یہ انسانیت کی آخری صدی ہے جلد یہ کام ہونے والا ہے ۔۔۔۔۔ بی بی سی کی رپورٹ میں پوری دنیا کو خبردار کر دیا گیا

لاہور(ویب ڈیسک)انسانی نسل کو فی الحال ماحولیاتی تبدیلی، ایٹمی جنگ، وبائی امراض یا پھر زمین کے ساتھ شہابی پتھروں کے ٹکرانے جیسے خطرات لاحق ہیں۔ریڈیو براڈكاسٹر اور فلسفی ڈیوڈ ایڈمنڈس نے ان امور کے ماہرین سے بات کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا رواں صدی کے آخر تک کرۂ ارض سے انسان

کا وجود مٹ تو نہیں جائے گا؟آکسفورڈ کے فیوچر آف ہيومنٹیز انسٹی ٹیوٹ کے محقق اینڈرس سینڈبرگ کا کہنا ہے کہ ‘بنی نوع انسان کے سامنے معدوم ہونے کا ایسا خطرہ ہے جو پوری کہانی ہی ختم کر دے گا۔’20 ویں صدی تک ہمارا یہ خیال تھا کہ ہم بہت ہی محفوظ جگہ آباد ہیں لیکن اب صورت حال بالکل بدل چکی ہے۔انسانیت کے ختم ہونے کا خطرہ تشویشناک حد تک بڑھ گيا ہے۔ اس کی چند مثالیں ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں۔سنہ 1980 کی دہائی تک ہمارا یہ خیال نہیں تھا کہ آسمان سے برسنے والے شہابیے سے زمین پر کوئی بڑی تباہی آئے گی لیکن رواں دہائی میں سائنسدان باپ بیٹے لوئی اور والٹر ایواریز نے ایک تصور پیش کیا کہ شہابیوں کی وجہ سے زمین سے ڈائنوسار ختم ہو گئے۔میکسیکو کی خلیج کے یوکٹان میں ایک بڑے گڑھے کی دریافت کے بعد سائنسدانوں کے ایک بین الاقوامی پینل نے حال ہی میں اس خیال کی حمایت کی ہے۔ بہر حال شہابیوں کے ٹکرانے کا امکان ابھی نہیں ہے لیکن ہم خود ہی مختلف اقسام کے خطرات پیدا کر رہے ہیں۔موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے ہم بہت حد تک آشنا ہیں لیکن لندن یونیورسٹی کی ریسرچر کیرن کلہیمین آبادی میں اضافے پر تحقیق کر رہی ہیں۔کم ہوتے قدرتی وسائل کی خبروں کے ساتھ اس کا ذکر ہم اس لیے نہیں کرتے کیونکہ ہم اس بارے میں سوچنا نہیں چاہتے۔ کیرن کے مطابق جن چیزوں سے انسانی آبادی اجتماعی قبر میں دفن ہو سکتی ہے ان میں موسمیاتی تبدیلی

اور آبادی میں اضافہ کا مشترکہ مسئلہ بھی شامل ہے۔ان کے مطابق آبادی میں اضافے کا آب و ہوا کی تبدیلی پر خاض اثر ہے کیونکہ وسائل ختم ہو رہے ہیں اور ان کا استحصال بڑھ رہا ہے اور یہ آب و ہوا کی تبدیلی کو مزید خوفناک صورت فراہم کرتا ہے۔ان کا خیال ہے کہ اگر آبادی میں اضافہ رک بھی جائے اس کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کو روکنا ناممکنات میں شامل ہے۔کچھ محققین کا کہنا ہے کہ اس صدی کے وسط تک کاروباری ماہی گیری کی صنعت کے لیے سمندر میں وافر مچھلیاں نہیں ہوں گی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ دکانوں میں خریدنے کے لیے کوئی مچھلی، چپس یا فش کری نہیں ہو گی۔کیڑے مکوڑے بھی تیزی سے ناپید ہو رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی چڑیوں کی کئی اقسام بھی ختم ہو رہی ہیں کیونکہ ان کی خوارک وہ کیڑے مکوڑے ہیں جو اب نہیں رہے۔ کرین کا کہنا ہے کہ ہم حیاتیاتی تنوع کے ختم ہونے کے نتائج سے لاعلم ہیں لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کے خاتمے سے ہماری زندگیوں پر برے اثرات مرتب ہونے والے ہیں۔کیمبرج کے سینٹر فار ایگزسٹنشیئل رسک سے منسلک للتھا سندرم حیاتیاتی خطرات کا مطالعہ کر رہی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ سنہ 1918 میں ہسپانوی بخار کی وبا کے دوران ایک اندازے کے مطابق تقریباً آدھی آبادی اس کی زد میں آ گئی تھی اور اس سے پانچ سے دس کروڑ افراد کی موت ہوئی تھی۔وبائی امراض اس وقت پھیلتے ہیں جب بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوتی ہے۔

اس وقت بھی لوگوں کو جنگوں سے واپس بھیجا جا رہا تھا اور وہ ڈربے نما کمروں میں رہ رہے تھے۔اگرچہ ہم ویکسین تیار کرنے میں زیادہ مہارت حاصل کر چکے ہیں لیکن عالمی سطح پر وبا کے خطرات ہیں۔ہسپانوی فلو کے دوران لوگ ٹرینوں اور کشتیوں سے سفر کرتے لیکن فضائی سفر کے اس دور میں وبا کے تیزی سے پھیلنے کا خدشہ ہے۔انسانوں کی پیدا کردہ زیادہ تر تباہی کے پس پشت کوئی مقصد کارفرما نہیں ہوتے لیکن سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں تباہ کن حملوں کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر سنتھیٹک بیالوجی کے استعمال سے لیب میں مہلک وائرس بنانا۔فیوچر آف لائف انسٹی ٹیوٹ میں محقق فل ٹوریس کے مطابق اگر کوئی تباہی لانے والا بٹن ایجاد کر لیا جائے تو اس بٹن کو دبا کر تباہی مچانے والے لوگوں کی کمی نہیں۔یہ بٹن دبانے والے سخت گیر مذہبی ہوسکتے ہیں جنھیں اس بات پر یقین ہو کہ انھیں خدا کی طرف سے دنیا کو تباہ کرنے کا حکم موصول ہوا ہے تاکہ اسے بچایا جا سکے۔ جیسا کہ جاپان میں ہوا تھا۔فل کے مطابق ایسے لوگوں سے بھی خطرہ ہے جو انسانوں کی تباہی کی اپنی ہی توجیح رکھتے ہوئے عوامی مقامات پر اندھا دھند گولی باری کرتے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جو عوامی یا نجی سطح پر سب کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔لیکن ان کی تعداد کیا ہو گی؟ ایک تخمینہ کے مطابق، دنیا میں نفسیاتی امراض کے شکار افراد کی تعداد تین کروڑ ہو سکتی ہے اور ان میں سے کوئی بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ ایٹمی جنگ ہمیں مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتی ہے لیکن اس کے دور رس اثرات سے ہم ختم ہو سکتے ہیں۔

گلوبل کیٹاسٹروفک رسک انسٹی ٹیوٹ کے سیتھ بام کے خیال سے ایٹمی دھماکے کے نتیجے میں غبار فضا میں بہت اونچائی تک جا سکتا ہے۔ یہ غبار کئی دہائیوں تک وہاں رہ سکتا ہیں اور سورج کی روشنی کو روک سکتا ہے۔ایٹمی جنگ کے نتیجے میں بہت بڑے پیمانے پر تباہی کا ہونا، معاشی رکاوٹیں اور آخر میں عالمی ماحولیات پر برے اثرات مرتب ہونا ہیں۔مصنوعی خطرات بہت اقسام کے ہو سکتے ہیں۔ کمپیوٹر کے حساب کتاب میں کسی حادثے کے نتیجے میں گڑبڑ پیدا ہونے سے پوری دنیا کی سٹاک مارکیٹ ختم ہو سکتی ہے اور معیشت تباہ ہو سکتی ہے۔لیکن ماہرین ایک چیز کے متعلق بہت فکر مند ہیں وہ ‘ڈیپ فیک ویڈیو’ ہے جس میں کسی مشہور شخص کی فوٹیج کے ساتھ اس طرح چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے کہ وہ چھیڑ چھاڑ کرنے والے کی خواہش کے مطابق ایسا کچھ کرتا یا کہتا نظر آئے جیسا وہ چاہتا ہے۔مشتبہ ایجنٹ اس کے ذریعے دو ممالک میں جنگ کروا سکتے ہیں جو ایٹمی جنگ کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔یہ تکنیک پہلے سے ہی موجود ہے اوراب اصل اور جعلی کے درمیان کا فرق مٹتا جا رہا ہے۔ایسے میں ہماری تہذیب و تمدن کو کس قدر سنگین صورت حال کا سامنا ہے؟ اس کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ کس خطرے کے بارے میں بات کی جا رہی ہے۔خیال رہے کہ مستقبل پتھر پر لکھی ہوئی کوئي عبارت نہیں ہے۔ بہت سی چیزیں ہیں جو ہم کر سکتے ہیں اور اب وقت عملی اقدام کا ہے۔وہ کہتی ہیں ‘خاندان کے سائز سے منسلک سماجی اطوار کو بدلنے کی ضرورت ہے اور اس رویے کو چھوڑنا ضروری ہے کہ ہم جتنے بچے چاہیں پیدا کریں اور جو چاہیں کھائيں۔ اس طرح ہم عالمی تباہی کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔احتیاطی تدابیر کے اقدامات کے معاملے میں انسانوں کا ریکارڈ بہت خراب رہا ہے اور ہمارے ادارے مستقبل کی نسل کے حق میں بہت زیادہ فکر مند نظر نہیں آتے۔لیکن کیرن کا کہنا ہے کہ 21 ویں صدی بنی نوع انسان کی بقا کے لیے آخری ثابت نہ ہو اس کے لیے ہمیں ان خطرات کو زیادہ سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔