بجلی کے بل میں واضح کمی لانے کے چند آزمودہ طریقے جو ہرگز آپ کے علم میں نہ ہونگے

لاہور(ویب ڈیسک) بجلی کی بچت کرنا اس دور میں بڑی کامیابی حاصل کرنے سے کم نہیں لیکن اگر ایسا کرلیا جائے تو بجلی کے بِل میں کمی اور پیسوں کی بچت ہوتی ہے۔ کیا آپ بھی یہی سمجھتےہیں کہ کمرے سے نکلتے ہوئے لائٹس اورپنکھے کے سوئچ آف کرنے یا برقی آلات کو صرف ضرورت

کے وقت استعمال کرنے کے ذریعے بجلی کے بل کم میں کمی لائی جاسکتی ہے؟ یقیناً یہ کوئی غلط سوچ نہیں ہے مگر یہ سب کرنے کے باوجود مہینے کے آخر میں آنے والے بل کی بھاری رقم دیکھ کر آپ کو مایوسی ہوتی ہوگی۔ بجلی کے بل میں کمی لانے کے لیے آپ کو کچھ دیگر باتوں پر بھی عمل کرنا ہوگا، جس کے لیے ہم آپ کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ اس تبدیلی کو سمجھنے کے لیے ’فینٹم لوڈ‘ کی اصطلاح کا لفظ سمجھنا ضروری ہے۔ یہ اصطلاح اس ضائع ہونے والی بجلی سے متعلق استعمال کی جاتی ہے، جو درحقیقت استعمال میں نہ آنے کے باوجود پلگ لگے رہنے کی صورت میں ضائع ہوتی ہے، جیسے کہ جوسر بلینڈر استعمال کرنے کے بعد صرف سوئچ بند کر دینا اور پلگ لگا چھوڑدینا۔امریکا کے شعبہ توانائی کے مطابق تقریباً 75 فیصد گھروں میں زائد بجلی اسی وجہ سے خرچ ہوتی ہے کہ جب آلات کے سوئچ بند ہونے کے باوجود ان کے پلگ لگے رہیں۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق کے مطابق رہائشی علاقوں میں توانائی کا 6فیصد حصہ فینٹم لوڈ کی صورت ہی شمار کیا جاتا ہے۔ اس لوڈ کو کم کرنے کے لیے طرز عمل میں خاص تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اور وہ یہ کہ جو برقی آلات استعمال میں نہ ہوں، ان کا سوئچ بند کرکے لازمی طورپر پلگ بھی نکالا جائے۔ اگر آپ برقی آلات کی خریداری کے لیے جارہے ہیں تو ایسے اپلائنسز خریدیں، جو کم سے کم بجلی استعمال کریں، اس کے لیے ایسے اپلائنسز دیکھیں جو دوسرے کی نسبت15سے50فیصد کم بجلی خرچ کرتے ہیں اور ان اپلائنسز کی قیمتوں میں کوئی خاص فرق بھی نہیں ہوتا۔

اس طرح صرف تھوڑی سی توجہ آپ کے بجلی کے بلوں میں کمی کا سبب بن جائے گی۔ سولر پینل یا شمسی توانائی بجلی بچانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ دنیا بھر کے ممالک شمسی توانائی کو استعمال کرنے لگے ہیں۔ آپ کے گھر کے وہ تمام حصے جہاں جہاں براہ راست سورج کی روشنی پڑتی ہے، وہاں رات کے اوقات میں روشنی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے شمسی آلات کا استعمال کریں۔ دن کے وقت سولربلب اور دیگر سولر آلات کو چارج کریں اور رات کے وقت انھیں جلا دیں۔ایئر کنڈیشنر بجلی کے بلوں میں اضافہ کا سب سے اہم سبب ہے، اس ضرورت کو کم کرنے کے لیےگھر کا درجہ حرارت کنٹرول کرنے کی جانب غور کریں۔ موسم گرما میں کمرے کی چھتوں ،پنکھوں اور گھر کو ٹھنڈا رکھنے والے آلات کا استعمال کریں۔ اگر تھرموسٹیٹ کو ایک ڈگری کم کردیں تو سالانہ بل10فیصد کم ہوسکتا ہے۔ ایئرکنڈیشنر کی خریداری کے دوران یہ خیال رکھیں کہ عام ایئرکنڈیشنر کی جگہ انورٹر ایئرکنڈیشنر خریدیں۔اگرچہ یہ ایئرکنڈیشنر تھوڑا مہنگا ہوتا ہے لیکن قیمت کے اس فرق کو آپ ایک سیزن میں بجلی کے بلوں میں فرق کے ذریعے برابر کرلیں گے۔ ہم سب جانتے ہیں پاکستان میں بجلی یونٹ کی قیمت رات اور دن میں مختلف ہوجاتی ہے۔کوشش کریں کہ زیادہ لوڈ والے اوقات میں آپ بجلی کا استعمال کم اور کم لوڈ والے وقت میں زیادہ کرلیں۔ مثال کے طور پر زیادہ بجلی کھینچنے والی ڈیوائسز کا استعمال اگر کم لوڈ والے اوقات میں کیا جائے تو آپ بغیر کسی زحمت کے ہر ماہ کچھ حد تک بجلی کی بچت کرلیں گے۔اگرکھڑکیاں ٹھیک ہوں تو شیشے کے ذریعے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہو تی ہیں۔ اگر آپ کی جیب اجازت دے تو گھر میںstorm ونڈو لگوالیں، اگر یہ آپ کے بجٹ سے باہر ہےتو آپ کھڑکیوں کو انرجی ایفیشنٹ بنانے اور انسولیشن کیلئے کھڑکیوں پر ٹرانسپیرنٹ مٹیریل کے کور کا استعمال کرسکتے ہیں۔عام طور پر لوگ قیمتوں میں فرق ہونے کے سبب ایل ای ڈی لائٹس اور بلب لگانے کو ترجیح نہیں دیتے، دوسری طرف زیادہ بلوں کی ادائیگی کرلیتے ہیں۔ ایک عام بلب کی نسبت ایل ای ڈی بلب مہنگا تو ہوتا ہے مگر یہ بجلی کی بچت میں نمایاں بہتری لاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر عام بلب مہینہ بھر میں ایک ہزار روپے کی بجلی خرچ کرتا ہے تو ایل ای ڈی میں یہ اوسط 300سے 400روپے ہوگی۔