تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد عمران خان کی کن سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جائے گی؟ معروف تجزیہ کار نے کپتان کو خبر دار کر دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) عمران خان کی آنے والی حکومت کی کچھ بزنسز، جیسا کہ چینی، سگریٹ اور نجی ہائوسنگ ڈویلپمنٹ، کے حوالے سے پالیسیوں پر کچھ لوگ گہری نظر رکھیں گے۔ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ اہم کاروباری مفادات رکھنے والے لوگ اور مختلف کاروبار کی لابنگ کرنے والے لوگ

نعروف تجزیہ کار مظہر عباس لکھتے ہیں۔۔۔۔بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں کہ نئی حکومت کے اہم عہدوں پر ’’درست لوگ‘‘ رکھوائے جا سکیں، عمران خان کو انتہائی حد تک محتاط رہنا ہوگا اور پالیسیاں بناتے وقت ایسے لوگوں کے جھانسے میں آنے سے بچنا ہوگا۔ کہا جاتا ہے کہ خصوصی طور پر شوگر، سگریٹ اور نجی ہائوسنگ ڈویلپمنٹ کی پالیسیوں کے حوالے سے عمران خان توجہ کا مرکز ہوں گے۔ اگرچہ چینی کے متعلق پالیسی عوامی پالیسی کا معاملہ ہے جہاں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی ہمیشہ سے ہی متفق رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود شاہد خاقان عباسی کے تحت مسلم لیگ ن کی گزشتہ حکومت نے اقتصادی رابطہ کونسل میں فیصلہ کیا تھا کہ مستقبل میں چینی کی برآمد پر کوئی سبسڈی نہیں دی جائے گی۔ ایک سرکاری ذریعے کا کہنا تھا کہ چونکہ ان تینوں جماعتوں کی قیادت کے چینی کے کاروبار میں مفادات وابستہ ہیں لہٰذا یہ دیکھنا بہت ہی دلچسپ امر ہوگا کہ شوگر ملوں کو سبسڈی نہ دیے جانے کا فیصلہ برقرار رہتا ہے یا عمران خان کی حکومت اسے ختم کر دیتی ہے۔ اس کے علاوہ، شوگر ملز ہمیشہ سے ہی گنّے کی کم سے کم قیمت خرید کی بھی مخالفت کرتی رہی ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں

نجی ہائوسنگ ڈویلپمنٹ کا معاملہ بھی بہت زیادہ توجہ کا مرکز رہا ہے۔ 2002ء سے 2007ء تک مسلم لیگ ق کے دور میں، جب پی ٹی آئی کے کچھ رہنما حکومت کا حصہ تھے، لینڈ ایکوزیشن ایکٹ (زمین کے حصول کا قانون) 1894ء کو فراخدلانہ انداز سے پنجاب کے ہائوسنگ ڈویلپرز کی ایما پر زمین کے حصول کیلئے استعمال کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ قانون کسان سے عوامی مقاصد کیلئے زمین کے لازمی حصول کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ پنجاب میں شہباز شریف کی گزشتہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے نجی ہائوسنگ ڈویلپمنٹ کیلئے اس قانون کے تحت زمین کے لازماً حصول پر پابندی عائد کر دی تھی کیونکہ کئی اعلیٰ عدالتیں یہ قرار دے چکی ہیں کہ نجی ہائوسنگ ڈویلپمنٹ عوامی مقاصد میں نہیں۔ کئی لوگوں کو ڈر ہے کہ ریئل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کیلئے زمین کے حصول پر بھی نظر رکھی جائے گی کیونکہ پی ٹی آئی کے کچھ اہم لوگ اس پالیسی کو ریئل اسٹیٹ بزنس کیلئے اچھا نہیں سمجھتے۔ تمباکو پر ٹیکسوں کے نفاذ کی بھی اسکروٹنی ہوگی کیونکہ سوابی اور مردان سے کامیاب ہونے والے کچھ ارکان پارلیمنٹ کے تمباکو کی صنعت میں مفادات وابستہ ہیں اور اس طرح وہ سگریٹ پر ٹیکسوں کے نفاذ کے معاملے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

یہ خبر پڑھیں : جو ہم کہتے ہیں وہ کرتے جاؤ تم کو دوبارہ وزیر اعظم بنا دیا جائے گا۔۔ نواز شریف کو یہ آفر کس نے اور کب کروائی۔۔؟ تاریخ کا سب سے بڑا انکشاف کر دیا گیا
یہ خبر پڑھیں : ”شیخ صاحب!!! آپ کی جو شخصیت ہے کم از کم یہ عہدہ ملنا چاہئے“ کامران شاہد نے ایسی تجویز دیدی کہ عمران خان شیخ رشید سے نظریں چرانے لگیں گے
سگریٹ کے کاروبار میں شامل نجی شعبہ بھی ٹیکس سے بچنے کے معاملے میں بدنام ہے۔ ذرائع کے مطابق، تمباکو پر کچھ عرصہ قبل متعارف کرائی گئی پالیسی کی ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور کچھ ملٹی نیشنلز نے بہت زیادہ تعریف کی تھی، اس پالیسی کے نتیجے میں سگریٹ ساز کمپنیاں پریشان ہوگئی تھیں۔ اب بھی بڑی تیز کوششیں کی جا رہی ہیں کہ 2017ء کے بجٹ میں متعارف کرائی گئی ’’سہ شاخہ‘‘ سگریٹ ٹیکس پالیسی کو ختم کروا دیا جائے۔ کہا جاتا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور ساتھ ہی آزاد ٹیکس ماہرین بھرپور انداز سے سگریٹ ٹیکس پالیسی کا دفاع کر رہے ہیں۔ ماہرین اس بات پر گہری نظر رکھیں گے کہ پی ٹی آئی کی حکومت تمباکو پر عائد ٹیکس کے معاملے سے کیسے نمٹی ہے۔(ف،م)