پاکستان اور برطانیہ کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ۔۔۔۔۔ وفاقی کابینہ نے بڑی بریکنگ نیوز دے دی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی کابینہ نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی منظوری دی دے۔وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں 21 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا جب کہ اس دوران کابینہ کے گزشتہ اجلاسوں کے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کو دورہ چین کے حوالے سے اعتماد میں لیا اور وزیر خزانہ اسد عمر نے چین کے ساتھ معاہدوں کی تفصیل سے کابینہ کو آگاہ کیا۔وفاقی کابینہ نے ملک میں امن وامان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا اور قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے فیصلوں پر بھی کابینہ کو اعتماد میں لیا گیا۔اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے حال ہی میں مذہبی جماعتوں کے احتجاج میں ہونے والے نقصانات اور معاوضے کی ادائیگی سے متعلق بھی کابینہ کو آگاہ کیا، وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے گزشتہ فیصلوں کی بھی توثیق کی۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے مختلف مقدمات میں ملزمان کو حفاظتی تحویل میں لینے کی منظوری دی جب کہ پاکستان اور نائیجیریا کے درمیان سفارتی تعلقات کے فروغ کی بھی منظوری دے دی گئی۔اجلاس کے دوران پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کوسٹ گارڈ جبکہ پاک-سوڈان سیاحت اور جنگلی حیات کے تحفظ کےمعاہدے کی بھی منظوری دی گئی۔وفاقی کابینہ نے سیلولر کمپنی ہواوے کے ساتھ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی ٹیلنٹ پروگرام معاہدے کی منظوری بھی دی۔ذرائع کے مطابق کابینہ نے رسول خان، وسیم اختر، حفیظ عباس، محمد مشتاق اور سجاد علی موہڑہ کی حفاظتی تحویل کی بھی منظوری دی گئی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک آف پاکستان کے درمیان معاہدے کی منظوری کے ساتھ ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی کے سی ای او اور چئیرمین ٹریڈنگ کارپوریشن کی تعیناتی کی منظوری بھی دی گئی۔اجلاس کے دوران لبرٹی ایئر لمیٹڈ کو اندرون ملک پروازوں کے لیے چارٹرڈ لائسنس کی منظوری بھی دی گئی۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے انجینئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ ختم کرنے کا سابقہ حکومت کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر بورڈ کو برقرار رکھنے اور مزید فعال بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی کابینہ نے 2017ء کی پارلیمنٹیرینز اور ٹیکس دہندگان کی ٹیکس ڈائریکٹری جاری کرنے کی بھی منظوری دی۔وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے فواد چوہدری نےبتایا کہ کابینہ نے 120 فیصلے لیے جن میں سے 72 پر مکمل عملدرآمد ہوا اور صرف 4 فیصلے ایسے ہیں جن پر 72 دن گزرنے کے باوجود فیصلہ نہیں ہوا، کابینہ نے متعلقہ وزارتوں کو ان پر فوری عمل درآمد کی ہدایت کردی ہے۔وزیراطلاعات نے بتایا کہ کابینہ نے ایس ای سی پی کا نیا بورڈ تشکیل دے دیا ہے جب کہ اجلاس میں برطانیہ اور پاکستان میں قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔وزیراعظم کے دورۂ چین پر بات کرتے ہوئے فواد چوہدری

نے کہا کہ وزیراعظم کا دورہ نہایت کامیاب رہا، چین کے اس دورے کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی، اس دورے کی مکمل تفصیلات سامنے رکھیں گے۔آسیہ بی بی کے بیرون ملک روانگی کی خبروں پر ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو لے کر غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی گئی اور خبریں گھڑی گئیں، ہم جائزہ لے رہے ہیں اس کے اوپر کیا کارروائی ہونی چاہیے، اس طرح کی رپورٹنگ کے نتیجے میں جان ومال کا خطرہ ہوسکتا تھا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پچھلے اپوزیشن لیڈر کے لیے وفاقی حکومت کا پیکج دیکھا جائے، سب کو مک مکا کی عادت ہوگئی ہے، وزیراعظم عمران خان مک مکا کرکے نہیں کھیلیں گے، اپوزیشن کو اسی بات کی تکلیف ہے کہ ان کے مقدمات ختم کیے جائیں۔وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی صدارت کے معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے، (ن) لیگ کا شہبازشریف کو پی اے سے کی سربراہی دینے کا مطالبہ اتنا ہی غیر اخلاقی ہے جتنا ان کی پانچ سال کی حرکتیں ہیں، کس اصول پر شہبازشریف اپنے بھائی کے پروجیکٹ کا آڈٹ کریں گے، ہم کہہ رہے ہیں کہ اپنے آڈٹ ہمیں کرلینے دیں اور ہمارے آپ کرلیں۔ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ اعظم سواتی کو عہدے سے نہیں ہٹایا جارہا۔