ہم جنگ نہیں ہونے دینگے ؟ بھارت کے آنجہانی سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی اور پاکستان کے نااہل مقید وزیراعظم نواز شریف کے حوالے سے بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک )نظم بھارتی وزیراعظم کی تھی لیکن اسے پڑھ پاکستانی وزیراعظم رہے تھے۔ ‘جنگ نہ ہونے دیں گے، ہم جنگ نہ ہونے دیں گے’۔پاکستان کے تین روزہ دورے پر آئے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے اعزاز میں لاہور کے شاہی قلعے میں ایک شاندار دعوت کا اہتمام تھا۔ نواز شریف نے

اپنے استقبالیہ خطاب میں وزیراعظم واجپئی کے شعری مجموعے سے امن کے بارے میں یہ نظم پڑھی تو مہمان نے بھی اسی جذبے میں جواب دیا۔جب انھیں خطاب کی دعوت دی گئی تو انھوں نے اپنی مختصر سی تقریر میں کشمیر کے مسئلے کا ذکر کیا۔ انڈین وزیراعظم کی جانب سے اپنے طور پر کشمیر کا ذکر کرنا اور اس مسئلے کے حل کے عزم کا اظہار کرنا، اس وقت بہت سے لوگوں کے لیے خوشگوار حیرت کا باعث بنا۔ کشمیر میں کشیدگی عروج پر تھی اور سرحدیں بھی اس کشیدگی کی لپیٹ میں تھیں۔اسی کشیدگی کی ایک جھلک لاہور کے شاہی قلعے کے باہر بھی دکھائی دے رہی تھی۔ اٹل بہاری واجپئی نے بس کے ذریعے زمینی رستے سے پاکستان آنے کا اعلان کیا تو پاکستان میں اس فیصلے کو بڑے پیمانے پر پذیرائی ملی۔ تمام سیاسی جماعتوں نے اسے دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات حل کرنے کا نادر موقع قرار دیا۔دائیں بازو کی جماعت اسلامی واحد سیاسی پارٹی تھی جس نے اس دورے کی مخالفت کی اور اس موقع پر لاہور میں احتجاج کی دھمکی دی۔ نواز شریف نے سیاسی رہنماؤں سے مشاورت کی اور اس دھمکی کے باوجود اٹل بہاری واجپئی کا لاہور میں بھرپور استقبال کا فیصلہ کیا۔اسی پس منظر میں جب لاہور کے شاہی قلعے میں جنگ نہ ہونے کی بات ہو رہی تھی

تو باہر جماعت اسلامی کے کارکن لاہور کی سڑکوں پر گاڑیوں پر پتھراؤ کر رہے تھے۔ پولیس کے ساتھ تمام دن جاری رہنے والی ان جھڑپوں کے باوجود انڈین وفد کا دورہ معمول کے مطابق چلتا رہا۔ان استقبالیہ تقریبات سے پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہوں کی کمی کو بھی محسوس کیا گیا۔ افواہیں تھیں کہ بری فوج کے سربراہ جو تینوں مسلح افواج کے سربراہ بھی تھے، جنرل پرویز مشرف انڈین وزیراعظم کو سیلوٹ کرنے کے حق میں نہیں اس لیے کسی ایسی سرکاری تقریب میں موجود نہیں ہوں گے جہاں ان کا سامنا انڈین مہمان سے ہو۔صرف نواز شریف ہی نہیں، اس دورے پر انڈین وزیراعظم کو بھی اپنے ملک میں مخالفت کا سامنا تھا۔ انھوں نے قیام پاکستان کی علامت سمجھے جانے والے مینار پاکستان پر جانا تھا۔ اس دورے سے ذرا پہلے انھوں نے اپنے ایک خطاب میں بتایا کہ جب انھوں نے مینار پاکستان پر حاضری کی ہامی بھری تو انڈیا میں اس کی مخالفت کی گئی۔ ’مجھے کہا گیا کہ اگر میں مینار پاکستان پر جاؤں گا تو پاکستان کے بننے پر مہر لگ جائے گی۔ ارے بھائی، پاکستان بن چکا، یہ حقیقت ہے اور اسے اب کسی مہر کی ضرورت نہیں۔‘اٹل بہاری واجپئی تین دن پاکستان میں رہے۔ اس دوران دونوں ملکوں کے سربراہوں نے اعلان لاہور پر دستخط کیے جس میں ایٹمی ہتھیاروں کے حادثاتی یا غیر ارادی استعمال کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ اس معاہدے کی دونوں ملکوں کی پارلیمنٹ نے توثیق بھی کر دی اور مختلف سطحوں پر مذاکرات کے ذریعے تنازعات حل کرنے کا منصوبہ بھی بنا لیا گیا۔لیکن پھر کارگل کے پہاڑوں پر گولہ باری شروع ہو گئی۔ اور پاکستانی وزیراعظم کی زبانی انڈین وزیراعظم کی اس نظم کی آواز گولیوں کی تڑتڑاہت میں دب سی گئی۔جنگ نہ ہونے دیں گے، ہم جنگ نہ ہونے دیں گے۔(ز،ط)