پورے پاکستان کے لیے بڑی سہولت ۔۔۔۔ کراچی میں اپنی نوعیت کی پہلی لیبارٹری تیار ۔۔۔ کام شروع کردیا گیا

کراچی (ویب ڈیسک) جامعہ کراچی میں صوبے کی پہلی سندھ فارنزک ڈی این اے سیرولوجی تجزیاتی لیبارٹری تیار کر لی گئی۔ لیب رواں ماہ کام شروع کر دے گی، پولیس افسران کی تربیت کے ساتھ لیب مجرموں کی نشاندہی سمیت تفتیش میں اہم ثابت ہو گی۔برسوں پرانے کیسز نمٹنے کا امکان، جامعہ کراچی میں سندھ کی پہلی
جدید فارنرک ڈی این اے لیبارٹری تیار کر لی گئی جس کا رواں ماہ آغاز ہو جائے گا۔اب نہ صرف مجرموں کو پکڑنا آسان ہو جائے گا بلکہ مسخ شدہ لاشوں کی بھی جلد اور درست شناخت ممکن ہو جائے گی۔ شواہد کو اکھٹا کر کے محفوظ بنانے اور جائے وقوعہ سے ملنے والے انسانی جسم کے ٹشوز، سر کے بال ناخن، جلد یا خون سمیت جسم دیگر اجزاء کے نمونوں سے ڈی این اے ہو گا اور اس سے مجرموں تک رسائی ممکن ہو سکے گی۔لیب کی تیاری تمام بین الاقوامی اصولوں کے تحت کی گئی ہے، لیب کے لیے سائنسی آلات امریکہ سے درآمد کیے گئے جن کی مالیت 6 کروڑ روپے ہے۔ لیب میں بیک وقت 60 کے قریب نمونوں کے ڈی این اے کی گنجائش ہے۔ پی سی ایم ڈی کے سرپرست ادارے جامعہ کراچی کے انٹرنیشنل سینٹرفار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسزنے صوبائی محکمہ صحت کو باقاعدہ فارنسک ڈی این اے لیب کی تیاری اورتکمیل سے آگاہ کردیاہے اورساتھ ہی بین الاقوامی اصولوں کومدنظررکھتے ہوئے لیب میں کام کرنے والے تمام ٹیکنیکل عملے اورسائنسدانوں کے اپنے ڈی این اے لے کراسے محفوظ کردیاگیاہے تاکہ ڈی این اے کے تجزیاتی عمل کے دوران کسی غلطی سے تجزیاتی عمل کومحفوظ رکھا جا سکے۔ واضح رہے کہ سندھ فارنزک ڈی این اے لیب کے لیے سائنسی آلات امریکا سے درآمد کیے گئے ہیں ان میں 2ڈی این اے جینیٹک اینالائیزر 3500(DNA Genetic analyzer) اور 2 ’’پی سی آر‘‘ شامل ہیں، ان آلات کی قیمت مجموعی طورپر6 کروڑروپے کے قریب ہے۔