بہترین خدمات : لیجنڈاداکارشاہد حمید نے شاندار اعزاز اپنے نام کر لیا

لاہور(ویب ڈیسک)فلم کے لیجنڈ اداکارشاہدحمید کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈسے نواز دیاگیا، شاہدحمید کے اعزاز میں گزشتہ روز پنجابی کمپلیکس میں تقریب کا انعقاد کیاگیاجس کااہتمام پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈکلچر کی ڈی جی ڈاکٹرصغریٰ صدف نے کیاتھا۔تقریب میں فلمی صنعت وابستہ فنکاروں اورشخصیات نے شرکت کی،اس موقع شاہد حمید کی مشہور فلموں کے

کلپس اور نغمات دکھائے گئے جنہیں شائقین نے حد پسند کیا۔مقررین نے ان کی فنی زندگی اور شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔اظہار خیال کرنیوالوں میں سینئر اداکار غلام محی الدین،اورنگ زیب عالمگیر،سید نور، محمد سرور بھٹی،محمد طارق ساحلی، اشفاق کاظمی،اچھی خان،سائرہ طاہر اوردیگر شامل تھے۔حمید نے منتظمین کاشکریہ اداکیا اور کہاکہ ایوارڈ ملنے پر خوشی ہے تاہم اس وقت بھارت کے کشمیریوں پر ظلم وتشدد نے دل بوجھل کررکھاہے۔ شاہد حمید (اردو: شاہِد حمِید) ، جسے شاہد کے نام سے جانا جاتا ہے ، ایک پاکستانی فلمی اداکار ہے جس نے 1970 اور 1980 کی دہائی کی متعدد فلموں میں اداکاری کی۔ ان کی پہلی فلم آنسو تھی جو 1971 میں ریلیز ہوئی۔ انہوں نے 150 سے زیادہ فلموں میں کام کیا۔ شاہد کی آخری فلم زیور 1998 میں ریلیز ہوئی تھی۔کہا جاتا ہے سال 2007 جوکہ پاکستانی فلموں کے ساٹھویں برس کی نمائندگی کرتا ہے، بظاہر کسی بڑے فلمی واقعے کے بغیر گزر رہا تھا لیکن پھر ٹی وی کے سپوت شعیب منصور کی فلم ’خدا کے لیے‘ منظرِ عام پر آ گئی جس نے نہ صرف اس ساٹھویں برس کی لاج رکھ لی بلکہ مایوسی کے گھُپ اندھیرے میں ڈوبی ہوئی فلمی صنعت کو روشنی کی ایک کرن بھی دکھا دی۔کراچی میں ٹیلی ویژن اور وڈیو کی صنعت سے تعلق رکھنے والے کئی نوجوان اس وقت فلم سازی کے میدان میں اترے ہوئے ہیں اور شعیب منصور کی فلم جوکہ اچھی موسیقی کے بغیر بھی ہٹ ہوگئی ہے اُن نوجوان فلم سازوں کے لیے انتہائی حوصلہ افزائی کا باعث ہے جو ناچ گانے کا سہارا لیے بغیر کامیاب کمرشل فلمیں تیار کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔