اسد عمر کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات۔۔ قوم کو بڑی خوشخبری مل گئی

بالی(ویب ڈیسک) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لاگارڈ نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے امداد کے لیے باضابطہ درخواست موصول ہو گئی ہے۔درخواست پاکستان کے وزیر خزانہ اسد عمر کی جانب سے دی گئی ہے۔ جس پر اب عالمی ادارے کی ٹیم غور کرنے کے بعد فیصلہ دے گی۔

تفصیلات کے مطابق انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر طارق باجوہ سے ملاقات کے دوران ایم ڈی کرسٹین لاگارڈ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کا وفد آئندہ ہفتوں کے دوران اسلام آباد جائیگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وفد پاکستان میں آئی ایم ایف کے تعاون سے معاشی پروگرام کے لیے بات کرے گا۔ واضح رہے کہ وزیر خزانہ اسد عمر نے8 اکتوبر کی شب اس بات کی تصدیق کی تھی کہ پاکستان کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے۔ اس اعلان کے بعد اسٹاک مارکیٹ شدید بحران میں آئی تھی اور ایک روز میں 1300 سے زائد پوائنٹس کی کمی سے 270 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔پاکستان کے اعلان کے بعد آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ مالی تعاون کے لیے پاکستان کی درخواست کو ’بہت توجہ‘ سے سنیں گے۔خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان آئی ایم ایف سے درجن سے زائد مالی تعاون کے پیکیجز لے چکا ہے اور اس کا 6 ارب 40 کروڑ روپے کا آخری پیکیج اگست 2016 میں مکمل ہوا تھا، جو آئی ایم ایف پر پاکستان کے کوٹے کا 216 فیصد تھا۔

دوسری جانب آئی ایم ایف سے لیے گئے پچھلے پروگرواموں کا مقصد ’افراط زر کو نیچے لانا اور مالیاتی خسارے کو کم کرکے مستحکم سطح تک لانا تھا، اس کے علاوہ زیادہ اور بہتر ترقی کے حصول میں مدد کے لیے اقدامات کرنا تھا۔ مزید برآں آئی ایم ایف ماہر معاشیات موریس اوبسفیڈ نے پاکستان کو درپیش موجودہ معاشی بحران کا ذکر کیا اور مالی مدد کرنے کی صلاحیت ظاہر کی۔ دوسری جانب گذشتہ روز وزیر اعظم پاکستان نے 50 لاکھ گھروں کے منصوبے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ لانہ 10 ارب ڈالرز کی منی لانڈرنگ ہو رہی ہے، اگر ملک میں منی لانڈرنگ کو روکا جاتا تو قرضوں کے پیچھے نہ جانا پڑتا،ہمیں قرضوں کی قسطیں واپس کرنے کے لیے پیسہ چاہیے، مملکت کا نظام چلانے کیلئے ہمارے پاس دو راستے تھے، ایک راستہ دوست ممالک کی مدد اور دوسرا آئی ایم ایف ہے۔ تاہم لوگ ایسے بتا رہے ہیں جیسے کوئی قیامت آ گئی ہے، اصلاحات کے اثرات چھ ماہ بعد آئیں گے، ہم اپنے اداروں کو ٹھیک کر رہے ہیں،یہ پاکستان کی تاریخ کا بڑا خسارہ ہے، اٹھارہ ارب ڈالر کا خسارہ پچھلی حکومت سے تحفہ ملا۔ جسے دور کرنے کی کوشش کریں گے۔