پی آئی اے کے بُرے دن ۔۔۔۔ ایک اور خوفناک اسکینڈل کی بازگشت پورے ملک میں سنائی دینے لگی

کراچی(ویب ڈیسک)مالی بحران کی شکار قومی ائیرلائن کو ایک اور مشکل کا سامنا، سی ای او مشرف رسول کے خلاف فنانس ڈپارٹمنٹ نے بے ضابطگیوں کے الزام لگا کر محاذ کھول دیا، چیئرمین اور پی آئی اے آڈٹ کمیٹی بورڈ کو خط لکھ کر صورتحال معمول پر لانے کی اپیل کر

دی۔گزشتہ دنوں مشرف رسول نے گھپلوں کے انکشاف پر چیف فنانس افسر نیئر حیات کو شوکاز نوٹس دیا تھا، اب فنانس ڈپارٹمنٹ نے چیئرمین پی آئی اے کو خط لکھ ڈالا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا کہ سی ای او بہت زیادہ دباؤ ڈال رہے ہیں۔ فنانس ڈپارٹمنٹ کے افسران کے مطابق 2018ء کیلئے ایک سو گیارہ بلین روپے کا بجٹ پلان تھا، قومی ائیرلائن کو ماہانہ نو ارب پچیس کروڑ روپے کی ضرورت ہوتی ہے، شارٹ فال کو بڑی مشکل سے پورا کیا جا رہا ہے۔خط کے مطابق جہازوں پر مارخور پینٹ کرنے کیلئے قواعد و ضوابط نظر انداز کئے گئے، فنانس ڈپارٹمنٹ نے اعتراضات اٹھائے لیکن اس کے باجود ادائیگی کیلئے دباؤ ڈالا گیا اور آٹھ تجربہ کار افسران کا دیگر شعبوں میں تبادلہ کر دیا گیا۔خط میں کہا گیا کہ نیب نے بھی سی ای او کی تقرری اور قواعد کی خلاف ورزی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ خط میں آڈٹ بورڈ سے کہا گیا ہے کہ وہ مداخلت کر کے صورتحال معمول پر لائے۔دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی اور داماد کی سزا کے خلاف اپیل پر دوران سماعت نیب نے ایک مرتبہ پھر عدالت سے سماعت دو روز کے لیے ملتوی کرنے

کی درخواست کی ہے۔جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل اسلام آباد ہائیکورٹ کا دو رکنی بینچ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت کر رہا ہے۔اس موقع پر نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے آج ایک مرتبہ پھر دو دن کا التوا مانگا جس پر جسٹس میاں گل حسن نے ریمارکس دیے کہ ‘ کیا یہ اچھی روایت ہے کہ ایک طرف دلائل مکمل ہوجائیں تو دوسری طرف سے وقت مانگا جارہا ہو جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ انہیں یہ ہدایات ملی ہیں۔ جسٹس میاں گل حسن نے ریمارکس دیے کہ یہ چالاکی پر مبنی ہدایات ہیں جب کہ جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ آپ کو کس نے ہدایات دیں، کیا چیئرمین نیب نے یہ ہدایت دی جس پر سردار مظفر عباسی کا کہنا تھا کہ انہیں پراسیکیوٹر جنرل نے ہدایات دی ہیں۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے التوا پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے، ایک ماہ سے درخواست زیر التواء ہے جس پر سردار مظفر عباسی اور خواجہ حارث کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی، ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے خواجہ حارث کو کہا کہ آپ بات نہ کریں جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں، کیوں بات نہ کروں۔ (ذ،ک)