چاند کے بعد سورج کو فتح کرنے کی کوشش مہنگی پڑ گئی۔۔۔۔ ناسا کی ایک خلائی گاڑی جب سورج کے قریب پہنچی تو کیا واقعہ پیش آیا ؟ حیران کن خبر

لاہور(ویب ڈیسک) چند عرصہ پہلے خبر سامنے آئی تھی کہ چین اپنی توانائی کی ضرورت پورا کرنے کے لیے’مصنوعی سورج‘ بنا رہا ہے، اور اس اقدام پر امریکا سمیت دنیا بھر میں تنقید بھی کی گئی، لیکن اب امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی طرف سے ایک خبر سامنے آئی ہے جس کے مطابق ناسا کا

مشن پارکر سولر پروب‘‘ سورج کے نہایت قریب پہنچ گیا ہے ایسا دنیا میں پہلی بار ہوا ہے کہ سورج کے اتنے قریب سے ڈیٹا حاصل کیا گیا ہو۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کا سورج کو چھونے کا مشن تباہی سے بال بال بچ گیا، ادارے کا ’’پارکر سولر پروب‘‘ سورج کے نہایت قریب پہنچا تو امکان تھا کہ ایک عام گاڑی کے سائز کے برابر پروب جل کر بھسمم ہو جاتا لیکن ناسا کے ماہرین اسے وہاں سے بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔ پچھلے سال دسمبر میں امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے سورج کے قریب سے بنائی جانے والی تصویر شیئر کی تھی، جس کے گرد ستارے گردش کر رہے تھے، تصویر کو شیئر کرنے کا مقصد تھا کہ ناسا کی طرف سے دنیا بھر کو آگاہ کرسکے کہ اُن کا سورج کو چھونے کے مشن پر بھیجے گئے خلابازوں نے کام شروع کردیا ہے۔ یہ تصویر پارکر سولر پروپ مشن نے اپنے طیارے سے 2 کروڑ 71 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر بنائی جبکہ زمین سے اس کا فاصلہ 21 کروڑ چالیس لاکھ سال ہے۔ یاد رہے کہ 2018 میں امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا نے نظام شمسی کے راز جاننے کے لیے خطرناک اور جان لیوا ’سورج کو چھونے‘ کا آغاز کیا تھا جس کے لیے’سولر پروب پلس‘ نامی مصنوعی سیارہ گیارہ اگست کو سورج کی جانب بھیجا گیا تھا۔ ناسا نے دعویٰ کیا تھا کہ اُن کا مشن سورج کے اتنے قریب پہنچنے کا ہے جتنا آج تک کوئی بھی نہیں پہنچ سکا، ایک عام سی گاڑی کے سائز کا سیارہ سورج سے اکسٹھ لاکھ کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچے گا جو پچھلے مصنوعی سیاروں کی نسبت سات سورج سے گنا زیادہ قریب ہوگا۔