می ٹو : ہر انسان کبھی نہ کبھی اس کا شکار ہوتا ہے۔۔۔ خوبرو پاکستانی اداکار نے حقیقت سے پردہ چاک کر دیا

کراچی(ویب ڈیسک) ڈراما سیریل ’عہد وفا‘میں اداکاری کے جوہر دکھانے والے اداکار عثمان خالد بٹ نے ہدایت کار جامی کو جنسی ہراسانی کا تجربہ لوگوں کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ہر بچہ کبھی نہ کبھی جنسی ہراسانی کا شکار ہوتا ہے۔گزشتہ دنوں فلم ’’مور‘‘کے ہدایت کار جامی نے اپنی زندگی کا

تلخ ترین تجربہ شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ 13 سال قبل انہیں پاکستانی میڈیا انڈسٹری کی طاقتور شخصیت کی جانب سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کی تکلیف وہ آج تک بھول نہیں سکے ہیں۔می ٹو مہم کے تحت جنسی ہراساں کرنے کے واقعات زیادہ تر خواتین کی جانب سے سامنےآتے ہیں تاہم شوبز انڈسٹری کی ایک نامور شخصیت کی جانب سے اس طرح کے انکشاف نے شوبزحلقوں اور سوشل میڈیا صارفین کو ہلا کر رکھ دیا اورلوگوں نے یہ سچ سب کے سامنے لانے پر فلمساز جامی کو سراہا جن میں اداکار عثمان خالد بٹ بھی شامل ہیں۔اداکار عثمان خالد بٹ نے ٹوئٹر پر جامی کے بہادرانہ اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں جامی کو سلام پیش کرتا ہوں کیونکہ انہوں نے اپنا تلخ تجربہ لوگوں کے ساتھ شیئر کرکے جرات کا کام کیا ہے۔عثمان خالد بٹ نے لکھا کچھ روز قبل ایک ڈنر کے دوران جامی کا موضوع زیر بحث آیا۔ اور جس چیز نے مجھے حیرت زدہ کردیا وہ یہ تھا کہ ٹیبل پر موجود ہر شخص نے اعتراف کیا کہ انہیں کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی صورت میں جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایاگیا ہے۔ چاہے وہ کلاس روم ہو، پبلک ٹرانسپورٹ ہو، ان کا اپنا گھر ہو، بچپن میں اور لڑکپن میں انہیں کسی اجنبی یا اس شخص نے جس پر وہ اعتبار کرتے تھے انہیں جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا۔عثمان خالد بٹ نے مزید لکھاکہ کس طرح مرد کھلے عام اس بارے میں بات نہیں کرتے، ہم تشدد اور شرمندگی کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم کبھی کسی کے سامنے یہ بات نہیں کرتے لیکن یہ کمزوری ہے مردانگی نہیں۔عثمان خالد بٹ نے کہا فلمساز جامی نے جو کیا وہ بہت بہادرانہ اقدام ہے خاص طور پر یہ جانتے ہوئے کہ ’’می ٹو‘‘ مہم کو پاکستان میں سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ مجھے افسوس ہے کہ آپ نے اتنے لمبے عرصے تک یہ بھاری نفسیاتی بوجھ اٹھائے رکھا۔ آپ کی کہانی نے بہت سے مَردوں کو آواز دی ہے جو ان مشکلات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں جن سے وہ گزرے ہیں اور وہ اسے ہونے سے کس طرح روک سکتے ہیں۔ آپ کی کہانی نے ان مَردوں کو طاقت دی ہے۔عثمان خالد بٹ نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا اس طرح کے واقعات کے خلاف لڑنے کے لیے صحیح پلیٹ فارم نہیں ہوسکتا، لیکن یہ وہ میڈیم یا چینل ہے جہاں آپ کی آواز سنی جاتی ہے کہ بولنا، ممنوعہ موضوعات پر آوازاٹھانا اور بات کرنا کتنا ضروری ہے۔