’’ اگر کوئی آپ کے ابو کو نوکری سے نکال کر ۔۔‘‘ لنڈے کے کپڑے اور تررکش ڈراموں سے پاکستان میں کیا ہورہا ہے؟ یاسر حسین بھی ارتغرل ڈرامہ سیریز کو پاکستان میں دکھانے پر برس پڑے

کراچی(نیوز ڈیسک )پاکستان کے نامور اداکار شان اور داکارہ ریما کے بعد اب معروف اداکار یاسر حسین بھی پاکستان میں ترک ڈرامے دکھانے کو ناپسند کرنے والوں میں شامل ہوگئے ہیں۔ یاسر حسین نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں ’ارتغرل غازی‘ کو پی ٹی وی پر نشر کرنے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ پی ٹی وی کو چاہیے کہ وہ ایک تاریخی

ڈراما بنائے اور وہ اپنے فنکاروں اور تکنیکی ماہرین کی خدمات حاصل کرے۔یاسر حسین نے مزید لکھا کہ” استعمال شدہ کپڑے اور ترکی کے ڈرامے دونوں ہی ملک کی مقامی صنعت کو تباہ کردیں گے”۔یاسر کے بیان پر انہیں سوشل میڈیا پر ٹرول بھی کیا جا رہاہے۔ سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے یاسر نے اپنی سٹوری میں مزید لکھا کہ “جب آپ کے بھائی کو بینک سے ، بہن کو سکول سے اور ابو کو ان کی جاب سے نکال کر ترکش لوگوں کو ملازمتیں دی جائیں گی تو اس وقت سمجھ آئے گی کہ میں کیا کہہ رہا ہوں”۔خیال رہے ڈرامہ سیریل ارتغرل غازی کو وزیراعظم عمران خان کی خواہش پر اردو میں ڈب کرکے پاکستان ٹیلی ویژن پر دکھایا جارہاہے۔ یہ ڈرامہ مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کررہا ہے۔ یوٹیوب پر بھی اسے اب تک کئی ملین لوگ دیکھ چکے ہیں تاہم فلم انڈسٹری سے وابستہ کچھ لوگوں نے غیر ملکی ڈرامے کی سرکاری ٹی وی پر نشریات کے حوالے سے تحفظات کااظہارکیاہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر دیئے گئے ایک بیان میں ادکار شان نےوزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ” ہمارے فن اور ہماری ثقافت کو بچایئے سر عمران خان ہمارا آرٹ، کلچر ادب اور میوزک آپ کی توجہ کا منتظر ہے۔ ہماری فنی ثقافت کو توجہ نہ ملی تو وہ ایک دہائی میں ہی کہیں کھو جائیں گی، ہماری موسیقی اور فلم ایکسپورٹ معاشی بہتری کا سبب بن سکتی ہے، فنکار طبقہ اپنے نئے پاکستان کے انتظار میں ہے”۔اسی طرح ریما کا بھی کہنا تھا کہ اس وقت جب پاکستانی ڈراما انڈسٹری مشکلات کا شکار ہے اور پاکستانی اداکاروں کو کام نہیں مل رہا، ایسے وقت میں غیر ملکی ڈرامے چلانا افسوس ناک ہے۔