لاہور : ہسپتال کے سیکورٹی گارڈ کا اے ایس پی پولیس پر تشدد ، کل ایسا کیا واقعہ پیش آیا کہ درجنوں سیکورٹی گارڈ چند منٹوں میں اکٹھے ہو گئے اورچار تھانوں کی پولیس بھی ایک شخص کو گرفتار نہ کر سکی

لاہور (ویب ڈیسک) بچہ وارڈ سے باہر کیوں لے کر گئے، چلڈرن ہسپتال میں پولیس آفیسر اور سکیورٹی گارڈ میں جھگڑا۔ پیرا میڈیکل سٹاف کا گلگت بلتستان سے آئے عامر نامی پولیس آفیسر پر مبینہ تشدد۔ چار تھانوں کی پولیس ہسپتال میں پہنچ گئی۔ لیکن تاحال افضال سکیورٹی گارڈ کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

پولیس کی بھاری نفری ہونے کی وجہ سے مریضوں میں بھی خوف و حراس ہے۔ذرائع کے مطابق اے ایس پی محمد عامر نے واقعہ کی اطلاع اعلیٰ حکام کو دی جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، سکیورٹی گارڈز نے دیگر ہسپتالوں سے بھی اپنے ساتھیوں کو بلا لیا جنہوں نے پولیس کو کسی گارڈز کو انکے حوالے کرنے سے انکار کر دیا جبکہ واقعہ کی اطلاع ملنے پر چلڈرن ہستپال کے اے ایم ایس حسن رضا بھی موقع پر پہنچ گئے، انہوں نے سکیورٹی گارڈ کو مکمل یقین دہانی کروائی کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیں گے، جس پر دونوں فریقین ہسپتال سے باہر چلے گئے، لیکن اطلاعات پر ایس پی ماڈل ٹاؤن ڈویژن ، اے ایس پی ماڈل ٹاؤن ، ڈی ایس پی ماڈل ٹاؤن ایس ایچ او نصیر آباد ، ایس ایس او گلبرگ، ایس ایچ او ماڈل ٹاؤن سمیت دیگر پالیس اسٹیشنز کے اہلکار بھی موقع پر پہنچ گئے، جنہوں نے تحقیقات مکمل کرنے کے بعد مقدمہ ہسپتال کے 5 سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف درج کر لیا، اور انہیں گرفتار کرنے کے لیے ان کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، لیکن سکیورٹی گارڈز تاحال فرار ہیں، دوسری جانب پولیس حکام کو کہنا ہے کہ گارڈز کی جانب سے اے ایس پی گلگت بلتستان محمد عامر ، انکی اہلیہ اور بچے کو بلا وجہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہےاس کو گرفتار کیا جائے گا۔(ف،م)