محمد بن سلمان اور لِنڈسے لوہان کے ایک دوسرے کو ٹیکسٹ میسیجز منظر عام پر آگئے، کیا خفیہ باتیں ہوتی رہیں؟ دھماکہ خیز انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) پہلے ہی بتا دیں کہ ہماری یہ تحریر کسی ذاتی معاملے یا کردار سے متعلق نہیں بلکہ خالصتاً ’’فارن افیئر‘‘ کے بارے میں ہے۔ اب سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی امریکی اداکارہ وگلوکارہ لِنسے لوہان سے ’’دوستی‘‘ کو ’’فارن۔۔۔ افیئر‘‘ ہی کہیں گے ناں!

بہت دنوں سے خبریں گردش کر رہی تھیں کہ محمد بن سلمان ان امریکی خاتون کو اپنے طیارے پر دنیا دکھاتے رہے ہیں، انھیں دیگر تحائف کے ساتھ بہ طور تحفہ کریڈٹ کارڈ بھی دے چکے ہیں اور دونوں ایک دوسرے سے ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے رابطے میں رہتے ہیں۔ تاہم لنسے لوہان کے ’’پاپا جانی‘‘ مائیکل لوہان نے وضاحت کی ہے ان کی بیٹی کی سعودی ولی عہد سے ’’ Platonic Friendship‘‘ ہے۔ PLATONIC LOVE کا ترجمہ تو افلاطونی عشق ہے، Platonic Friendship کا ترجمہ آپ افلاطونی دوستی کرلیں۔ یعنی مرد عورت کے بیچ پاک، پوتر، بس قلبی اور روحانی تعلق۔۔۔۔گویا کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے۔ مائیکل صاحب کا کہنا ہے کہ دونوں شخصیات کا باہمی تعلق محض اس بنا پر قائم ہوا کہ لنسے لوہان مشرق وسطیٰ میں لوگوں خاص طور پر مہاجرین کی مدد کے لیے کام کر رہی ہیں۔ جب والد محترم سے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں محمد بن سلمان کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کی بابت سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا،’’اس حوالے سے کچھ ثابت نہیں ہوسکا ہے۔ لنسے کہتی ہے کہ وہ اچھے انسان ہیں۔‘‘ دوستی ہم مزاجی، یکساں صفات و عادات اور مشترکہ مشاغل سے جنم لیتی ہے، سو محمد بن سلمان اور لنسے لوہان کے درمیان یہ تعلق ہونا بھی چاہیے۔ دونوں اپنی ذات میں انجمن ہیں۔ امریکی اداکارہ، گلوکارہ بھی ہیں، نغمہ نگار بھی، بزنس وومن اور فیشن ڈیزائنر بھی، وہ فلم ساز بھی ہیں اور سماجی کارکن بھی۔ بھائی محمد بن سلمان تو پورا سعودی عرب ہیں،

ولی عہد ہیں، نائب وزیراعظم بھی (وزیراعظم بادشاہ سلامت خود ہیں) اس کے ساتھ وزیردفاع کا منصب، مختلف کونسلوں کی سربراہی بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔۔۔یوں سمجھ لیں کہ سعودی عرب میں جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے۔ دونوں میں مہاجرین بھی قدرمشترک ہیں، وہ مہاجرین کی پیداوار بڑھانے میں حصہ لیتے ہیں یہ ان مہاجرین کی مدد کر رہی ہیں۔ ایک فیشن ڈیزائنر ہے تو دوسرا اپنی مملکت کو نیا فیشن دے رہا ہے۔ تو بھئی بنِ سلمان اور بنتِ لوہان میں کوئی پیمان ہو بھی جائے تو حیرت کیسی اور مذمت کیسی۔ خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو۔ مگر دونوں کے پاس مل بیٹھنے کا وقت کہاں، چناں چہ ٹیکسٹ میسیجز ہی کے توسط سے باہم رابطہ رکھا جاتا ہے۔ ظاہر ہے وہ سعودی ولی عہد اور ہالی وڈ کی اداکارہ ہیں، کوئی لانڈھی کا جمیل اور نیوکراچی کی شکیلہ تو نہیں کہ ایک دوسرے کو اس طرح کے برقی پیغامات بھیجتے ہوں گے ’’کیا کر رہی ہے،’’تجھے کیا‘‘،’’کیا ہوا‘‘،’’صبح سے میری یاد نہیں آئی‘‘،’’اچھا چھوڑ ناں‘‘،’’مجھے بات نہیں کرنی‘‘، ’’چل دفع‘‘۔۔۔۔ہمارے خیال میں ان کے ٹیکسٹ میسیج کچھ ایسے ہوتے ہوں گے:
لنسے لوہان’’ہائے شہزادے‘‘
محمد بن سلمان’’اہلاً سہلاً مرحبا‘‘
لنسے لوہان’’میں مہاجرین کی مدد کے لیے گئی تھی، وہاں کوئی ملا ہی نہیں‘‘
محمد بن سلمان ’’پریشان کیوں ہوتی ہو، میں مہاجرین کی نئی کھیپ تیار کردیتا ہوں، یمنی چلیں گے یا شامی؟‘‘
لنسے لوہان ’’اوہ واقعی۔۔۔تم کتنے سوئٹ ہو‘‘
محمد بن سلمان’’شُکراً۔۔۔۔اچھا یہ بتاؤ میرا تحفہ کیسا لگا؟ یہ اصلی عقیقِ یمنی ہے۔‘‘
لنسے لوہان’’ہاں مل گیا، بہت سُرخ ہے‘‘
محمد بن سلمان’’یہ ہمارا کارنامہ ہے، جب سے ہم نے یمن پردھاوا بولا ہے یمنی عقیق زیادہ سُرخ ہوگئے ہیں۔‘‘
لنسے لوہان،’’اس کی کوئی خاصیت؟‘‘
محمد بن سلمان’’یہ ہر بلا سے محفوظ رکھتا ہے‘‘
لنسے لوہان’’اچھا، تم نے تجربہ کیا ہے‘‘
محمد بن سلمان’’ہاں، جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سے میں یمنی عقیق پہنے ہوں اور ہر بلا سے محفوظ ہوں۔‘‘
لنسے لوہان’’تمھارے جیسے شریف آدمی پر بلاوجہ اس قتل کا الزام آیا، خدا جمال خاشقجی کے قاتلوں کو غارت کرے۔‘‘
لنسے لوہان’’ایم بی ایس!‘‘
لنسے لوہان’’پرنس۔۔۔!‘‘
لنسے لوہان’’کہاں گئے؟‘‘
محمد بن سلمان’’سوری، یمنی عقیق والی انگوٹھی انگلی میں ڈھیلی لگ رہی تھی دھاگا باندھ کر اس کی گرفت مضبوط کر رہا تھا۔‘‘
لنسے لوہان’’ہاں تو ہم کیا بات کر رہے تھے؟‘‘
محمد بن سلمان’’تم اپنی کسی نئی فلم کا تذکرہ کر رہی تھیں‘‘
لنسے لوہان’’ہممم‘‘
محمد بن سلمان’’یہ تو بتاؤ تمھاری نئی فلم کب آرہی ہے؟‘‘
لنسے لوہان’’بہت جلد۔۔۔۔تم فلموں کے شوقین ہو؟‘‘
محمد بن سلمان’’فلموں سے زیادہ میں ’شوٹنگ‘‘ کا دل دادہ ہوں‘‘
لنسے لوہان’’واؤ، میں آرٹ لورز کی بہت عزت کرتی ہوں‘‘
محمد بن سلمان’’میں تو آرٹ کا دیوانہ ہوں۔۔۔خاص طور پر مارشل آرٹ کا‘‘
لنسے لوہان’’تمھیں موسیقی کیسی پسند ہے‘‘
محمد بن سلمان’’پاپ میوزک اور جنگی ترانے‘‘
لنسے لوہان’’تمھارا مطلب ہے پوپ میوزک۔۔۔کوئی پسندیدہ گانا‘‘
محمد بن سلمان’’کئی گانے ہیں جو باربار سُنتا ہوں جیسے۔۔۔۔چاہے کوئی مجھے جنگلی کہے، کہنے دو جی کہتا رہے۔۔۔۔’شام‘ ہے دُھواں دُھواں ٹِن ٹُنو ٹُن ٹُن ٹِن ٹُنو ٹُنو ٹُن ٹُن ٹِن ٹُنو ٹُن جسم کا رواں رواں کہہ رہا ہے آرزو کی داستاں۔۔۔۔من تو پے واروں یمن تو پے واروں۔۔۔‘‘
لنسے لوہان’’ڈیئر! گانے کے صحیح بول ہیں من تو پے واروں تن توپے واروں‘‘
محمد بن سلمان’’ارے میری بھولی، یمن میںوار ہو تو تن ہی تو وارے جائیں گے‘‘
لنسے لوہان’’ایک بات کہوں، بُرا تو نہیں مانو گے‘‘
محمد بن سلمان’’برا کیسے مان سکتا ہوں تم امریکی ہو‘‘
لنسے لوہان’’تم نے اتنی اصلاحات کی ہیں اپنے ملک میں جمہوریت بھی لے آؤ‘‘
محمد بن سلمان’’ہمارے ہاں پہلے ہی اتنی ریت ہے، ہر طرف ریت ہی ریت ہے تو پھر ہم جمہو۔۔۔ریت کیوں لائیں؟‘‘
لنسے لوہان’’ارے میں سعودی عرب میں ڈیموکریسی لانے کی بات کر رہی ہوں‘‘
محمدبن سلمان’’یہ کیا چیز ہے؟‘‘
لنسے لوہان’’ارے تمھیں ڈیموکریسی کا نہیں پتا۔۔۔پتا کرو کہ یہ کیا ہوتی ہے‘‘
محمد بن سلمان’’مجھے پتا کرنے کا تجربہ نہیں، لاپتا کرنا ہو تو کہو۔ یہ بھی بتادینا ٹکڑے کس سائز کے ہوں۔‘‘
لنسے لوہان’’میں سمجھی نہیں‘‘
محمد بن سلمان’’جانے دو، اچھا میں بعد میں بات کرتا ہوں، مودی انکل آگئے ہیں۔‘‘