You are here
Home > پا کستا ن > ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تحریک انصاف کی حکومت ۔۔۔۔۔ شریفوں اور زر والوں کی باریوں سے اکتائے عوام کو انوکھی نوید سنا دی گئی

ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تحریک انصاف کی حکومت ۔۔۔۔۔ شریفوں اور زر والوں کی باریوں سے اکتائے عوام کو انوکھی نوید سنا دی گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) خیبر پختوانخوا کے نامزد وزیراعلیٰ محمود خان نے دعویٰ کیا ہے کہ کے پی کے میں ہمیشہ ہماری ہی حکومت رہے گی۔بنی گالہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان کا کہنا تھا کہ کسی کا نہیں عمران خان کا پلانٹڈ بندہ ہوں، پی ٹی آئی کے نظریات اور،

عمران خان کے ساتھ ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی خیبر پختونخوا میں ہماری حکومت رہی ہے، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں پچھلی حکومت کی پالیسیوں کو جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح ہیومن ڈویلپمنٹ ہو گی، جس طرح لوگوں نے دوبارہ منتخب کرایا، حکومت ختم ہونے کے بعد ساری عمر خیبر پختونخوا میں ہماری حکومت ہو گی۔ محمود خان نے کہا کہ اللہ نے مجھے میری حیثیت سے زیادہ دیا ہے، مالاکنڈ ٹیکس فری زون ہے جہاں ہماری 87 کینال کمرشل زمین ہے جو میں نے خریدی نہیں بلکہ خاندانی جائیداد ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک ٹیم ہیں، سب عمران خان کے سپاہی ہیں، پہلے ہی کہا تھا عمران خان نے جس پر ہاتھ رکھا وہ سی ایم ہو گا، آج عاطف خان سے ملاقات کروں گا اور متحد ہوکر کام کریں گے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے آگے چلنے کی اجازت دے دی ہے اور پارٹی چیئرمین سے مشاورت کے ساتھ خیبرپختون خوا کی کابینہ تشکیل دیں گے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز عمران خان نے پی کے سوات 9 سے تحریک انصاف کے منتخب رکن صوبائی اسمبلی محمود خان کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا امیدوار نامزد کیا تھا۔ جبکہ دوسری جانب خیبرپختونخواہ ،

کے نامزد وزیر اعلیٰ محمود خان نے کرپشن سے متعلق وضاحتی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ الزامات بے بنیاد ہیں۔تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخواہ کے نامزد وزیر اعلیٰ پر بدعنوانی کے الزامات لگائے گئے تھے، محمود خان کا کہنا ہے کہ اٹھارہ لاکھ کا چیک غلطی سے میرے نام پر کاٹا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ رقم جن کھلاڑیوں کا حق تھی انہیں مل گئی، مجھ پر کرپشن کے الزامات بے بنیاد ہیں، غلطی سے میرے نام پر چیک کاٹا گیا تھا۔قبل ازیں 2014 میں محمود خان خیبرپختونخواہ کی صوبائی کابینہ میں کھیل، سیاحت، میوزیم اور ثقافت کے وزیر تھے، 2013 میں انہوں نے اپنی وزارت کا حلف اٹھایا اور 2014 میں ان پر کرپشن کے الزامات لگے تھے۔ ان پر 18 لاکھ روپے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا الزام تھا جس کے بعد ان سے وزارت واپس لے لی گئی، تاہم اس کے بعد پھر انکوائری میں وہ کلئیر ہو گئے اور انکی وزارت میں کام کرنے والے کچھ بیوروکریٹ اس میں ملوث تھے۔بعد ازاں انہیں ایک بار پھر وزارت دے دی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان پر الزامات کلئیر ہو گئے تھے، جون 2014 میں ان کو ابلاغیات کا اور بعد میں داخلہ اور قبائلی امور کا وزیر بنادیا گیا تھا۔خیال رہے کہ آج محمود خان نے بنی گالہ آمد پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں اللہ کے بعد عمران خان کا شکر گزار ہوں ، انھوں نے مجھ پر اعتماد کرکے عہدے کے لئے نامزد کیا۔(س)


Top