اغوا برائے تاون کے مغوی اور اداکارہ سنیتا مارشل کے شوہر حسن کی بازیابی کیسے عمل میں آئی تھی؟اداکارہ نے خود ہی ساری کہانی بیان کردی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)کراچی کے علاقہ ڈیفنس سے اغوا ہونے والی دعا منگی بازیاب ہوچکی ہیں۔ان سے قبل ایک معروف اداکارہ سنیتا مارشل کے شوہر حسن بھی اغوا برائے تاوان جیسی مشکل سے گزر چکے ہیں۔ سنیتا کے شوہر کی بازیابی کی داستان انہی کی زبانی سنئے۔ نامور اداکارہ ثمینہ پیرزادہ کو انٹرویو دیتے ہوئے سنیتا

نے بتایا کہ ان کے شوہر کو بیٹے کی پہلی سالگرہ کے دو روز بعد اکیس مارچ کو اغوا کیا گیااور 35دن تک وہ اغواکاروں کی تحویل میں رہے۔ سنیتا نے انکشاف کیا کہ اغوا کاروں کی فون کالز انہیں ہی آتی تھیں۔ کئی دن تک ان کے ساتھ تاوان کے لئے مذاکرات ہوتے رہے ۔ ڈیل ہونے کے بعد ہمارا ایک دوست دانش پیسے لے کر وہاں گیا اس دوران سی پی ایل سی والے بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جیسے ہی اغواکاروں کا بندہ پیسہ لے کر واپس جانے لگا سی پی ایل سی نے دھاوابول دیا اور اسے ٹانگ میں گولی مارکرگرا لیا۔ سنیتا کے مطابق زخمی ملزم نے بتایا کہ اصل اغوا کار ایک سابق سب انسپکٹر تھا جو حیدر آباد میں تھا۔ پولیس اس کے گھر پہنچی اس کے بیوی بچوں اور والدین سمیت نو افراد کو گرفتار کیا اوراغواکار کے اہلخانہ کو مجبور کیا کہ وہ اسے فون کریں اور اسے کہیں حسن کو چھوڑ دیں۔ سنیتا کے مطابق اغوا کار حسن کو چھوڑنے پر رضامند ہوگئے اور اسے حیدرآباد سے کراچی بھجوا دیا گیا۔ جس کے بعد اغواکارکے اہلخانہ کو بھی چھوڑ دیا گیا۔ وہ دن بہت تکلیف دہ تھے۔حسن کو انتہائی تاریک کمرے میں رکھا گیا۔اسے دانت تک صاف کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔سنیتا کے مطابق حسن کو جب اغواکاروں نے چھوڑا تو اسے بہت زیادہ ڈرایا بھی گیا تھا۔دوستوں کے ساتھ ہلہ گلہ کرنے والے حسن نے گھر سے نکلنا ہی چھوڑ دیا تھا تاہم دوستوں کے تعاون سے اور برطانیہ کے دورے کے بعد ان کی حالت سنبھلنے لگ گئی۔