نواز شریف سچ مچ جہاں بھی جاتے ہیں، رنگ جما دیتے ہیں جیل جاتے ہی اڈایالہ روڈ کے اردگرد ایک ایسا کا م ہو گیاکہ چودھری نثار منہ ہی دیکھتے رہ جائیں گے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) نواز شریف اور مریم نواز اڈیالہ جیل جانے کے باعث چودھری نثار علی خان کے الیکشن مہم خطرات سے دوچار ہو گئی ۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے تیسرے نمبر پر آنے والے امیدوار قمر السلام راجہ پہلی پوزیشن حاصل کر لی ۔ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار غلام سرور خان

اور چودھری نثار علی خان پریشان میں مبتلا ہیں۔سابق نااہل وزیر اعظم نواز شریف کی اپنی صاحبزادی کے ہمراہ اڈیالہ جیل میں پابند سلاسل ہونے سے ملکی سطح پر عام انتخابات میں گہرے نقوش چھوڑنے کے ساتھ نواز شریف اور مریم نواز کے ناپسندیدہ شخصیت چودھری نثار علی خان پہلی زد میں آ گئے ۔ میاں محمد نواز شریف نے اپنے ملاقاتیوں اور ہمدردوں کو اشارہ دیا ہے کہ وہ ان کی ملاقات کے لئے لیگی پرچم کے ساتھ اڈیالہ جیل میں آئیں اور راجہ قمر السلام کے بینرز اور الیکشن مہم کے سلسلے میں دیگر تدابیر کو سامنے رکھیں۔ روز مرہ کی لیگی رہنمائوں نواز شریف کے ساتھ ملاقات اور اڈیالہ جیل کے راستوں پر قمر السلام راجہ کی مفت کی تشہیر چودھری نثار علی خان کے لئے خطرے کی گھنٹی بن گئے ۔ اس سلسلہ میں اہم ذرائع کا کہنا ہے کہ چودھری نثار علی خان نے اپنے بااعتماد رفقاء سے بات چیت کرتے ہوئے برملا اظہار کیا کہ نواز شریف اور ان کی بیٹی کی اڈیالہ جیل میں آمد ان کے الیکشن میں گہرے اثرات مرتب کریں گے، دوسری جانب ایک خبر مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کا جیل میں ٹرائل انصاف کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جیل میں ٹرائل تو دہشت گردوں کا ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 1999 میں پرویز مشرف کی جانب سے جب نواز شریف کے خلاف نام نہاد طیارہ ہائی جیکنگ کا مقدمہ بنایا گیا تو اس وقت بھی ان کا ٹرائل جیل سے باہر کیا گیا تھا۔پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ اگر الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو اس کے نتائج نہیں مانیں گے اور سیاسی قوتوں کو اکٹھا کریں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ ’نواز شریف کا اڈیالہ جیل میں ٹرائل کرنا ایک غلط فیصلہ ہے، حکومت اور انتظامیہ ہوش کے ناخن لے‘۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بھارت کی تاریخ رہی ہے کہ پاکستان میں امن و امان خراب کرنے میں ملوث رہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان کا کہنا ہے کہ جب بھی نواز شریف پر برا وقت آتا ہے تو ملک میں دہشت گردی شروع ہو جاتی ہے، خان صاحب سے کہتا ہوں کہ کچھ ہوش کے ناخن لیں، آپ وہی ہیں جو لندن میں بیٹھ کر افواج پاکستان کے خلاف الزام تراشیاں کرتے تھے، پوری قوم آپ کا چہرہ پہچان چکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ الزام خان نے ایک بار پھر بہتان تراشی شروع کر دی ہے، عمران خان کی پارٹی میں بد ترین خائن بیٹھے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف کے استقبال کے لیے لوگ لائے نہیں گئے بلکہ خود آئے تھے، کارکنوں پر تشدد کرنے والے ایک دن انصاف کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔(ف،م)