موبائل فون کے بے جا استعمال کی وجہ سے کون سی خطرناک بیماری پھیل رہی ہے؟ ماہرین کے انتہائی تشویشناک انکشافات

پشاور(ویب ڈیسک) جہاں ایک طرف موبائل فون لوگوں کے ذرائع مواصلات ہے وہی ان گنت عارضوں کا بھی باعث ہے وہاں کے بے جا استعمال اور ہینڈ فری کے حد سے زیادہ استعمال کے باعث بہر ہ پن کا مرض پاکستان میں شدت اختیارکر رہا ہے۔جبکہ بچوں کو کا ن پر تھپڑ مارنے سے بھی

بہر ہ پن میں اضافہ ہو رہا ہے۔ والدین ، اساتذہ کی لا علمی کے باعث بچوں کو کانوں پر تھپڑ مارے جا رہے ہیں بہر ہ پن کی بڑی وجہ شوگر بھی ہے۔ سارک ممالک میں بہرہ پن جیسے امراض بہت تیزی سے شدت اختیارکررہے ہیں۔ آگاہی کی کمی کے باعث پاکستان میں مرض شدت اختیار کر رہاہے۔ ماہرین صحت کے مطابق گلہ ،کان ، ناک کے امراض جس تیزی سے شدت اختیارکررہے ہیں اس حوالے سے لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے بچوں کو کان پرتھپڑ مارنے سے گریز کیا جائے۔ بیشتر بچوں کو کان پر تھپڑ لگنے کے باعث پردے میں سوراخ ہو جاتا ہے اور بچوں کے کان سے خون نکلتا ہے۔ پھر آپریشن کے ذریعے نیا پردہ لگانا پڑتا ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں اور پرائیویٹ مقامات ، مستریوں کے پاس کام کرنے والے شاگردوں کو بیشتر اوقات اساتذہ یا سینئر کانوں پر تھپڑ مار رہے ہیں۔ جس کے باعث بیشتر بچوں کے کان کے پردے پھٹ جاتے ہیں۔دوسری جانب خبر کے مطابق کوٹ لکھپت پھاٹک کے قریب رکشہ ڈرائیور ٹرین کی زد میں آکر جاں بحق ہو گیا ، پولیس نے ضروری کارروائی کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی ۔ بتایا گیا ہے کہ تین بچوں کا باپ 28سالہ رکشہ ڈرائیور ریاض ٹائر اٹھا کر ریلو ے ٹریک پر جارہا تھاکہ ٹرین کی زد میں آکر موقع پر ہی ہلاک ہو گیا ۔عینی شاہدین کے مطابق متوفی نے کانوں میں ہینڈ فری لگا رکھی تھی اور اسے ٹرین کے آنے کی خبر ہی نہ ہوئی اور موت کے منہ میں چلا گیا ۔ پولیس نے ضروری کارروائی کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی ۔