بیوی خوشبو مگر۔۔۔ !!! کیا آپ جانتے ہیں معروف اداکار ارباز خان کی بڑی بہن کون تھی اور کیا کرتی تھی؟ آنکھیں نم کر دینے والے حقائق سامنے آگئے

لاہور( نیوز ڈیسک) دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹیں اور رنگ بکھیرتے شوبز کے بہت سے ستارے ایسے ہیں جو اپنی اصل زندگی میں بہت سارے دکھوں اور تکالیف سے گزر کر اس مقام پر ہیں، لیکن جب بات ہو اپنے مداحوں کو انٹرٹین کرنے کی تو پھر یہی شخصیات سارے غم بُلا کر

مداحوں کے لیے جوکر بھی بن جاتے ہیں، اداکار بھی بن جاتے ہیں، لیکن ان کے سینے میں ایسے حقائق دفن ہوتے ہیں جنکے بارے میں مداح نہیں جان پاتے۔ ان میں بہت بڑے بڑے نام شامل ہیں لیکن آج ہم بات کریں گے ارباز خان، اُمِ راحیل اور تانیہ فرید جیسی شخصیات کی۔ سب سے پہلے بات کر لیتے ہیں ارباز خان کی، پاکستانی فلم انڈسٹری کے مشہور فنکار ارباز خان اپنی زندگی میں ایک بہت بڑے دکھ سے گزرے اور انہوں نے کافی عرصے اس درد کو اپنے دل میں برداشت کر کے بھی کیے رکھا، ارباز کی سگی بہن بیوہ ہوگئی تھیں اور ان کے دو ہی بچے تھے ایک بیٹا اور ایک بیٹی،بیٹا چھوٹا ہے اور بیٹی بڑی جس کا نام تھا فصیحہ،یہ نام بہت سارے لوگوں کو کافی سنا ہوا محسوس ہوگا کیونکہ انٹرنیٹ پر فصیحہ نور کے علاج کی غرض سے کافی پوسٹ شیئر ہوتے رہے،اس وقت کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ باہمت اور پر اعتماد بچی اداکار ارباز خان کی سگی بھانجی ہے،اس بچی کا کینسر لاسٹ اسٹیج پر تھا اور کیونکہ ارباز ماموں تھے تو ان کا دل درد سے پھٹتا تھا اپنی خوبصورت اور معصوم بھانجی کی تکلیف دیکھ کر،وہ ایک شو میں فصیحہ کے انتقال کے بعد آئے اور انہوں نے بتایا کہ میری بھانجی فصیحہ کے بال بہت لمبے تھے اور وہ ہر وقت اپنے بال سنوارتی رہتی تھی، جب اس بچی کو کینسر کا پتہ چلا تو وہ خود ڈاکٹر کے پاس جا کر مشورے کرتی تھی کہ ٹریٹمنٹ کیسے آگے بڑھے گا،انہوں نے بتایا کہ میں ایک

شوٹ پر ناران گیا تو فصیحہ کو بھی وہیں بلوالیا،لیکن وہ اتنی کمزور ہوگئی تھی کہ کچھ بھی انجوائے نہیں کر پارہی تھی۔ڈاکٹر نے کہا کہ فصیحہ کو اسکول نا بھیجیں لیکن وہ پھر بھی اسکول جاتی تھی ڈرامہ اور تھیٹر ایکٹیویٹیز میں شامل ہوتی تھی،ارباز خان نے بتایا کہ شوکت خانم ہسپتال نے اس کا کیس لینے سے انکار کردیا تھا کیونکہ وہ آخری اسٹیج پر آنے والے مریضوں کو جن کے بچنے کی کوئی امید نا ہو، نہیں لیتے۔فصیحہ کے ٹریٹمنٹ کے لئے چھ کروڑ پاکستانی روپوں کی ضرورت تھی اور علاج بھی ملک سے باہر ہونا تھا،لیکن وہ بچ نا سکی اور رقم بھی ان کی سوچ سے کہیں زیادہ تھی،ارباز خان آج بھی اپنی بھانجی کے غم کو کم نہیں کر پائے ہیں۔ہربلسٹ ام راحیل آج مریضوں کو شفا کی راہ دکھاتی ہیں اور لوگوں کے درد دور کرتی ہیں لیکن وہ خود بہت سخت تکلیف سے گزریں،انہوں نے اولاد کا دکھ دیکھا،اپنے نوجوان بیٹے کو اپنی آنکھوں کے سامنے گولی کھا کر دنیا سے جاتے ہوئے دیکھا،ان کی چار بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا،لیکن اب ان کا بیٹا اس دنیا میں نہیںہے۔انہوں نے اپنا نام بدل کر انڈسٹری میں اپنے بیٹے کے نام سے ہی قدم رکھا،ام راحیل یعنی راحیل کی ماں!وہ آج بھی اس درد سے باہر نہیں آئیں اور شاید کبھی آبھی نا پائیں۔تانیہ فرید ایک ماڈل اور اداکارہ ہیں ، کچھ عرصے پہلے ایک جہاز کے کریش میں ان کی سگی چھوٹی بہن صنم شیخ دنیا سے چلی گئیں،پہلے والدہ کا انتقال اور پھر چھوٹی بہن کا چلے جانا،تانیہ نے اس شدید صدمے میں ایک وقت گزارا اور آج تک اس ڈپریشن میں اکثر چلی جاتی ہیں۔