قبلہ کی سمت کاتعین…..!! معروف ٹیکنالوجی کمپنی نے معمہ حل کر دیا ،جانئیے

جنوبی کوریاکی معروف ٹیکنالوجی کمپنی سام سانگ ایسے مسلمان حضرات کے لیے جن کوقبلہ کی سمت کاتعین کرنے میں مشکلات کاسامناہوتاہے ان کے لیے ایک نیافونB360Eمتعارف کرایاہے۔کمپنی نے یہ فون متحدہ عرب امارات کی مارکیٹ میں متعارف کرایا۔اس میں ایک قبلہ مینودیاگیاہے جس پرکلک کرکے صارف قبلہ معلوم کرسکتاہے ۔

مینیوپرکلک کرنے سے فون صارف کوسیٹنگ میں لے جاتاہے اورصارف جس ملک میں بھی ہوتاہے اس کے حساب سے اس کوقبلہ کی سمت کاتعین کرکے دیتاہے اس کے علاوہ اس فون میں دیگراسلامی معلومات جیساکہ نمازوں کے اوقات،زکواة کی ادائیگی اورمسائل ،نمازوں کے لیے الارم سمیت بے شماراسلامی معلومات فراہم کی گئی ہیں اس فون کاوزن 75گرام جب کہ اس کاکیمرہ 3.1میگاپکسل پرمشتمل ہے۔مزید پڑھئیے ::کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کو اپنا فون نمبر کبھی بھی فیس بک پر نہیں دینا چاہئے، اور کیوں نہیں دینا چاہئے؟ ٹیکنالوجی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ اگر آپ فیس بک پر اپنا فون نمبر دے بیٹھیں تو آپ کی پرائیویسی سیٹنگ جیسی بھی ہو ہیکر آپ کی پرائیویٹ معلومات فون نمبر کی مدد سے تلاش کرسکتے ہیں۔ فیس بک پر دیا گیا فون نمبر محض سرچ بار میں لکھنے سے کسی صارف کا نام، تصاویر اور لوکیشن معلوم کی جاسکتی ہے، یعنی آپ نے جو تصاویر پرائیویٹ بھی رکھی ہیں وہ بھی آپ کے فون نمبر کی مدد سے لوگوں کے سامنے آجائیں گی۔ سالٹ ایجنسی نامی ادارے کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر رضا معین الدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک کوڈنگ سکرپٹ کی مدد سے برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا کے تمام فون نمبر حاصل کئے اور پھر جب یہ نمبر فیس بک APIپروگرام کو بھیجے تو تمام فون نمبر جو کہ فیس بک پر دیئے گئے تھے ان کی پرائیویٹ تفصیلات، تصاویر اور ویڈیوز ان کو موصول ہوگئیں۔ ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے اپریل میں فیس بک کو اس مسئلے سے خبردار کرنے اور APIپروگرام کو انکرپٹ کرنے کے مطالبے کے باوجود اس میں خامیاں موجود ہیں جن کی وجہ سے تقریباً ڈیڑھ ارب صارفین کا پرائیویٹ ڈیٹا خطرے میں ہے۔مزید پڑھئیے :: نیپال اور بھارت تباہی کے دھانے پر۔سائنسدانوں کے اعلان نے کھلبلی مچادی،سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ مغربی نیپال اور شمالی بھارت میں مستقبل میں ایک بڑا زلزلہ آنے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔نئے اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ رواں برس اپریل میں نیپال میں آنے والے زلزلے سے وہ تمام توانائی خارج نہیں ہوئی جو کہ زیرِ زمین جمع ہے بلکہ یہ دباو¿ مغرب کی جانب منتقل ہوگیا ہے۔یہ تحقیق جیو سائنس اور سائنس نامی رسالوں میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مصنفین کا کہنا ہے کہ اس دریافت کے بعد اب مذکورہ علاقے کی زیادہ نگرانی کی ضرورت ہے۔کیمبرج یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ڑاں فلیپ ایوویک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’یہ وہ علاقہ ہے جو توجہ کا طالب ہے۔ اگر آج کوئی زلزلہ آتا ہے تو وہ صرف مغربی نیپال ہی نہیں شمالی بھارت کےگنجان آباد علاقوں کی وجہ سے تباہ کن ہو گا۔‘نیپال میں رواں برس س7.8 شدت کے زلزلے سے نو ہزار افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی اور بےگھر ہوئے تھے۔یہ زلزلہ اس علاقے میں آیا جہاں انڈین ٹیکٹونک پلیٹ شمال کی جانب یوریشیئن پلیٹ میں دھنستی ہے اور اس کی وجہ سے یہاں زمین سالانہ دو سنٹی میٹر کی شرح سے حرکت کر رہی ہے۔ان دونوں پلیٹوں کا سرحدی علاقہ آپس میں دھنسنے کی وجہ سے بند ہو چکا ہے اور یہاں جمع ہونے والی توانائی کسی بڑے زلزلے کے نتیجے میں ہی خارج ہو سکتی ہے۔25 اپریل کو آنے والے زلزلے سے اس توانائی کا جزوی اخراج ہی ہوا ہے۔یہ زلزلہ اس علاقے میں آیا جہاں انڈین ٹیکٹونک پلیٹ شمال کی جانب یوریشیئن پلیٹ میں دھنستی ہے،پروفیسر ایوویک کا کہنا ہے کہ ’اگر زلزلے سے اس بند حصے میں دراڑیں پڑتیں جو ہمالیہ کے دامن تک جاتیں تو نیپال کے زلزلے کی شدت کہیں زیادہ ہوتی۔‘تاہم ان کا کہنا ہے کہ چونکہ ایسا نہیں ہوا اس لیے کچھ دباو¿ مغرب کی جانب منتقل ہو گیا ہے اور یہ علاقہ نیپال میں پوکھرا کے مغرب سے بھارت میں دہلی کے شمالی علاقوں تک پھیلا ہوا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’فی الوقت تو ہم مغربی نیپال کے بارے میں زیادہ فکرمند ہیں۔‘ماہرین کے مطابق اس علاقے میں ایک بڑا زلزلہ آنے کا وقت آ چکا ہے۔ یہاں 1505 میں بڑا زلزلہ آیا تھا جس کی شدت 8.5 سے زیادہ تھی۔محققین کا کہنا ہے کہ اب جبکہ دباو¿ بھی اسی علاقے کی جانب منتقل ہوا ہے تو وہ پانچ سو برس سے جمع ہونے والی توانائی میں شامل ہو کر تباہی لا سکتا ہے۔ان کے مطابق اگرچہ زلزلے کی آمد کا درست اندازہ لگانا ناممکن ہے لیکن اب مغربی نیپال کے مذکورہ علاقے کی مسلسل نگرانی کی جانی چاہیے۔زلزلے سے اس بند حصے میں دراڑیں پڑتیں جو ہمالیہ کے دامن تک جاتیں تو نیپال کے زلزلے کی شدت کہیں زیادہ ہوتیپروفیسر ایوویک کے مطابق ’ہم لوگوں کو خوفزدہ نہیں کرنا چاہتے لیکن ضروری ہے کہ انھیں خبر ہو کہ وہ اس علاقے میں مقیم ہیں جہاں توانائی کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’نیپال میں بہت سے خاندان اپنے مکانات تعمیر کر رہے ہیں جن میں زلزلے کا خیال نہیں رکھا جا رہا۔ ضروری ہے کہ ایسے چھوٹے مکانات بنائے جائیں جو بڑے زلزلوں کو سہار سکیں۔‘اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے اوپن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ رودری کا کہنا ہے کہ ’نگرانی کا طریقہ اب اتنا جدید ہو چکا ہے جہاں ہم ایک بڑے زلزلے کے آنے سے چند منٹ قبل یہ جان سکتے ہیں کہ کیسے پہلے سے بند فلاٹ لائن کھل گئی۔‘پروفیسر ایوویک کا کہنا ہے کہ ’جب میں نے نیپال میں کٹھمنڈو کے قریب 7.8 شدت کے زلزلے کا سنا تو میں تین سے چار لاکھ افراد کی ہلاکت کی خبر سننے کے لیے تیار تھا۔ تاہم اس زلزلے نے اتنی توانائی خارج نہیں کی جو کٹھمنڈو کی چھوٹی عمارتوں کے لیے تباہ کن ہوتی۔‘