زینب الرٹ اپلیکیشن متعارف کروا دی گئی ۔۔۔ یہ ایپ کس طرح سے کام کرے گی؟ جانیے

لاہور(ویب ڈیسک) بچوں پر ظلم کی اطلاع کیسے دیں ؟ وزارت انسانی حقوق نے زینب الرٹ ایپ کا پاکستان سٹیزن پورٹل پر اجرا کردیا۔افتتاحی تقریب میں زینب کے والد امین انصاری کی شرکت ، شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ یہ وفاقی حکومت کی جانب سے لاپتہ بچوں کی تلاش اور تلاش کرنے والے اداروں

کی کوششوں کو منظم اور مستحکم کرنے کی ایک قابل تحسین کوشش ہے۔وزارت انسانی حقوق نے زینب الرٹ ایپ کا پاکستان سٹیزن پورٹل پر اجرا کردیا۔اس ایپ کا طریقہ کار وزارت انسانی حقوق نے وزیر اعظم کے پرفارمنس ڈلیوری یونٹ کے اشتراک سے تیار کیا ہے۔ زینب الرٹ نے فوری اقدام اور بازیابی کے الرٹس کو موثر اور آسان بنانے کیلئے اے آئی فیس ریکگنیشن ، جیو ٹیگنگ، میپنگ، ریئل ٹائم پروگریس ٹریکنگ اور الرٹس جیسی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے۔اسلام آباد میں زینب ایپ افتتاحی تقریب میں زینب کے والد امین انصاری نے شرکت کی۔ تقریب میں وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری اوروزیر منصوبہ بندی اسد عمر بھی شریک تھے۔ شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ یہ وفاقی حکومت کی جانب سے لاپتہ بچوں کی تلاش اور تلاش کرنے والے اداروں کی کوششوں کو منظم اور مستحکم کرنے کی ایک قابل تحسین کوشش ہے۔وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ بچوں سے زیادتی سے زیادہ گھناؤنا جرم کوئی اور نہیں ہے. جو بدقسمتی سے ہمارے ملک بار بار پیش آہ رہا ہے. اس ایپ کے لانچ ہونے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔اس موقع پر زینب کے والد آمین انصاری نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بل کی تیاری میں کچھ تاخیر تو ضرور ہوئی لیکن شکر ہے اب اس کی وجہ سے بچوں سے ظلم کے واقعات میں ملوث افراد تک بآسانی پہنچا جا سکے گا۔تقریب کے شرکا نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ ایپ لاپتہ بچوں کی موثر ہنگامی امداد اور بازیابی کے لئے متعلقہ علاقائی اور ضلعی سطح پر ریاستی مشینری کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔