وہ بڑی کمپنی جو جلد ہی اپنے سمارٹ فون کی چارجر کیبل تبدیل کرنے والی ہے، اس میں اچانک کیا نقص نکل آیا ؟

لاہور(ویب ڈیسک)فون اور دیگر الیکٹرانک آلات بنانے والی کمپنی ایپل کو ممکنہ طور پر اپنے مخصوص لائٹننگ کنیکٹر کیبل کے بجائے عمومی چارجنگ کنیکٹر اپنانا پڑ سکتا ہے۔اس کیبل کو کئی ایپل ڈیوائسز مثلاً آئی فون کو چارج کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔مگر یورپی پارلیمان کے ارکان نے پیر کو یورپی کمیشن پر

زور دیا کہ وہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ایک ہی چارجنگ کیبل اپنانے پر مجبور کریں۔ چارجنگ کیبل کی دو دیگر اقسام یو ایس بی ٹائپ سی اور مائیکرو یو ایس بی اینڈروئیڈ ڈیوائسز پر استعمال کی جاتی ہیں اور ایپل نے آئی پیڈ 2019 میں پہلے ہی لائٹننگ کیبل کا استعمال ترک کر دیا ہے۔ یورپی ریگولیٹرز اس معاملے پر ووٹنگ کریں گے مگر اس کی ابھی تک تاریخ متعین نہیں کی گئی ہے۔ تاہم ایپل کا کہنا ہے کہ مجوزہ ضوابط جدت کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے اور صارفین کی مشکلات میں اضافہ کریں گے۔اگر ریگولیٹر مجوزہ ضوابط کا نفاذ کر دے تو یورپ میں فروخت ہونے والی ایپل ڈیوائسز کو چارجنگ کا نیا طریقہ اپنانا پڑے گا۔ممکنہ طور پر کمپنی یو ایس بی ٹائپ سی اپنائے گی کیونکہ کمپنی اپنے 2019 آئی پیڈ پرو میں لائٹننگ کیبل کو ترک کر کے یہی ٹیکنالوجی اپنا چکی ہے۔ایک اور ممکنہ آپشن یہ ہوگا کہ چارجنگ پورٹس اور کیبلز کو بالکل ختم کر کے وائرلیس چارجنگ استعمال کی جائے۔نئی کیبل گذشتہ 13 سالوں میں ایپل کی تیسری کیبل ہوگی۔ زیادہ تر نئے اینڈروئیڈ فونز میں پہلے ہی یو ایس بی ٹائپ سی استعمال ہوتی ہے۔یورپی کمیشن گذشتہ ایک دہائی سے چارجنگ کے یکساں طریقہ کار اپنائے جانے کی کوشش میں ہے۔سنہ 2009 میں مارکیٹ میں 30 سے زائد اقسام کے چارجر تھے لیکن یہ عدد اب کم ہو کر صرف تین ہوگیا ہے۔کمیشن پرانی کیبلز سے پیدا ہونے والے الیکٹرانک کچرے کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے جو اس کے مطابق ہر سال 51 ہزار ٹن کچرا پیدا کرتی ہیں۔یورپی پارلیمان کے رکن ایلیکس سالیبا نے کہا کہ ’یہ ماحول کے لیے شدید نقصاندہ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’تمام موبائل فونز، ٹیبلٹس، ای بُک ریڈرز اور ایسی ہی دیگر ڈیوائسز میں ایک طرح کا چارجر استعمال ہونا چاہیے۔یو ایس بی ٹائپ سی کیبل 2014 میں متعارف کروائی گئی تھی اور یہ اب نئے بننے والے زیادہ تر فونز میں استعمال ہوتی ہےایپل اور دیگر 10 بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں بشمول نوکیا اور سام سنگ نے 2009 میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔انھوں نے عہد کیا تھا کہ صارفین کو مائیکرو یو ایس بی سے ہم آہنگ چارجر فراہم کریں گے۔مگر ایپل نے اس میں موجود ایک سقم کا فائدہ اٹھایا جس کے تحت تیار کنندگان اگر صارفین کو ایڈاپٹر فراہم کرتے تو اس صورت میں وہ اپنے چارجرز کا استعمال جاری رکھ سکتے تھے۔ پھر سنہ 2014 میں یورپی یونین نے ریڈیو ایکوئپمنٹ ڈائریکٹیو نامی ایک ہدایت نامہ جاری کیا جس میں ‘ایک یکساں چارجر تیار کرنے کی ازسرِنو کوششوں کا مطالبہ کیا گیا تھا۔’ایپل نے اصرار کیا کہ اس کی پتلی ڈیوائسز اس وقت نئی آنے والی یو ایس بی ٹائپ سی ٹیکنالوجی کو اپنے اندر نہیں سمو سکیں گی، اور دعویٰ کیا کہ اس معیار پر پورا اترنے کی لاگت 2 ارب ڈالر (1.53 ارب پاؤنڈ) ہوگی۔ایپل اور اس کے کئی مخالفین مثلاً ہیواوے اور سام سنگ نے پہلے ہی وائرلیس چارجنگ کی صلاحیت رکھنے والی ڈیوائسز جاری کر دی ہیں۔ویسے تو یہ ٹیکنالوجی ابھی نئی ہے مگر اس شعبے میں نئی پیش رفتوں کی وجہ سے یہ چارجنگ کے روایتی طریقوں سے مقابلہ کر سکتی ہے۔چند تجزیہ کاروں کی پیشگوئی ہے کہ ایپل مستقبل میں مکمل طور پر وائرلیس چارجنگ پر منحصر آئی فون اور آئی پیڈ متعارف کروا کر چارجنگ پورٹس کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ سکتی ہے۔