جرم محبت : وہ وقت جب مجھے 16 سال کی عمر میں گھر سے نکال دیا گیا ۔۔۔۔ عطااللہ عیسیٰ خیلوی نے اپنی زندگی کے راز قوم کے سامنے رکھ دیے

لاہور ( ویب ڈیسک ) نامور گلوکار عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی نے کہا ہے کہ گلوکاری میں دو چیزیں لازمی ہیں جس میں سر اور لے نہیں وہ گلوکار ہو ہی نہیں سکتا ،یہ دو چیزیں ہی کسی کو گلوکار بنانے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں ۔ انہوں نے ایک انٹرویو کے

دوران کہا کہ اگر کسی میں ٹیلنٹ نہ ہو تو نہ وہ گلوکار اور اداکار نہیں بن سکتا ہے ۔مجھے گائیکی کی دنیا میں 41سال کا عرصہ گزر چکا ہے ،میں نے 16سال کی عمر میں گانا شروع کیا اور اسی جرم کی پاداش میں مجھے گھر سے نکال دیا گیا اور میں نے اپنی جدوجہد کو جاری رکھا اور بلآخر خدا نے مجھے وہ منزل عطاء کر دی جسکی کوئی خواہش کر سکتا ہے ۔ میرے گانے میں سوز اور درد قدرتی ہے ۔عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی نے کہا کہ میں پاکستانی قوم کے ہر ایک شخص کا مقروض ہوں جس نے مجھ سے محبت اور اپنایت ظاہر کی ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹرکوں کے پیچھے ایوب خان کے بعد سب سے زیادہ تصویریں میری بنائی جاتی ہیں اور 90فیصد ٹرک ڈرائیور میرے گانے ہی سنتے ہیں کیونکہ ایک دور میں میں بھی ٹرک چلاتا رہا ہوں ۔تفصیلات کے مطابق نامور گلوکار عطا اللہ عیسی خیلوی نے کہا ہے کہ گلوکاری میں دو چیزیں لازمی ہیں جس میں سر اور لے نہیں وہ گلوکار ہو ہی نہیں سکتا ،یہ دو چیزیں ہی کسی کو گلوکار بنانے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں ۔انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ اگر کسی میں ٹیلنٹ نہ ہو تو نہ وہ گلوکار اور اداکار نہیں بن سکتا ہے ۔مجھے گائیکی کی دنیا میں 41سال کا عرصہ گزر چکا ہے ،میں نے 16سال کی عمر میں گانا شروع کیا اور اسی جرم کی پاداش میں مجھے گھر سے نکال دیا گیا