15 جوالائی 2018 کو انتخابات ہوں گے یا نہیں ؟ شاہد خاقان عباسی اور الیکشن کمیشن آمنے سامنے ، نا قابل یقین خبر آ گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو ذرا سا بھی اندازہ نہیں کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو آئندہ عام انتخابات کے لیے 15 جولائی 2018ء کی تاریخ کس نے بتائی، دوسری جانب الیکشن کمیشن 15 جولائی کو عام انتخابات کرانے کے معاملے میں غیر مطمئن نظر آ رہا ہے۔الیکشن کمیشن کے باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ
ٹاپ سٹوری:اتنا تو پاکستان پر قرضہ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔امریکہ میں خاتون کو گھر کا کتنا بل آ گیا ؟ جان کر آب کے ہوش آڑ جائیں گے
اس معاملے میں کمیشن سے مشورہ کیا گیا اور نہ ہی اسے یہ علم ہے کہ وزیراعظم نے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیسے کر دیا۔ قانون کے تحت، الیکشن کمیشن اس معاملے پر سمری پیش کرے گا، جس کے بعد صدر مملکت الیکشن کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔ ذرائع نے وضاحت دی کہ جب تک اسمبلیاں آئندہ برس مئی کے وسط تک وقت سے پہلے تحلیل نہیں کی جاتیں، اُس وقت تک ای سی پی کے لیے 15 جولائی کو الیکشن کرانا ممکن نہیں۔موجودہ قومی اسمبلی اور حکومت کی مدت یکم جون 2018ء کو ختم ہوگی۔ اگر اسمبلیوں کو وقت سے پہلے تحلیل نہ کیا گیا تو آئندہ انتخابات 60 روز کے اندر کرانا ہوں گے یعنی یکم اگست 2018ء کو مدت کی تکمیل تک۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ حکومت اپنی مدت مکمل کرے گی اور اس طرح حکومت کی مدت یکم جون 2018ء کو ختم ہوگی جبکہ آئندہ انتخابات 15 جولائی کو ہوں گے۔ای سی پی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اسمبلیوں کی مدت کی تکمیل پر کمیشن جولائی 2018ء کی کسی بھی تاریخ پر الیکشن کرانے کی تجویز پیش کر سکتا ہے۔ امیدواروں کی حتمی فہرست مکمل ہونے کے بعد کمیشن کو 21 دن درکار ہوں گے تاکہ پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان سے بیلٹ پیپرز چھپوائے جا سکیں۔
ٹاپ سٹوری:بریکنگ نیوز: کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے بڑے رہنماء کا پر اسرار قتل،پڑھیے اہم خبر
ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ اگر 60 دن کی مدت کو کم کرکے 45 دن کر دیا جائے، جیسا کہ وزیراعظم نے اعلان کیا ہے، تو اس سے کمیشن کے لیے مسائل پیدا ہوجائیں گے۔ ہوں نے مزید کہا کہ اگر گزشتہ عام انتخابات کی بات کریں تو اس وقت الیکشن کمیشن کو پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان سے آگے دیکھنا پڑا تھا، جس پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ایشو پیدا کر دیا تھا۔خیال کیا جاتا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے اعلانیہ تاریخ شاید مسلم لیگ (ن) کا فیصلہ ہوگا۔ لیکن الیکشن کمیشن کو یہ تاریخ موزوں نہیں لگتی اور ادارہ چاہتا ہے کہ ماضی کے برعکس عام انتخابات کسی بھی تنازعات سے پاک ہوں۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ 60 دن کی مدت کم کرکے 45 دن کرنے کا مقصد یہ ہے کہ امیدوار اور سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم پر زیادہ پیسے خرچ نہ کریں۔ نوٹ: اندورن ملک اور بیرون ملک کی تازہ ترین صورتحال اور سنسنی سے پاک خبریں اور ملک کے مایاناز صحافیوں اور لکھاریوں کی شاندار تحریریں پڑھنے اور اپنے آپ کو اپ ڈیٹ رکھنے کے لیے ہمارا پیچ لائیک کریں اور اپنے دوستوں کو بھی بتائیں ۔ شکریہ