علی ظفر ہراسانی کیس: میشا شفیع کی شامت آگئی ، کب کیا ہونیوالا ہے ؟

لاہور(ویب ڈیسک)علی ظفر جنسی ہراسانی کیس میں فیڈرل انویسٹی گیش ایجنسی سائبر کرائم نے معروف گلوکارہ میشا شفیع کو طلب کر لیا۔میشا شفیع نے معروف گلوکار فلم اسٹار علی ظفر پر جنسی ہراسگی کا الزام لگایا تھا ، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید اور الزام تراشی کے خلاف علی ظفر نے ایف آئی اے

کو درخواست دی تھی کہ میشا شفیع کی وجہ سے ان کی ساکھ مجروح اور ان کا کاروبار متاثر ہوا ہے۔گلوکار کی درخواست پر ایف آئی اے نے کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے لاہور اور کراچی کے مختلف فنکاروں کو بھی طلب کیا تھا جنہوں نے ایف آئی اے سائبر کرائم کو اس حوالے سے اپنے بیانات بھی قلمبند کرا دیئے تھے۔ علی ظفر کی درخواست پر ہی میشا شفیق کو طلب کیا گیا ہے۔ میشا شفیع بھی اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گی۔واضح رہے کہ میشا شفیع رواں کے شروع میں اپنے وکیل کے ہمراہ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ لاہور کے تفتیشی افسر کو بیان ریکارڈ کرا چکی ہیں۔2006 میں نیویارک سے شروع ہونے والی’’می ٹو‘‘ مہم نے جہاں دنیا بھر میں ایک تحریک کی صورت اختیار کرلی وہیں پاکستان میں بھی اس مہم کے تحت بہت ساری خواتین سامنے آئیں اور اپنے ساتھ ہوئے ہراسانی کے واقعات سے پردہ اٹھایا۔می ٹو مہم سے قبل شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی خواتین نے کبھی کھل کر اپنے ساتھ ہوئے ہراسانی کے واقعات پر بات نہیں کی تھی تاہم پاکستان کی معروف گلوکارہ و اداکارہ میشا شفیع نے جب جنسی ہراسانی کے واقعے کے بارے میں سوشل میڈیا پر اظہار رائے کیا تو دیگر فنکاراؤں کو بھی ہمت ملی اور انہوں نے بھی اپنے ساتھ ہوئے واقعات نہ صرف لوگوں کے ساتھ شیئر کیے بلکہ جنسی ہراسانی کی کڑی الفاظ میں مذمت کی۔ آئیے دیکھتے ہیں پاکستان شوبز انڈسٹری تعلق رکھنے والی خواتین کے ساتھ ہونے والے جنسی ہراسانی کے واقعات جو بہت مقبول ہوئے۔

میشا شفیع:اپریل 2018 میں میشا شفیع نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر انکشاف کیا کہ انہیں گلوکار واداکار علی ظفر نے کئی بار مختلف مواقعوں پر جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا۔ یہ کیس پاکستان میں اتنا مقبول ہوا کہ تقریباً دو سال گزرنے کے باوجود آج بھی میڈیا اس کیس کو ترجیحی بنیادوں پر کوریج دیتا ہے۔ میشا شفیع کے سامنے آنے کے بعد پاکستان شوبز انڈسٹری کی دیگر خواتین کو بھی ہمت ملی اور انہوں نے بھی اپنے ساتھ پیش آئے واقعات کے متعلق سوشل میڈیا پر کھل کر اظہار کیا۔فریحہ الطاف:پاکستان کی نامور کوریوگرافر، اداکارہ ، ماڈل، سماجی کارکن اور ایونٹ مینجمنٹ کی سی ای او فریحہ الطاف بھی بچپن میں جنسی ہراسانی کا شکار رہ چکی ہیں۔ فریحہ الطاف نے سوشل میڈیا پر اپنے ساتھ ہوئے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہاتھا کہ انہیں سب سے پہلے ان کے گھر میں کام کرنے والے باورچی نے ہراسانی کا نشانہ بنایا تھا۔فریحہ الطاف نے اس واقعے کے بارے میں اپنے والدین کو بتایا تو انہوں نے باورچی کو سزا تو دی لیکن انہیں اس معاملے پر اپنا منہ رکھنے کے لیے کہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ایسا نہیں تھا کہ اس پر خاموشی اختیار کی جاتی۔نادیہ جمیل:نادیہ جمیل کا شمار پاکستان کی مشہور اداکاراؤں میں ہوتا ہے لیکن آج ان کا نام خواتین اور بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد کے خلاف آواز اٹھانے والی سرفہرست خواتین میں لیا جاتا ہے۔ نادیہ جمیل نے اپنے ساتھ ہوئے واقعے کے بارے میں سوشل میڈیا پر بتاتے ہوئے کہا کہ وہ بچپن میں

ایک بار نہیں بلکہ کئی بار ہراسانی کا شکار ہوئی ہیں۔سب سے پہلے انہیں قرآن کی تعلیم دینے والے قاری صاحب نے ہراسانی کا نشانہ بنایا، پھر ان کے گھر کے ڈرائیور نے ان کے ساتھ نازیبا حرکات کیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی مواقعوں پر انہیں جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایاگیا۔ایمان سلیمان:فیشن ماڈل و اداکارہ ایمان سلیمان می ٹو مہم کی سپورٹر ہیں اور اسی مہم کے تحت انہوں نےبھی اپنے ساتھ ہوئے ہراسانی کے واقعے کو لوگوں کے ساتھ شیئر کیا۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں کس نے ہراسانی کا نشانہ بنایا۔ ایمان سلیمان نے میشا شفیع کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے رواں سال لکس اسٹائل ایوارڈ کے بائیکاٹ کا اعلان بھی کیا تھا۔حریم شاہ:ٹک ٹاک اسٹار حریم شاہ نے حال ہی میں ایک ویڈیو کے ذریعے عوامی مقام پر اپنے ساتھ ہونےو الے نارواسلوک کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک تقریب کے دوران انہیں مقامی افراد کی جانب سے ہراسانی کا نشانہ بنایاگیا۔ حریم شاہ نے می ٹو کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اس دنیا میں کیسے کیسے بے شرم لوگ ہوتے ہیں۔بعد ازاں حریم شاہ نے ایک اور ویڈیو شیئر کی اور بتایا کہ دبئی کی ایک تقریب میں پاکستانی مردوں نے انہیں نہ صرف ہراسانی کا شانہ بنایا بلکہ انہیں دھکے بھی دئیےکیا آپ اپنی خواتین کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں؟عائشہ عمر:نامور اداکارہ، گلوکارہ و ماڈل عائشہ عمر نے ایک انٹرویو کے دوران اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بارے میں بتایا تھا کہ انہیں بھی کام کے دوران ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا تھا لیکن وہ اتنی بہادر نہیں ہیں کہ اپنے ساتھ ہوئے واقعے کے بارے میں سب کے سامنے بات کرسکیں۔ تاہم انہوں نے میشاشفیع کی جانب سے اٹھائے جانےو الے قدم کی تعریف کی۔متیرا:وی جے اور ماڈل متیرا اپنے لباس اور انداز کی وجہ سے ہمیشہ ہی لوگوں کی تنقید کی زد میں رہتی ہیں۔ ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے بتایا تھا کہ شوبز میں کام کے دوران انہیں کئی لوگوں نے ہراساں کیا۔ اس کے علاوہ ان کے بولڈ اسٹائل کے باعث کئی بار انہیں بے عزتی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔