کا علاج کروا رہے تھے۔اداکار کی ذہنی حالت، ان کی زندگی اور ان کی جانب سے گزارے گئے آخری ڈھائی گھنٹے کے حوالے سے بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے سے ان کے قریبی ذرائع نے بات کی۔اداکار کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے سے قبل اداکار کتنے خاموش اور خود کو تنہا محسوس کر رہے تھے۔سوشانت سنگھ اپنے تین بیڈ روم پر مشتمل فلیٹ میں دو باورچیوں اور ایک دھوبی کے ساتھ رہتے تھے۔تاہم 13 اور 14 جون کی شب ان کی رہائش گاہ پر ان کے قریبی دوست بھی رہنے کے لیے آئے تھے۔14 جون کے دن سشانت سنگھ راجپوت کے فلیٹ پر مجموعی طور پر ان سمیت پانچ افراد موجود تھے۔اداکار 14 جون کی صبح دس بجے نیند سے اٹھے تو خاموش دکھائی دیے۔سشانت سنگھ راجپوت نے دس بجے جوس بنا کر پیا اور پھر وہ اپنے کمرے میں چلے گئے اور اندر سے دروازہ بند کر لیا۔خیال رہے کہ گزشتہ روز معروف بالی وڈ اداکار سشانت سنگھ راجپوت نے اپنی رائشگاہ پر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا، 34 سالہ سشانت سنگھ راجپوت کی پھندہ لگی نعش ممبئی میں ان کی رہائش گاہ سے ملی، اطلاع پر پولیس نے اداکار کی رہائش گاہ پر پہنچ کر ان کے کمرے کے دروازے کو توڑ کر ان کی نعش کو پھندے سے اتارا۔بھارتی میڈیا کے مطابق سشانت کی لاش ممبئی کے علاقے باندرہ میں انکی رہائشگاہ سے برآمد ہوئی۔ممبئی پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ سشانت سنگھ راجپوت نے ڈپریشن کی وجہ سے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے۔ خیال رہے کہ سشانت سنگھ کی آخری فلم 2019 میں ‘چھچھورے’ کے نام سے ریلیز ہوئی تھی جس نے باکس آفس پر دھوم مچا دی تھی۔ لاک ڈاؤن کے بعد انکی ایک اور فلم ‘دل بیچارہ’ آنے والی تھی۔ اس سے قبل معروف بھارتی کرکٹر ایم ایس دھونی پر بننے والی فلم میں بھی سشانت سنگھ مرکزی کردار ادا کرچکے ہیں۔