باپ بیٹا خود ٹھنڈی گاڑی میں بیٹھے ہیں ، شیشہ بھی نیچے نہیں کیا اور ہمیں گرمی میں ذلیل کر رہے ہیں ۔۔۔۔(ن) لیگ کی ریلی کیوں ناکام ہوئی ؟ کارکنوں نے خود ہی وجہ کا انکشاف کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک) میاں نواز شریف نے سزا سنائے جانے کے بعد وطن پہنچ کر صاحبزادی کے ہمراہ گرفتاری دے کر نئی تاریخ رقم کری، مشکل ترین حالات کے باوجود اپنے نیانیے “ووٹ کو عزت دو” اور پارٹی کی کامیابی کیلیے جیل کا انتخاب کر کے بڑے لیڈر بن گئے، انہوں نے آمر پرویز مشرف سے

معاہدہ کر کے سعودی عرب جانے کا داح بھی دھو ڈالا، الیکشن سے 10 روز قبل میاں نواز شریف ، مریم نواز کی واپسی اور مسلم لیگ (ن) کے کامیاب پاورشو سے دلبدارشتہ ہو کر گوشہ نشیں ہو گیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ (ن) لیگ کی اصل انتخابی مہم اب شروع ہوئی ہے تو غلط نہ ہو گا، لیگی قیادت اپنے کارکن کا یہ ولولہ 25 جولائی تک برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گئی تو پارٹی کو انتخابات میں بڑی کامیابی سے روکنا بہت مشکل ہو جائے گا، لیگی کارکنوں کو چگانے کیلئے نگرانوں کی بوکھلاہٹ نے نمایاں کردار ادا کیا، پکڑ دھکڑ ، رکاوٹو، موبائل فون سروس کی بندش سمیت نگران حکومت کے غیر ضروری اقدامات نے (ن) لیگ کی عام استقبالیہ ریلی کا بڑے پاور شو میں بدل دیا، (ن) لیگ ریلی کے زریعے کو پیغام جہاں دینا چاہتی تھی، پہنچانے میں کامیاب رہی، آیندہ دنوں میں اس کے اثرات سامنے آئیں گے، آج کے مقابلے میں قید کاٹ کر جیل سے باہر آنے والا نوا ز شریف مخالف قوتوں کیلئے بہت بھاری بڑے گا، اس وقت اسے روکنا شدید ممکن نہ رہے، جیل سے واپسی پر مریم نواز کا سیاسی قد بھی اتنا اونچا ہو جائے گا کہ پارٹی کے اندر

اور باہر بیٹھے رہنماؤں کیلیے انہیں الیڈر تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں ہو گا۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق گذشتہ رات مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز لاہور ائیر پورٹ پہنچے جہاں انہیں لینڈ کرتے ہی گرفتار کر لیا گیا ۔ قائد نواز شریف کا استقبال کرنے کے لیے لیگی کارکنان کی ایک بڑی تعداد نے لاہور ائیر پورٹ کا رُخ تو کر رکھا تھا لیکن کوئی بھی لاہور ائیر پورٹ اپنے قائد کے استقبال کے لیے نہ پہنچ سکا۔مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف بھی اپنے بھائی کے استقبال کے لیے لاہور ائیر پورٹ پہنچنے سے قاصر رہے اور نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری اور ان کی اسلام آباد روانگی کےبعد شہباز شریف نے ریلی ختم کرنے کا اعلان کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف ریلی کی قیادت گاڑی میں بیٹھ کر ہی کرتے رہے۔شہباز شریف اور حمزہ شہباز گاڑی سے باہر ہی نہیں نکلے اور باہر ریلی میں موجود کارکنان انہیں خوب کوستے رہے۔کارکنان کا کہنا تھا کہ خود شہباز شریف اور حمزہ شہباز ٹھنڈی گاڑیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں اور کارکنان باہر شدید گرمی میں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں

بتایا گیا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف ایک ہی گاڑی میں سوار تھے اور دونوں رہنماؤں نے ایک مرتبہ گاڑی سے نکلنا تو دور کی بات گاڑی کا شیشہ تک نیچے نہیں کیاجس پر کارکن مایوسی کا شکار ہو گئے۔خواجہ سعد رفیق کے علاوہ پارٹی کے دیگر رہنما بھی اپنی اپنی ٹھنڈی گاڑیوں میں موجود رہے جس کے قائد کے لیے نکلنے والے کاررکنان کے حوصلے پست ہو گئے ۔دوسری جانب استقبالی ریلی میں مسلم لیگ ن اپنی خواتین کارکنان کو ان کے گھروں سے نکالنے میں ناکام رہی۔ریلی میں جہاں مردوں کی تعداد 5 سے ساڑھے 5ہزار تھی وہاں عورتوں کی تعدا د 150سے 200سے زیادہ نہیں تھی۔ریلی میں محض مسلم لیگ ن کی سابق کابینہ کے رہنما اپنے درجنوں کارکنوں کے ہمراہ شریک ہوئے جبکہ زیادہ تعدا د حمزہ شہباز کے حلقہ این اے 124سے شریک ہوئی کیونکہ جس مقام سے ریلی نکالی گئی وہ بھی اسی حلقے میں آتا ہے ۔ ریلی میں خواجہ سعد رفیق وقتاً فوقتاً اپنی گاڑی میں کھڑے ہو کر کارکنوں کا حوصلہ بڑھاتے رہے لیکن پارٹی کے دیگر رہنمائوں نہ تو تقریر کی نہ ہی کارکنوں کا حوصلہ بڑھایا بلکہ اپنی گاڑیوں میں ٹھنڈی ہوا کے مزے لُوٹتے رہے۔قافلہ ابھی مال روڈ پر ہی تھا کہ نواز شریف اور مریم کا طیارہ لاہور ائیر پورٹ پر لینڈ کر گیا اور ان کی گرفتاری کی خبر سنتے ہیں کارکن واپس اپنے گھروں کو چل دئے ۔(ف،م)