میاں صاحب نے کیا سوچا اور کیا سے کیا ہو گیا۔۔۔۔۔نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد لیگی رہنما اور کارکن کیا کرنے والے ہیں؟ نامور صحافی نے دنگ کر دینے والاانکشاف کر دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی کاشف عباسی نے کہا کہ میاں صاحب جب آئے تو وہ آنے سے پہلے کچھ اور سوچ رہے تھے اور انہوں نے آ کر کچھ اور حالات دیکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب کی واپسی والے دن کے

یہ خبر پڑھیں : اچھا ہے نواز شریف نے بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات خوشگوار رکھے ، اگر ایسا نہ ہوتا تو آج عمران خان ۔۔۔۔۔۔معروف کالم نگار ایاز امرھ نے اییک بات کہہ ڈالی جس کی آپ بھی حمایت کریں گے
حالات کچھ اور تھے اور اس کے بعد کے حالات کچھ اور ہیں۔ انہوں نے سوچا تھا کہ جیسے ہی میں لاہور ائیر پورٹ پر لینڈ کروں گا عوام کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر میرے سامنے ہو گا ۔میرے بھائی کی سربراہی میں عوام کا ایک سمندر ائیر پورٹ پہنچ چکا ہو گا۔ اور وہ میرے پہلے بیانیے کہ لوگ میرے خلاف فیصلے کو مسترد کر رہے ہیں اس کو تقویت دے گا۔ شہروں میں جگہ جگہ احتجاج ہو رہے ہوں اور لوگ کہہ رہے ہون گے کہ نواز شریف کو باہر نکالو، نواز شریف بے قصور ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی یہ لوگ جیل میں ہیں،پہلے آٹھ دس دن پتہ نہیں چلتا ، وطن واپسی پر نواز شریف کو احساس ہوا کہ میرا بھائی تو اچھی خاصی سیاست کر رہا ہے۔جو ریلی میرے لیے نکلی تھی وہ میرے بھائی کی الیکشن مہم کر کے گھروں کو واپس چلی گئی۔ اگلے دن مسلم لیگ ن کا ایک اجلاس ہوا

یہ خبر پڑھیں : (ن) لوتھ ں کے من پسند سروے نتائج حاصل کرنے کے دن گزر گئے : ان دنوں پاکستان کی مقبول ترین ساوسی جماعت کون سی ہے، الکشنا مںن کون آگے ہو گا ؟ برطانوی اخبار دی گارڈین کے سروے نے حققتہ سامنے رکھ دی
اور کہا گیا کہ ہم آپ کواحتجاج کی کال دینے کا سوچیں گے۔ کاشف عباسی نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ میاں صاحب کے جیل جانے کے بعد اب مسلم لیگ ن کے دو کیمپس بن جائیں گے۔ کچھ لوگ شہباز شریف کے ساتھ دو وجہ سے چلنا چاہ رہے ہیں، ایک تو یہ کہ وہ پہلے سے ہی شہباز کیمپ میں تھے نواز کیمپ میں نہیں تھے۔دوسرا وہ کیمپ بنے گا جو الیکشن سے پہلے اپنا الیکشن تو خراب نہیں کرنا چاہتا، وہ کھڑا نواز شریف کے ساتھ لیکن صدر شہباز شریف بن گئے، اسی لیے وہ کھُلم کھُلا ان کی مخالفت بھی نہیں کرنا چاہتے کیونکہ کچھ دنوں کے بعد الیکشن ہیں تو کوئی بھی اپنا الیکشن خراب نہیں کرنا چاہتا۔محمد مالک نے کہا کہ کچھ لوگوں نے تو خود کو گرفتار بھی کروایا جس پر کاشف عباسی نے کہا کہ یہ ن لیگیوں کی پُرانی عادت ہے پولیس کو فون کر کے کیمرے بُلوا کر گرفتار ہو جاتے ہیں، وکٹری کا نشان بناتے ہیں اور اس کے بعد تھانے چلے جاتے ہیں اور پھر تھانے سے شام کو گھر بھی واپس آجاتے ہیں۔(ف،م)