پاکستانی قوم انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ کس چیز کی تلاش کرتی ؟انکشافات نے سر شرم سے جھکا دئیے

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) آج کے جدید دور میں کسی بھی قوم کے خیالات جاننے کا یاک اہم ذریعہ انٹرنیٹ بھی ہے جو لوگوں کی سوچوں خواہشات اور تاثرات کا عکاس ہوتا ہے۔مختلف قسم کے سروے اور تحقیقات مختلف اوقات میں یہ بتا چکے ہیں کہ پاکستانی قوم انٹرنیٹ سب سے زیادہ کس چیز کی تلاش کرتی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں سے

اکثرتحقیقات میں پروپگنڈے کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔حال ہی میں عالمی پیمانے پر مختلف اشیاءکی قیمتوں پر تحقیق کرنے والی ویب سائٹ فکسر نے مختلف ممالک کےافراد کی طرف سے سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی اشیاءپر تحقیق کی تو نتائج خاصے حیران کن رہے۔اس تحقیق کے مطابق پاکستانی لوگ سب سے زیادہ شادی کے بارے میں متفکر پائے گئے اور اور کسی بھی چیز کی نسبت شادی سے متعلق زیادہ سرچ کی گئی، جس میں دیگر ممالک میں عجیب وغریب قسم کے رجحانات بھی سامنے آئے۔بھارت میں سب سے زیادہ گائے کی قیمت ، چین میں الیکٹرانکس ، افغانستان میں اور عرب ممالک میں اونٹ ، روس میں میں جنگی جہاز جبکہ برازیل میں سب سے زیادہ سرچ جسم فروشی کی گئی۔مزید پڑھئیے :: ناسا کے سائنسدانوں کو ان دنوں ایک 22سالہ طالب علم کے کارنامے نے چکرا کے رکھ دیا ہے۔ طالب علم نے زمین سے22میل کی بلندی پر اجنبی نوعیت کی سسکاری سے ملتی جلتی آوازیں ریکارڈ کی ہیں۔ ان آوازوں کو ریکارڈ کرنے کیلئے انفراساو¿نڈ مائیکروفونز استعمال کئے گئے تھے۔ مذکورہ طالب علم جو کہ خود ناسا کا ہی طالب علم ہے، ایریزونا اور نیومیکسیکو کے علاقے میں یہ تجربہ کررہا تھا۔ اس کیلئے انہوں نے غبارے پر مبنی ٹیکنالوجی کاا ستعمال کیا تھا، آوازوں کو ریکارڈ کرنے کے قابل انفراساو¿نڈ سینسرز غبارے سیمنسلک کئے گئے تھے۔یہ غبارہ37ہزار500میٹرز کی بلندی تک گیا اور امکان ہے کہ اسی مقام پر اس نے یہ آوازیں ریکارڈ کیں۔ یہ آوازیں کافی سست رفتار ہیں اور انہیں سمجھنے کیلئے ریکارڈنگز کو تھوڑا تیز چلانا پڑتا ہے۔ سائنسدانوں کیلئے یہ آوازیں اس لئے بھی پریشان کن ہیں کہ انفراساو¿نڈز میں یہ صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ یہ طویل فاصلے کی آوازوں کو بھی ریکارڈ کرلیتا ہے، ایسے میں سائنسدانوں کیلئے یہ فیصلہ کرنا بے حد مشکل ہے کہ دراصل آوازوں کا اصل منبع کہاں ہے۔ مذکورہ طالب عالم ڈیوڈ بومین نے ان آوازوں کو ایکس فائلز کی مانند قرار دیا ہے۔ ڈیوڈ پر امید ہیں کہ اگر خلا میں آوازوں کی ریکارڈنگ کا اہتمام کیا جائے تو وہ مزید آوازیں بھی ریکارڈ کرسکیں گے۔ واضح رہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ اس قدر بلندی پر آوازیں ریکارڈ کی جاسکی ہیں۔ یہ آوازیں سننے والے ماہرین نے ان سے لاعلمی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ وہ تحقیق کے بعد ہی ان آوازوں کے منبع کو جان سکیں گے۔