سمارٹ فون کی بیٹری کو بہترین حالت میں رکھنے کے لیے ماہرین کے چند مفید مشورے

نیو یارک (ویب ڈیسک) ایک سروے کے مطابق اسمارٹ فون صارفین اسکرین سائز کے بعد فوری طور پر فون کی بیٹری کو اہمیت دیتے ہیں اور تیسرا نمبر کیمرے کا ہوتا ہے ۔ اس ضمن میں بعض ماہرین نے اپنے تجربے کی روشنی میں مفید مشورے دیئے ہیں جو قارئین کے لیے پیش کیے جارہے ہیں۔

فاسٹ چارجر، فائدہ مند یا نقصان دہ:پوری دنیا میں اسمارٹ فون کے فاسٹ چارجر کے متعلق طرح طرح کی غلط فہمیاں عام ہیں کہ ان سے بیٹریاں کمزور ہوکر اپنی مدت سے پہلے ناکارہ ہوجاتی ہیں۔درحقیقت ایسا نہیں ہے کیونکہ ہواوے، گوگل، ون پلس، ایپل اور سام سنگ وغیرہ بھی فاسٹ چارجر پیش کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ خود دیگر ماہرین بھی کہتے ہیں کہ تیزرفتار چارجر سے بیٹری کی لائف متاثر نہیں ہوتی۔روایتی چارجر 5 سے 10 واٹ آؤٹ پٹ دیتے ہیں۔ تیزرفتار چارجر اس سے آٹھ گنا رفتار پر چارج بھرتے ہیں۔ مثلا آئی فون الیون اور پرومیکس کے فاسٹ چارجر 18 واٹ کی شرح پر کام کرتے ہیں۔ اسی طرح گیلکسی نوٹ 10 اور نوٹ 10 پلیس کے فاسٹ چارجر 25 واٹ کی رفتار سے بجلی بھرتے ہیں۔اس طرح فاسٹ چارجر بیٹریوں کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچاتے لیکن یاد رہے کہ سام سنگ گیلکسی نوٹ سیون میں بیٹریاں پھٹنے کے جو واقعات ہوئے ہیں اس کی وجہ بیٹری کی خراب ڈیزائننگ تھیں نہ کہ بیٹری مینجمنٹ سافٹ ویئر میں کوئی خرابی تھی۔

اوور چارجنگ کی گھبراہٹ: ہم میں سے اکثر فون کو 100 فیصد سے اوپر چارج نہیں کرتے جو اچھی بات ہے لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ بیٹری فل ہونے کے بعد بھی چارج ہونے سے فون کی بیٹریاں متاثر ہوتی ہیں۔ اوور چارجنگ اور بیٹری کو نقصان پہنچنے کا معاملہ پرانے فون میں ہوتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔جدید اسمارٹ فون میں بیٹری پاور اور مینجمنٹ سسٹم پر بہت زور دیا جاتا ہے اور 100 فیصد چارج کے فوراً بعد ہی بیٹری تک چارج نہیں پہنچ پاتا اور وہیں رک جاتا ہے۔ اس کے لیے اسمارٹ فون میں خاص طرح کے سافٹ ویئر فون کی بیٹری میں اندھا دھند چارج بھرنے کے عمل کو روکتے ہیں۔آرگون نیشنل لیبارٹری میں بیٹری کی ٹیکنالوجی کے ماہر وینکٹ سرینواسن کہتے ہیں کہ نئے اسمارٹ فون میں اوور چارجنگ کو روکنے کا مؤثر نظام موجود ہوتا ہے جو بیٹری فل ہوجانے پر الیکٹرون کو مزید جمع ہونے سے 80 فیصد روکتا ہے۔

ایک مفید مشورہ: تمام ماہرین کا مشورہ ہے کہ فون کی بیٹری کو صفر تک نہ پہنچنے دیں اور جب وہ 20 سے 30 فیصد تک پہنچ جائے تو اسے چارج پر لگادیں۔ اس طرح بیٹری پر دباؤ نہیں پڑے گا اور اس کی کیمیائی کیفیت برقرار رہے گی۔بیٹری کو گرمی سے بچائیںتپش اور بلند درجہ حرارت بیٹری کے اصل دشمن ہیں۔ اس لیے فون کو دھوپ میں نہ رکھیں، نہ ہی دوپہر کو گاڑی کے ڈیش بورڈ پر چھوڑیں کیونکہ اس سے بیٹری تیزی تیزی کے ساتھ متاثر ہوسکتی ہے۔بیٹری ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی ایک کمپنی کیڈکس الیکٹرانکس کےمالک آئیسڈور بکمان کے مطابق 30 درجے سینٹی گریڈ یا اس سے زائد درجہ حرارت بیٹری کو نقصان پہنچاسکتا ہے۔ اس لیے بیٹری کو ٹھنڈا رکھنا ضروری ہوتا ہے۔بیٹری بچانے کی تدابیر: بیٹری کا خرچ کم کرنے کی اہم تدابیر کے لیے بعض ٹوٹکے آزمائے جاسکتے ہیں۔ اسکرین کی روشنی مدھم کرنے، وائی فائی بند کرنے اور بلیو ٹوتھ کا غیر ضروری استعمال بیٹری کو دیر تک قابلِ عمل رکھتا ہے۔علاوہ ازیں بیک گراؤنڈ میں چلنے والی ایپس اور چلنے والے ڈیٹا کو بند کرکے بھی بیٹری کی بچت کی جاسکتی ہے۔