گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار میں تیزی…!! اس عمل کو روکنا اب ممکن نہیں، سائنسدانوں کی پیشنگوئی

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برف کی تہہ میں اب ہر سال نصف میٹر سے لے کر پورے ایک میٹر تک کی کمی واقع ہو رہی ہے۔ یہ رفتار بیسویں صدی میں گلیشیئرز پگھلنے کی اوسط رفتار سے تین گنا زیادہ ہے۔ اس جائزے میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں موجود گلیشیئرز کا توازن بگڑ چکا ہے۔ یہ گلیشیئرز اس حد تک غیر

مستحکم اور غیر متوازن ہو چکے ہیں کہ اگر موسمیاتی تبدیلیوں کا عمل آگے بڑھنے سے رک بھی جائے تو ان گلیشیئرز کی برف بدستور پگھلتی رہے گی۔ بتایا گیا ہے کہ یورپ کے بیچوں بیچ واقع ایلپس پہاڑی سلسلہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ سیمپ کے مطابق ’آلیچ‘ گلیشیئر کئی کلومیٹر پیچھے چلا گیا ہے۔ ’مورٹیراچ‘ گلیشیئر کے حجم میں بھی بڑے پیمانے پر کمی ہوئی ہے۔ ادھر الاسکا میں گلکانا اور لیمن کریک نامی گلیشیئرز کا حجم بھی بہت زیادہ کم ہوا ہے.مزید پڑھئیے :: کائنات کی ہر شے ایک طے شدہ سسٹم کے تحت کام کر رہی ہے اور زمین سے لے کر ستاروں، سیاروں کے درمیان ایک ایسی قوت ہے جو سب کو ایک خاص نظام میں جکڑے ہوئے ہے لیکن اب سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انسان بھی ایک کمپیوٹر پروگرام کے ذریعے کنٹرول ہورہے ہیں جب کہ یہ جسم ہمارے اصل جسم نہیں بلکہ اصل کی
نقل ہیں۔برطانوی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ تمام انسان فلم میٹرکس کی طرح کام کر رہے ہیں جس میں انسان کا اصل جسم ایک مشین کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ے بالکل اسی طرح ہمارے جسم بھی کہیں اور سے کنٹرول ہو رہے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس بات کے بڑے اہم ثبوت موجود ہیں جس میں سب سے اہم یہ ہے کہ ہماری پوری زندگی ریاضی کے اصولوں کے تحت کام کر رہی ہے ایسے ہی جیسے ایک کمپیوٹر پروگرام کام کرتا ہے۔کلوز ٹو ٹروتھ کے مصنف رابرٹ لارنس کا کہنا ہے کہ یہ نظریہ حقیقت سے دور نہیں بلکہ زندگی کی بناوٹ سے یہی لگ رہا ہے کہ سب کچھ ریاضی کے اصولوں پر کام کررہا ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے اہم سائنس دان نک بوسٹروم کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے میٹرکس کی طرح ہمارے دماغ کسی حوض یا مشین میں نہ رکھیں ہوں بلکہ اس کی بجائے ہمارے ذہنوں کو بناوٹی طوربنایا گیا ہو اور اس میں سوچوں کو ضرورت کے مطابق بھر دیا جاتا ہو یا پھر ہوسکتا ہے کہ ہمارے دماغ کسی سینسر سے کنٹرول کیے جانے کی بجائے بلکہ خود نقلی ہوں جس میں نیورون اور سائنیپسز کو کمپیوٹر پروگرام کے ذریعے کنٹرول کیا جا رہا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری دنیا کا ہر ہر جز ریاضی کے اصولوں پر سختی سے عمل پیرا ہے جس طرح کمپیوٹر پروگرام ہوتا ہے جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ کائنات کا پورا نظام کہیں اور سے کنٹرول ہو رہے ہیں