You are here
Home > پا کستا ن > شیم شیم شیم : ابو ظہبی سے لاہور آنے والی پرواز کے مسافر انتظامیہ سے کس چیز کی ضد کرتے رہے ؟ بڑے کام کا انکشاف

شیم شیم شیم : ابو ظہبی سے لاہور آنے والی پرواز کے مسافر انتظامیہ سے کس چیز کی ضد کرتے رہے ؟ بڑے کام کا انکشاف

ابوظہبی(ویب ڈیسک) سابق وزیر اعظم نواز اور انکی بیٹی مریم نواز کس غیر ملکی پرواز کے زریعے ابوظہبی سے لاہور آئے اس پرواز پر متعدد مسافروں نے پاکستان آنے سے انکار کردیا اور ائیر لائن انتظامیہ سے دوسرے فلائٹ کا مطالبہ کرتے رہے، غیر ملکی میڈیا کے مطابق اتحاد ائیر لائن پر

آنے والے دیگر مسافروں کو جب معلوم ہوا کہ اس پرواز میں نواز شریف اور مریم نواز پاکستان واپس جار ہے ہیں رو مسافروں نے اس پرواز کے زریعے پاکستان آنے سے انکار کر دیا، مسافروں نے کہا کہ اس فلائٹ کو لاہور کے بجائے کسی دوسرے شہر میں لینڈ کاامکان ہے جبکہ لاہور ائیر پورٹ پر ہنگامہ آرائی کا بھی خدشہ ہے، اس لیے ہم اس ائیر لائن کے زریعے پاکستان نہیں جائیں گے، مسافروں نے مزکورہ ائیر لائن کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ انہیں دوسری فلائٹ کا انتظام کر کے دیا جائے۔ جبکہ لاہور ائیر پورٹ پر طیارے سے حج لاؤنج تک جانے کیلئے گاڑی میں بیٹھے سے انکار کر دیا، دونوں شخصیات پریشان ہونے کی بجائے مسکراتے اور پر اعتماد نظر آئیں، مریم نواز سے کئی بار وکٹری بھی بنائی۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف جاری دیگر 2 نیب ریفرنسز کا ٹرائل اب جیل میں ہی ہوگا جب کہ سزا کے خلاف نوازشریف، مریم اور محمد صفدر کی اپیلیں آج دائر نہ کی جاسکیں۔وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر 1، نواز شریف اور دیگر کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس

کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں کرے گی۔اڈیالہ جیل میں ٹرائل کا حکم قومی احتساب آرڈیننس کی شق 16 کے تحت دیا گیا ہے۔دوسری جانب نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کی سزا کے خلاف اپیلیں اسلام آباد ہائیکورٹ کا عدالتی وقت ختم ہونے کے باعث آج دائر نہ کی جاسکیں۔موسم گرما کی تعطیلات میں عدالتی وقت دن ایک بجے تک ہے جس کے باعث اب پیر کے روز اپیلیں دائر کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔واضح رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز گزشتہ روز لندن سے براستہ ابوظہبی لاہور پہنچے تھے، جہاں قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے انہیں ایئرپورٹ سے ہی گرفتار کرکے خصوصی طیارے میں اسلام آباد منتقل کیا اور بعدازاں انہیں اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے تھے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔نیب کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔6جولائی کو عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو مجموعی طور پر 11 سال اور جرمانہ، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 8 سال قید اور جرمانہ جبکہ داماد کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر کو ایک برس قید کی سزائیں سنائی تھیں۔ کیپٹن (ر) صفدر کو پہلے ہی گرفتار کرکے اڈیالہ جیل منتقل کیا جاچکا ہے۔(ف،م)


Top