ہمیں افسوس ہے کہ آپ نے ۔۔ ! پاکستان میں پابندی پر ٹک ٹاک کا باضابطہ حیران کن ردعمل سامنے آگیا

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 9 اکتوبر کو ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی تھی، جس کے لیے نامناسب مواد کو ہٹانے میں ناکامی کو جواز بنایا گیا تھا۔اس موقع پر پی ٹی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ٹک ٹاک، دی گئی

مدت کے دوران ایپلی کیشن سے نامناسب اور متنازع مواد کو ہٹانے میں ناکام رہا، جس کی وجہ سے ہی ٹک ٹاک کو ملک میں بند کیا جا رہا ہے۔پی ٹی اے کے مطابق چینی ایپلی کیشن کی انتظامیہ کو بار بار متنازع اور نامناسب مواد ہٹانے کے لیے ہدایات جاری کی گئیں، تاہم ایپ انتظامیہ ایسا کرنے میں ناکام رہی۔بعد ازاں 13 اکتوبر کو ٹک ٹاک کے عہدیداران نے چیئرمین پی ٹی اے سے اس حوالے سے آن لائن ملاقات بھی کی۔اس ملاقات میں ٹک ٹاک کی جانب سے پاکستانی قوانین کے مطابق مواد کے حوالے سے کوششوں اور مستقبل کی حکمت عملی پر روشنی ڈالی، تاہم مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔اس موقع پر دونوں فریقین نے باہمی طور قابل قبول طریقہ کار پر پہنچنے کے لئے بات چیت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔اب ٹک ٹاک کی جانب سے پاکستان میں پابندی کے حوالے سے ایک بیان میں باضابطہ ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا ‘ٹک ٹاک کا مشن تخلیق اور تفریح کو آگے بڑھانا ہے اور ایسا ہی ہم نے پاکستان میں کیا، ہم نے ایک ایکسی برادری کا قیام ممکن بنایا، جس کی تخلیقی صلاحیت اور جذبہ پاکستان بھر کے خاندانوں کے لیے خوشی کا باعث بنا جبکہ باصلاحیت افراد کے لیے بڑے اقتصادی مواقعوں کے راستے بھی کھلے، یہی وجہ ہے کہ ہمیں افسوس ہے کہ پاکستان میں ہمارے صارفین تاحال ٹک ٹاک تک رسائی سے محروم ہیں، ہماری سروسز کی بندش کو اب ایک ہفتے سے زیادہ وقت ہوچکا ہے’۔ڈان کو موصول ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ سال کے دوران کمپنی کی جانب سے حکومت پاکستان کے مواد کی جانچ پڑتال کے عمل سمیت دیگر معاملات پر اعتراضات کو دور کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے

بیان کے مطابق پاکستان میں ٹک ٹاک کو بلاک کیے جانے کے بعد ہم نے پی ٹی اے اے رابطے کو جاری رکھ کر مقامی قوانین کی اطاعت کے جذبے کا اظہار کیا اور اپنی مواد کی جانچ پڑتال کی صلاحیت کو مزید بہتر بنایا۔بیان میں کہا گیا ‘اگرچہ پی ٹی اے نے ہماری کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے سراہا، مگر ہماری سروسز تاحال ملک میں بلاک ہیں اور ہمیں پی ٹی اے سے اب تک کوئی جواب نہیں مل سکا’۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ہمیں توقع ہے کہ پی ٹی اے سے تعمیراتی بات چیت سے مستحکم اور بہتر ماحول کے عزم کی یقین دہانی حاصل ہوسکے گی جس میں ہم مارکیٹ میں مزید آگے بڑھ سکیں، اگر حکومت پاکستان میں مستقبل میں ہماری سروسز تک رسائی کو دوبارہ کھولنے کافیصلہ کیا، تو ہم اس مارکیٹ کے لیے اپنے وسائل کو مختص کرنے کے عمل کا تجزیہ کریں گے۔کمپنی کا کہنا تھا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ پاکستان کی آن لائن برادری اپنی صلاحیت اور تخلیق کا اظہار دنیا بھر میں ہمارے کروڑوں صارفین کے سامنے کرنے سے قاصر ہیں، ہم پاکستانی نوجوانوں کو دوبارہ کنکٹ کرنے کے لیے کام کررہے ہیں تاکہ ہم پاکستان کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔خیال رہے کہ ٹک ٹاک پر پابندی عائد ہونے کے بعد ملک بھر میں اسے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (وی پی این) کے ذریعے ملک بھر میں چلایا جا رہا ہے اور اس عمل کے خلاف بھی لاہور ہائی کورٹ میں ایک شہری نے درخواست دائر کر رکھی ہے۔لاہور ہائی کورٹ میں شہری کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہوہ وی پی این پر بھی ٹک ٹاک کو بند کرنے کا حکم دے۔درخواست میں اعتراف کیا گیا تھا کہ پی ٹی اے نے قواعد و ضوابط کے تحت ٹک ٹاک کو بند کیا ہے، تاہم ملک بھر میں لوگ مذکورہ ایپ کو وی پی این پر چلاکر تاحال فحش مواد کی تشہیر کر رہے ہیں۔دوسری جانب رواں ہفتے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور ٹیلی کام کے وفاقی وزیر امین الحق نے کہا تھا کہ ٹک ٹاک سے جلد ہی پابندی ختم کردی جائے گی۔امین الحق کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف ہیں اور انہیں امید ہے کہ شیئرنگ ایپلی کیشن انتظامیہ سے معاملات حل ہوجائیں گے۔ایک سوال کے جواب میں امین الحق نے تصدیق کی کہ ٹک ٹاک انتظامیہ حکومت پاکستان کے ساتھ رابطے میں ہے اور دونوں پارٹیوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔